Book Name:Tangdasti Aur Rizq Main Bebarkati Ka Sabab

( ایک غلام نہر کا پانی لانے کو گیا نہر کا پانی بھر آیا تو غلام کو بہا لے گیا ۔ )

شکار کرنے چلے تھے ،  شکار ہو بیٹھے

اِیمان کی حفاظت کا ایک ذَریعہ  کفریہ کلمات کے بارے میں عِلم حاصِل کر کے  ان سے بچنا بھی ہے ۔ ( [1] )اس کے عِلاوہ اِیمان کی حفاظت کے لیے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں سے دُعائیں بھی کرواتے رہنا چاہیے اور خود بھی ان نیک اور برگزیدہ بندوں کے وسیلے سے اللہ عَزَّوَجَلَّ   کی بارگاہ میں دُعا کرتے رہیے کہ یااللہ عَزَّوَجَلَّ ان نیک بندوں کے صدقے دُنیا وآخرت کی ہرآفت و مصیبت سے بچا اور بالخصوص ہمارے اِیمان کی حفاظت فرما اور مَرتے وقت ہمارا  خاتمہ بالایمان فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم( [2] )

دُنیا میں ہر آفت سے بچانا مولیٰ

عقبیٰ میں نہ کچھ رَنج دِکھانا مولیٰ

بیٹھوں جو دَرِپاک پیمبر کے حضور

اِیمان پر اس وقت اُٹھانا مولیٰ     ( حدائقِ بخشش )

بزرگوں سے عقیدت و محبت کا فائدہ

سُوال:کیا بزرگوں سے عقیدت و محبت بھی حُسنِ خاتمہ اور بخشش ومغفرت کا سبب بن سکتی ہے ؟

جواب:جی ہاں ! جب بُرے لوگوں کی صحبت بربادیٔ اِیمان کا سبب بن سکتی ہے تو نیک لوگوں کی صحبت، ان سے عقیدت ومحبت اور ان کی تعظیم وتوقیر  کیوں نہ  خاتمہ بالخیر اور بخشش ومغفرت  کا سبب بنے گی؟چنانچہ اِس ضمن میں دو حکایات ملاحظہ کیجیے : تذکرۃُ الاولیا میں ہے کہ ایک شخص کو انتِقال کے بعد کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا: ”مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ؟ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟“اس نے جواب دیا:اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے میری مغفرت فرما دی۔ پوچھا : کون سا عمل کام آ گیا ؟ جواب دیا: ایک بار حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حنبلرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دریا کے کَنارے وُضُو فرما رہے تھے اور وَہیں میں بلندی کی طرف وُضُو کرنے بیٹھ گیا ،  جب میری نظر امام صاحِب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ پر پڑی تو تعظیماً نیچے کی جانب آ گیا۔ بس یہی  ” تعظیمِ ولی“ والا عمل کام آ گیا اور میں بخشا گیا۔ ( [3] )

حضرتِ سیِّدُنا بِشرحافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکافِی کو اِنتقال کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا قاسم بن مُنَبِہّ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے خواب میں دیکھ کر پوچھا: ”مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ؟یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ  فرمایا؟“جواب دیا:اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے مجھے بخش دیا اور اِرشاد فرمایا:اے بِشر!تم کو بلکہ تمہارے جنازے میں جو جو شریک ہوئے ان کو بھی میں نے بَخش دیا۔ تو میں نے عَرض کی:یاربّ عَزَّوَجَلَّ مجھ سے محبت کرنے والوں کو بھی بَخش دے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رَحمت مَزید جوش پر آئی اور فرمایا: قیامت تک جو تم سے محبت کریں گے اُن سب کو بھی میں نے بَخش دیا۔ ( [4] )

اَعمال نہ دیکھے یہ دیکھا ،  ہے میرے ولی کے دَر کا گدا

 



[1]    کفریہ کلمات کے بارے میں تفصیلات  جاننے کے لیے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنَّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایہ ناز کتاب ”کفریہ کلمات کے بارے میں سُوال جواب “ کا مطالعہ کیجیے۔ ( شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ )

   [2]    ایمان پر خاتمے کے لیے5 اَوراد و وَظائف دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے ”جنتیوں کی زبان “ کے صفحہ 19تا 21 پر مُلاحظہ فرمائیے ۔  ( شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ )

   [3]    تذکرة الاولیا، الجزء: ۱ ،  ص ۱۹۶ اِنتشارات گنجینه  تھران 

   [4]    شرح الصُّدور، باب فی نبذ  من  اخبار  من رای الموت...الخ ، ص۲۸۹  مرکز اھل السنة  بركات  رضا  هند  



Total Pages: 15

Go To