Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جلدیں)  (  2) نورُ الْعِرفان فی حاشیۃ القرآن  (  3) مِرآۃُ المناجیح  (  مشکوٰۃ المصابیح کی اردو شرح)  (  4) شانِ حبيبُ الرَّحْمٰن مِنْ آياتِ القرآن  (  5) اسلامی زندگی  (  6) علم القرآن (  قرآنی اصطلاحات کا مُحقّقانہ بیان) ،  (  7) فتاویٰ نعیمیہ ۔  (  [1])

سوال      مفتی احمد یار خان نعیمی کو ”حکیم الاُمَّت “ کا لقب کیسے ملا؟

جواب     1957ء میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے شہرہ آفاق ترجمۂ قرآن بنام کَنز ُالایمان پر حاشِیَہ یعنی مختصر تفسیری نِکات تحریر فرمائے توحضرت  پىر سىد معصوم شاہ نوشاہى قادرى  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی کى تحرىک پر پاکستان کے جىّد علمائے کرام نے متفقہ طور پر حکیمُ الاُمَّت‘‘  کا لقب تجویز فرمایا اور ہندوستان کے علمائے اہلسنّت نے اسے تسلىم کىا ۔  (  [2])

سوال      مُحَدّثِ اعظم پاکستانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے شوقِ مطالعہ کے بارے میں بتائیے ؟

جواب     ”مُحَدّثِ اعظم پاکستان“حضرت مولانا ابو الفضل سردار احمد قادری چشتی صابری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو مُطالعے کا اتنا شوق تھا کہ مسجد میں نمازِ باجماعت  میں کچھ تاخیر ہوتی تو کسی کتاب کا مطالعہ کرنا شروع کردیتے تھے ۔  (  [3])

سوال      مولانا سردار احمد قادری  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عاجزی کی کوئی مثال بتائیے ؟

جواب     ایک مرتبہ  دو دیہاتی آپ کے پاس مسئلہ پوچھنے کیلئے حاضر ہوئے ، آپ اس وقت چارپائی پر جلوہ گر تھے ، انہوں نے آپ کے علمی مقام کا لحاظ کرتے ہوئے نیچے زمین پر بیٹھنا چاہا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے  (  عاجزی کرتے ہوئے ) اُن دیہاتیوں کو اِصرار کرکے نہ صرف چارپائی پر بٹھایا بلکہ اپنی چارپائی کے سرہانے کی طرف بٹھایا ۔ حکم کی تعمیل کیلئے انہیں بھی آپ کے برابر بیٹھنا پڑااور آپ نے ان کے مسئلہ کا جواب مَرْحَمَت فرمایا ۔  (  [4])

 سوال     پاکستان کے ان مشہور عالمِ دین کا نام بتائیے جنہوں نے بہت ساری تصانیف یادگار چھوڑی ہیں ؟

جواب     بہاولپور (  پنجاب ، پاکستان) کے مایہ ناز عالمِ دین حضرت مولانا فیض احمد اویسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کَثیر التصانیف بزرگ تھے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے وصال تک چھوٹی بڑی ساڑھے تین ہزار  (  3500) سے زائد کتابیں لکھیں ۔  آپ کا وصال ۱۵ رمضان المبارک ۱۴۳۱ھ / 25 اگست 2010ء  میں ہوا  ۔

امیرِ اَہْلِسُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   

سوال      امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دادا جان کے بارے میں کچھ بتایئے ؟

جواب     آپ کے دادا جان  حضرت عبدالرّحیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم کی نیک نامی اور پارسائی پورے ’’کُتْیانَہ‘‘ (  جوناگڑھ ہند کا ایک گاؤں ) میں مشہور تھی ۔  (  [5])

سوال      امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے والد صاحب حاجی عبد الرّحمٰن قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی جب قصیدۂ غوثیہ پڑھتے تھے تو اس کی کیا برکت ظاہر ہوتی تھی؟

جواب     امیرِ اہلسنّت مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی کے خالوجان  بتاتے ہیں : ’’میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب کبھی چارپائی پر بیٹھ کر آپ کے والد صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ’’قصیدۂ غوثیہ‘‘پڑھتے تو ان کی چارپائی زمین سے بلند ہوجاتی تھی ۔ “[6])

سوال      امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے والدِ محترم کا وصال کیسے ہوا؟

جواب     1370؁ھ کے حج کے ایام میں منیٰ میں سخت لُو چلی جس کی وجہ سے کئی حُجاج فوت ہوگئے ، ان میں حاجی عبد الرحمٰن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان بھی شامل تھے جو مختصر علالت کے بعد اس دنیا سے رُخصت ہوگئے ۔  (  [7])

سوال      بڑے بھائی’’عبد الغنی صاحب‘‘کی وفات کے کتنے عرصے کے بعد امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی والدہ ماجدہ بھی انتقال فرماگئیں؟

جواب     بھائی کی وفات کے تھوڑے عرصے بعد۱۷صفرالمظفر۱۳۹۸؁ھ میں ’’مادَرِ مُشْفقَہ‘‘  (  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا) بھی انتقال فرماگئیں ۔  (  [8])

سوال      جس مقام پر امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی والدہ کی روح قبض ہوئی اُس جگہ کیا خاص بات رونما ہوئی؟

جواب     جس حصۂ زمین پر روح قبض ہوئی اس میں کئی روز تک خوشبو آتی رہی اور خصوصاً رات کے اس حصہ میں جس میں انتقال ہوا تھا ، طرح طرح کی خوشبوؤں کی لَپٹیں آتی رہیں ۔  (  [9])

سوال      امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے پہلا رسالہ کون سالکھا؟

جواب     آپ نے اپنا پہلا رسالہ اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے متعلق لکھا جس کا نام’’تذکرۂ امام احمد رضا‘‘ہے ۔  (  [10])

 



[1]     فیضانِ مفتی احمد یار خان نعیمی ، ص ۵۰ ، ملتقطاً ۔

[2]     فیضانِ مفتی احمد یار خان نعیمی ، ص ۵۷ ۔

[3]     حیات محدث اعظم ، ص۳۴ ۔

[4]     حیات محدّث اعظم ، ص۱۹۳ ۔

[5]     تعارف امیر اہلسنت ، ص۱۰ ۔

[6]     تعارف امیر اہلسنت ، ص۱۱ ۔

[7]     تعارف امیر اہلسنت ، ص۱۲ ۔

[8]     تعارف امیر اہلسنت ، ص۱۵ ۔

[9]     تعارف امیر اہلسنت ، ص۱۶ ۔

[10]     تذکرۂ امام احمد رضا ۔



Total Pages: 122

Go To