Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

میں درخواست کرتے اور اپنی ضرورت ظاہر کرتے جب وہ اجازت دیتیں اور درخواست منظور کرتیں تو کتابیں منگواتے تھے  ۔  (  [1])

عُلَمَاءِ اَہْلِسُنَّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ

سوال      اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے قصیدہ ”چراغِ انس“کن کی مدح میں لکھا؟

جواب     تَاجُ الفُحُول ، مُحِبُّ الرَّسُول حضرت مولانا شاہ عبد القادر بدایونی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی مَدح وصِفت میں جس کا تاریخی نام ”چراغِ اِنس “ (  ۱۳۱۵ھ) رکھا اس کا مَطْلَع یہ ہے : ”اے امامُ الہُدیٰ محبِّ رسول :  دین کے مقتدیٰ محبِّ رسول ۔ ‘‘[2])

سوال      حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکس حالت میں موت آنے کی تمناکیا کرتے تھے ؟

جواب     حضرت محدث سورتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو فنِّ حدیث سے خصوصی لگاؤ تھا حتی کہ آپ کی خواہش تھی کہ مجھے موت  بھی حدیثِ پاک میں مَشْغُوْلِیَّت کی حالت میں آئے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خواہش پوری ہوئی اور موت کے وقت حدیث شریف کی مشہور کتاب ”مِشکوٰۃُ الْمصابیح “آپ کے سینے پر تھی ۔  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خطۂ بَرِّصغیر کے اکابر علما کے استاذ اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ہَمْ عَصْر تھے ۔  (  [3])

سوال      مفتیٔ اعظم ہند رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا پریشان حالوں کی دَسْت گیری اور خوفِ خدا کا کوئی واقعہ بتائیے ؟

جواب     مفتی اعظم ہند مولانا مصطفے ٰ رضا خان نوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہایک مرتبہ ریلوے اسٹیشن جانے کے لیے رِکشا میں تشریف فرما ہوئے ، اتنے میں ایک شخص نے حاضر ہوکرعرض کی : حضور !  فلاں پریشانی سے دوچار ہوں ، تعویذ مَرْحَمَت فرما دیجئے ، کسی نے اس شخص سے کہا  :  ”گاڑی کا ٹائم ہو چکا ہے اور تم ابھی تعویذ کے لیے بول رہے ہو !  گاڑی چھوٹ جائیگی ! “اس پر حضور مفتی اعظم ہند قُدِّسَ سِرُّہ نے بے قرار ہوکر فرمایا :  ”چھوٹ جانے دو ، دوسری ٹرین سے چلا جاؤں گا ۔  کل قیامت کے دن اگر خداوند کریم جَلَّ جَلَالُہنے پوچھ لیا کہ تونے میرے فلاں بندے کی پریشانی میں کیوں مدد نہیں کی؟ تو میں کیا جواب دوں گا ! “یہ فرما کر رِکشا سے سارا سامان اُتروا لیا ۔  (  [4])

سوال      صَدْرُ الشَّرِیْعَہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دو عظیم فقہی ذخیروں کے نام بتائیے ۔

جواب      (  1) بہارِ شریعت ۔  اردو زبان میں3 جلدوں پر مُشْتَمِل یہ کتاب فقہی مسائل کے اِنسائیکلوپیڈیاکی حیثیت رکھتی ہے جس میں پیدائش سے موت تک پیش آنے والے شرعی مسائل بیان کئے گئے ہیں ۔  بہارِ شریعت کو عوام وخواص میں بے حد مَقْبولِیَّت حاصل ہے ۔   (  2) فتاویٰ امجدیہ ۔  4جلدوں پرمشتمل یہ کتاب صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے فتاویٰ جات کا مَجْمُوْعَہ ہے  ۔  (  [5])

سوال      مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے كچھ اساتذہ کے نام بتائیے ؟

جواب      (  1) اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (  2) حضرت مولانا  شاہ وصی احمد محدث سورتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (  3) حضرت علامہ ہِدایتُ اللہ خان رامپوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ۔  (  [6])

سوال      ”صَدْرُ الْافاضِل “کن کا لقب ہے نیز ان کی مشہورِ زمانہ تفسیر کا نام بتائیے ؟

جواب     یہ لَقَب مشہور مفسِّر حضرت مولانا سید محمد نَعیْمُ الدِّین مراد آبادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو مجدِّدِ وقت ، امام ِ اہلسنّت ، حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے عطافرمایا تھا ۔  (  [7]) صدر الافاضل کی مشہورِ زمانہ تفسیر کا نام ”خزائِنُ الْعِرْفان “ہے  ۔

سوال      خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، سید نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے قیامِ پاکستان میں کیا کردار ادا کیا؟

جواب      (  1) آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے 1924ء میں مراد آباد (  ہند) سے  ماہنامہ ”السواد الاعظم“ جاری کیاجس میں دو قومی نظریہ کی حِمایَت اور قیامِ پاکستان کیلئے بھرپور مہم چلائی ۔  (  2) 1946ء میں بنارس  (  ہند) میں”آل انڈیا سنی کانفرنس“ منعقد ہوئی تو آپ اس کے ناظمِ اعلیٰ تھے ، کانفرس میں تقریباً سات ہزار علماء ومشائخ اور دو لاکھ سے زائد حاضرین جمع ہوئے اور مُتَّفقَہ طور پر مطالبۂ پاکستان کی قراردار منظورکی  گئی ۔   (  3) مختلف صوبوں کے دورے کئے اور وہاں تقریر کے ذریعے نظریہ پاکستان کی اہمیّت کو واضح کیا ۔   (  4) قیامِ پاکستان کے بعد شدید علالت کے باوجود آپ نے اسلامی دستور تیار کرنا شروع کیا ابھی چند دفعات ہی تیار کی تھیں کہ آپ خالقِ حَقیقی سے جا ملے ۔  (  [8])

سوال      صَدْرُ الْافاضِل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے کَثِیرُ التَّصَانِیْف شاگِرد اور ان کی چند کتابوں  کے نام بتائیے ۔

جواب   صدر الافاضلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے کثیر التصانیف شاگرد کا نام حکیم الاُمّت ، مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہے ۔ آپ کی چند کتابوں کے نام یہ ہیں :   (  1) تفسیر نعیمی   (   گیارہ



[1]     حیات اعلیٰ حضرت ، ۱ / ۱۰۷ ۔

[2]     حیاتِ اعلیٰ حضرت ، ۳ / ۵۶ ۔

[3]     التعلیق المجلی لما فی منیۃ المصلی ، تعریف بالمحشی العلام ، ص ۸ ماخوذا ۔

[4]     فیضانِ سنّت ، ص۱۱۱-۱۱۲ ،  ملخصاً ۔

[5]     سیرتِ صدر الشریعہ ، ص ۱۰۹ ، ۱۲۱ ، ملخصاً ۔

[6]     سیرتِ صدر الشریعہ ، ص ۱۶۵ ۔

[7]     تذکرہ علمائے اہل سنت ، ص ۲۵۳ ۔

[8]     تحریک پاکستان اور علماء کرام ، ص ۱۴۳- ۱۴۷ ، ملخصاً ۔



Total Pages: 122

Go To