Book Name:Tangdasti Aur Rizq Main Bebarkati Ka Sabab

تیرے ماسِوا سے مجھے اپنے فضل سے غنی کر دے ۔ ( [1] )ہر نماز کے بعد 11،  11 بار اور صبح و شام سو،  سو بار روزانہ ، اوّل و آخر دُرُود شریف۔ اِسی دُعا کی نسبت مولیٰ علیکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایاکہ   ”اگر تجھ پر مثل پہاڑ کے بھی قرض ہو گا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   اسے ادا  کر دے گا۔ “( [2] )

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تبلیغِ قرآن و سُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک  دعوتِ اسلامی کے سنَّتوں کی تربیت کے  مَدَنی قافلوں  میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سنَّتوں بھرا سفر اِختیار کر کے دُعائیں مانگنے سے بھی بہت سارے مَسائل حل ہوتے ہیں ، آپ بھی رضائے الٰہی پانے ،  علمِ دِین سیکھنے سکھانے ، عمل کا جذبہ بڑھانے اورثوابِ آخرت کمانے کی نیت سے سفر کیجیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ان فَوائد و برکات کے حصول کے ساتھ ساتھ ضمناً آپ کی دُعائیں بھی قبول ہوں گی اور  بارِ قرض بھی دُور ہو  گا۔

اِیمان کی حفاظت کا اِحساس

سُوال: اِیمان کی حفاظت کا اِحساس کیسے اُجاگر  کیا جائے ؟

جواب:اِیمان کی حفاظت کا اِحساس پیدا کرنے کے لیے اس کی قدر واَہمیت اپنے دِل میں پیدا کیجیے کیونکہ اِنسا ن  جس چیز کی قدر و اَہمیت جانتا ہے اس کی حفاظت کا اِہتمام بھی  کرتا ہے ،  مثلاً اِنسان کے دِل میں  مال و  دولت کی قدر و اَہمیت ہے جس کی وجہ سے وہ اسے ضائع ہونے سے بچاتا ہے اور ہر طرح سے اس کی حفاظت کرتا ہے  پھر اس مال و دولت کی مالیّت جتنی زیادہ ہوتی ہے اُسی قدر اس  کی حفاظت کا اِہتمام بھی زیادہ ہوتا ہے کہ کہیں چوری نہ ہو جائے ۔ اب غور کرنا چاہیے کہ ایک مسلمان کے لیے سب سے بڑا اور قیمتی سرمایہ کیا ہے ؟ یقیناً وہ قیمتی سرمایہ اِیمان ہی ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ایسی اَنمول نعمت ہے کہ  جسے کسی قیمت پر خریدا نہیں جا سکتا تو اِنسان کو چاہیے کہ اس نعمت کی قدر کرے اور ایسے کاموں سے بچے جس سے یہ نعمت چھن جانے کا اَندیشہ ہے ۔  

یہ بات مسلّمہ( تسلیم شُدہ ) ہے کہ  جتنی بڑی دولت ہوتی ہے  اس کے دُشمن اتنے ہی زیادہ اور خطرناک ہوتے ہیں۔ دُنیوی مال و زر  کے چور اِنسان ہوتے ہیں جبکہ اِیمان کی لازوال دولت کا چور شیطان ہے جو اِنسان کے جسم میں  خون کی طرح دوڑتا اور دِلوں میں وَسوسے ڈالتا ہے یہاں تک کہ نزع کے  وقت  سارا زور لگا دیتا ہے کہ کسی طرح مسلمان کا اِیمان ضائع ہو جائے جیسا کہ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْوَالِی فرماتے ہیں:سکرات کے وقت شیطان اپنے چَیلوں کو مَرنے والے کے دوستوں اور رِشتے داروں کی شکلوں میں لے کر آ پہنچتا ہے ۔ یہ سب کہتے ہیں: بھائی! ہم تجھ سے پہلے موت کا مزّہ چکھ چکے ہیں،  مرنے کے بعد جو کچھ ہوتا ہے اس سے ہم اچھی طرح واقِف ہیں۔ اب تیری باری ہے ،  ہم تجھے ہمدردانہ مشورہ دیتے ہیں کہ تُو یہودی مذہب اِختیار  کر لے کہ یہی دِین اللّٰہتعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہے ۔ اگر مَرنے والا ان کی بات نہیں مانتا تو اسی طرح دوسرے اَحباب کے رُوپ میں شیاطین آ آ کر کہتے ہیں کہ  تُو نصاریٰ کا مذہب اِختیار کر لے کیونکہ اِسی مذہب نے حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے دِین کو مَنسوخ کیا تھا۔ یوں ہی اَعِزَّہ وَاَقرِبَاء ( یعنی رِشتے داروں ) کی شکل میں جماعتیں آ کر مختلف باطِل فِرقوں کو قبول کر لینے کا  مشورہ  دیتی ہیں۔ تو جس کی قسمت میں حق سے مُنحَرِف ہونا ( یعنی پھر جانا ) لکھا ہوتا ہے  تو وہ اُس وقت ڈگمگا جاتا اور باطِل مذہب اِختیار  کر لیتا ہے ۔ ( [3] )

 



  [1]    بطورِ وظیفہ پڑھتے ہوئے ترجمہ پڑھنے کی حاجت نہیں ۔ ( شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ )

  [2]    ترمذی، أحادیث شتّٰی، باب( ت: ۱۲۱ )، ۵/ ۳۲۹ ، حدیث: ۳۵۷۴  دار الفکر بیروت 

  [3]    رسائل الامام الغزالی، الدرة الفاخرة  فی کشف علوم الآخرة،  ص۵۱۱  مُلَخَّصًا دارالفکر بیروت



Total Pages: 15

Go To