Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

ضروریات زندگی کی دیگر اشیا خرید کر اَئِمَّۂ محدثین  کوپیش کرتے اور فرماتے  :  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد و ثناء کرو کہ اُسی نے تمہیں یہ عطا فرمایا ۔  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم !  میں نے اپنے مال میں سے کچھ بھی نہیں دیا ۔  (  [1])

سوال      کروڑوں حنفیوں کے پیشوا امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے تَقویٰ کی کوئی مثال بیان کیجئے ؟

جواب     آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے زمانے میں ایک غَصْب شدہ بکری کوفہ کی دیگر بکریوں میں مل گئی تو آپ نے دریافت فرمایا کہ عموماً بکری کتنا عرصہ زندہ رہتی ہے ؟ تو لوگوں نے سات سال کی مدت بیان کی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سات سال تک بکری کا گوشت ہی تَناوُل نہ فرمایا ۔  (  [2])

سوال      حضرت سیدنا امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی گریہ وزاری کا کیا عالَم تھا؟

جواب     رات کے وقت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی  (  خوفِ خدا کے سبب) آہ وبُکا  اتنی شدید ہوتی تھی کہ پڑوسیوں کو بھی آپ پر تَرْس آتا ۔  (  [3])

سوال      حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عبادت وریاضت سے متعلق کچھ بیان کیجئے ؟

جواب     حضرت سیِّدُناحَفْص بن عبدالرحمٰن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تیس سال تک ساری رات ایک رکعت میں قرآنِ کریم کی تلاوت فرماتے رہے ۔  حضرت سیِّدُنا اسد بن عمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے چالیس سال تک عشاء کے وضو سے نمازِفجرپڑھی ۔  (  [4])

سوال      اماموں کے امام سیدنا امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی ذہانت کے بارے میں کچھ بتائیے ؟

جواب     حضرت سیِّدُناعلی بن عاصِم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا : اگر نصف (  یعنی آدھے ) اہلِ زمین کی عقلوں سے امام ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عقل کا مُوازَنہ کیا جائے تو بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عقل زیادہ ہو گی ۔  (  [5])

سوال      حضرت سیدنا امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی  تجارتی معاملات میں اِحتیاط کا کیا عالَم تھا؟

جواب     آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شریک ِ تجارت حضرت سیِّدُناحفص بن عبدالرحمن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناامام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرے ساتھ تجارت کرتے تھے اور مجھے مالِ تجارت بھیجتے ہوئے فرمایا کرتے :  اے حفص !  فلاں کپڑے میں کچھ عیب ہے ۔  جب تم اسے فروخت کروتو عیب بتادینا ۔  حضرت سیِّدُناحفص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک مرتبہ مالِ تجارت فروخت کیااور بیچتے ہوئے عیب بتانابھول گئے ۔  جب امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو علم ہوا تو آپ نے تمام کپڑوں کی قیمت صدقہ کر دی  ۔  (  [6])

سوال      جب امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے گوشہ نشینی کا ارادہ کیا تو آپ کو بارگاہِ رسالت سے کیا پیغام ملا؟

جواب     امام الائمہ حضرت سیدنا امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو خواب میں حضورنبی رحمت ، شفیع اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت ہوئی تو ارشاد فرمایا : اے ابو حنیفہ !  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے تمہیں میری سنت زندہ کرنے کے لیے پیدا فرمایا ہے ، تم گوشہ نشینی کا ہر گز قصد نہ کرو ۔  (  [7])

سوال      امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے روضۂ اَنور پرکن الفاظ میں سلام کیا اوراندر سے کیا جواب آیا؟

جواب     حضرت سیدنا امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے روضۂ رسول پر حاضر ہوکریوں سلام کیا : اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ الْمُرْسَلِیْن (  اے رسولوں کے سردار ! آپ  پر سلام ہو) تواندر سے جواب آیا : وَعَلَیْکَ السَّلَامُ یَا اِمَامَ الْمُسْلِمِیْن (  اے مسلمانوں کے امام !  تم پر بھی سلامتی ہو) ۔   (  [8])

سوال      جس جگہ امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا وصال ہوا اس جگہ کی خاص بات بتائیے ؟

جواب     کہا جاتا ہے کہ جس جگہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی وفات ہوئی اس مقام پر آپ نے سات ہزار مرتبہ قرآنِ کریم  ختم فرماياتھا ۔  (  [9])

سوال      امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْاَکْرَم نے امام ابویوسف عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ کو جو نصیحتیں فرمائیں ان میں سے کچھ بیان کیجئے ؟

جواب   (  1) زیادہ ہنسنے سے بچنا کہ اس سے دل مردہ ہو جاتا ہے ۔  (  2) دورانِ گفتگواس بات کا خیال رکھنا کہ نہ تیری آواز ضرورت سے زیادہ بلندہو اورنہ گفتگومیں چیخ وپکار ہو ۔  (  3) جب تو لوگوں کے درمیان بیٹھے تو ذکر ِالٰہی کی کثرت کر تاکہ اُن کی بھی یہ عادت بنے ۔  (  4) برے کاموں میں ہرگزلوگوں کے پیچھے نہ چلنا بلکہ اچھے کاموں میں ان کی پیروی کرنا ۔  (  5) قبرستان ، علما ومشائخ اور مقد س مقامات کی زیارت کثرت سے کرنا ۔  (  6) باہمت وحوصلہ مندبن کے رہنا کہ پست ہمت کی قدر ومنزلت کم ہو



[1]     تاریخ بغداد ، ۱۳ / ۳۵۸ ، ملخصاً ۔

[2]     الخیرات الحسان ، الفصل الثامن عشر ، ص۶۰ ۔

[3]     تاریخ بغداد ، ۱۳ /  ۳۵۳ ۔

[4]     تاریخ بغداد ، ۱۳ /  ۳۵۲,۳۵۳ ، ملتقطاً ۔

[5]     تبیض الصحیفۃ  فی مناقب الامام ابی حنیفۃ  النعمان ،  ص۱۲۸ ۔

[6]     تاریخ بغداد ، ۱۳ /  ۳۵۶ ۔

[7]     تذکرة الاولیاء ، ذکر امام ابو حنیفة رضی اللہ عنہ ، ص۱۸۶ ۔

[8]     تذکرة الاولیاء ،

Total Pages: 122

Go To