Book Name:Tangdasti Aur Rizq Main Bebarkati Ka Sabab

حضرتِ سیِّدُنا حاتمِ اَصَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکْرَم سے کسی نے ان کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا:جب نماز کا وقت ہو جاتا ہے تو میں مکمل وُضو کرتا ہوں،  پھر اس جگہ آ جاتا ہوں جہاں نماز پڑھنے کا اِرادہ ہوتا ہے ،  وہاں بیٹھ جاتا ہوں یہاں تک کہ میرے تمام اَعضاء مطمئن ہو جاتے ہیں،  پھر نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہوں اور کعبہ معظمہ کو اَبروؤں کے سامنے ،  پُل صِراط کو قدموں کے نیچے ،  جنّت کو دائیں اور جہنم کو بائیں طرف،  مَلَکُ الْمَوْت کو اپنے پیچھے خیال کرتا ہوں اور اس نماز کو اپنی آخری نماز تصوُّر کرتا ہوں۔ پھر اُمید و خوف کی ملی جُلی کیفیت کے ساتھ کھڑا ہوتا ہوں،  حقیقتاً اللّٰہتعالیٰ کی بڑائی کااِعلان کرتا ہوں،  قرآنِ پاک ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا ہوں۔ رُکوع تَواضع کے ساتھ اور سجدہ خُشُوع کے ساتھ کرتا ہوں،  بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھتا ہوں،  دائیں پاؤں کو انگوٹھے پر کھڑا کرتا ہوں،  اس کے بعد اِخلاص سے کام لیتا ہوں۔ پھر میں یہ خوف رکھتا ہوں کہ میری نماز قبول ہوتی ہے یا نہیں؟( [1] )

 رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا اِستعمال

سُوال:رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ “صِرف صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ساتھ خاص ہے یا دِیگر عُلمائے دِین وبُزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن  کے نام کے ساتھ بھی لکھا اور بولا جا سکتا ہے ؟

جواب:رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ“عموماً صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے اَسمائے مُبارکہ کے ساتھ لکھا اور بولا جاتا ہے لیکن یہ فقط صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے اَسما کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ تابعین و تبع تابعین،  اَئمۂ مجتہدین و مُحدِّثین،  عُلَمائے کرام اور بُزرگانِ دِین رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے ناموں کے ساتھ بھی لکھا اور بولا جا سکتا ہے ۔ اس بات کی تائید  قرآنِ پاک سے بھی ہوتی ہے چنانچہ خُدائے رحمٰن عَزَّ  وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ(۷)جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠(۸) ( پ۳۰، البینة:۷-۸ ) 

ترجَمۂ کنزُ الایمان:بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہی تمام مخلوق میں بہترہیں۔ ان کا صِلہ( بدلہ ) ان کے ربّ کے پاس بسنے کے باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہیں۔ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں اللّٰہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی،  یہ اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرے ۔

آیتِ مُبارَکہ  کے آخری حصّے (رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ)نے عوام کی اس  غَلَط فہمی کہ ’’رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ‘‘ صِرف صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ ہی خاص ہے کو  جڑ سے اُکھاڑ دیا کہ جو بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے والا ہے وہ ’’رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ‘‘کے زُمرے میں داخِل ہے اِس میں صحابی وغیر صحابی کی کوئی تخصیص نہیں ۔

حضرتِ سیِّدُنا امام یحییٰ بِن شرف نَووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیفرماتے ہیں: صحابی کے نام کے ساتھ’’رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ‘‘اور صحابی ابنِ صحابی کے  نام کے ساتھ’’رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا‘‘اور اسی طرح تمام عُلَمائے دِین اور صالحین کے لیے ’’رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ‘‘اور’’رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ‘‘ کہنا اور لکھنا چاہیے اگرچہ جہاں سے نقل کر رہے ہوں یا پڑھ رہے ہوں وہاں لکھا ہوا نہ ہو کیونکہ یہ دُعائیہ جملہ ہے ۔ ( [2] )

 



[1]    احیاء العلوم، کتاب أسرار الصلاة ومهماتها، الباب الأول فی فضائل الصلاة...الخ، فضيلة الخشوع،  ۱/ ۲۰۶ دار صادر بیروت  

   [2]    شرح  نووی ، مقدمة الشارح ،  ضبط الأسماء المتکررة ، الجزء: ۱، ۱/ ۳۹  دار الکتب العلمیة  بیروت



Total Pages: 15

Go To