Book Name:Tangdasti Aur Rizq Main Bebarkati Ka Sabab

فقہِ حنفی کی مشہور و معروف کتاب دُرِّمختار میں ہے :صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے لیے  ”رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ “اور تابعین اور ان کے بعد والے عُلَما  و صَالحین کے لیے  ”رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ“کہنا مستحب ہے اور اسی طرح راجح قول پراس کا عکس بھی جائز ہے یعنی صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ ”رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ“اور تابعین اور ان کے بعد والوں کے لیے  ”رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ “کہنا۔ ( [1] ) اَلبتہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے عِلاوہ بُزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ  اللّٰہُ   الْمُبِیْن کے ناموں کے ساتھ  ”رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ “ کا بھی اِستعمال کیا جائے تاکہ لوگ انہیں صحابی نہ سمجھیں ۔  

 رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکامعنیٰ

سُوال:رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ“ کا معنیٰ کیا ہے ؟نیز اس کا اِستعمال  صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے عِلاوہ کسی اور کے لیے ائمۂ محققین و بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن  سے ثابت ہے ؟

جواب:رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ“یہ دُعائیہ جملہ ہے ، اس کے دو معانی ہیں ایک خبریہ اور دوسرا اِنشائیہ۔ جب ”رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ“صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے لیے بولا یا لکھا جاتا ہے   تو اس سے مُراد خبریہ معنیٰ ہوتا ہے  ”یعنی اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ ان سے راضی ہوا“ کیونکہ سارے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے اور جنتی ہیں۔ جب صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے عِلاوہ کسی اور کے لیے بولا یا لکھا جاتا ہے  تو اس سے مُراد اِنشائیہ معنیٰ ہوتا ہے ۔ یعنی  ”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان سے راضی ہو۔ “

بہرحالرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ “ کا اِستعمال صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ خاص نہیں یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے محدثین، محققین اور مفسرین نے اپنی  کتب میں ”رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ“ غیرِ صحابہ کے ناموں کے ساتھ بھی لکھا ہے ۔ امام فخرُالدِّین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے  ”تفسیر ِکبیر“میں ائمہ اَربعہ( یعنی امامِ اعظم ابو حنیفہ،  امام شافعی ، امام مالک اور امام احمد بن حنبلرَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی ) کے ناموں کے ساتھ ”رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ “تحریر فرمایا ہے ( [2] )حالانکہ یہ چاروں حضرات صحابی نہیں لیکن پھر بھی امام فخرُ الدِّین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی  جیسے عظیم مفسر اِن کے ناموں کے ساتھ’’رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ ‘‘ لکھ رہے ہیں۔ اَلبتہ بہتر یہی ہے کہ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اَسمائے مُبارکہ کے ساتھ ”رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ “اور اَولیائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہُ  السَّلَام کے ناموں کے ساتھ ”رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ “لکھا اور بولا  جائے تاکہ صحابہ اور غیر صحابہ میں اِمتیاز ہو سکے ۔

موبائل میں میوزیکل ٹیونز لگانا کیسا؟

سُوال:بعض لوگ اپنے موبائل  فون میں میوزیکل ٹیونز  والی گھنٹیاں  لگاتے ہیں اور دَورانِ نماز مسجد میں گھنٹیاں بجتی  رہتی ہیں اس سے نمازیوں کی نماز میں خَلل پڑتا ہے ۔ اس کے بارے میں کچھ اِرشاد فرما دیجیے ۔

جواب:دَورانِ نماز موبائل  فون کی گھنٹیاں مسجد میں بجنے سے نمازیوں کی نماز میں سخت  خَلل پڑتا ہے ۔ اَفسوس صَدکروڑ افسوس! آج کل مذہبی نظر آنے والے اَفراد کے موبائل فون میں بھی مَعَاذَ اللہ اکثر میوزیکل ٹیون ہوتی ہے ۔ جب سادہ گھنٹی ( Bell ) لگ سکتی ہے اور اس سے کام بھی چل سکتا ہے تو پھر میوزک والی  گھنٹی لگانے کی کیا حاجت ہے ؟ یہ موبائل فون  ہی کے ساتھ خاص نہیں،  اب تو ہر طرف میوزک کی آواز سنائی دیتی ہے ۔ گھروں کے باہَری دروازے ( Main Gate )پر لگائی گئی گھنٹیوں میں بھی عموماً میوزک بجتا



   [1]    دُرمختار ، کتاب الخنثیٰ، ۱۰/ ۵۲۰ ملتقطاً  دار المعرفة  بیروت 

   [2]    تفسیرِکبیر، پ۲، البقرة، تحت الآیة: ۱۷۳، ۲/ ۱۹۶-۱۹۷ملتقطاً دار احیاء التراث العربی بیروت 



Total Pages: 15

Go To