Book Name:Tangdasti Aur Rizq Main Bebarkati Ka Sabab

ترجمۂ کنز الایمان:اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو مُعاف فرما دیتا ہے ۔

لہٰذا بے عملی اور بَداَعمالی سے توبہ کرتے ہوئے  نیک اَعمال میں مشغول ہو جانا چاہیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تنگدستی دُور ہو گی اور فراخی نصیب ہو گی۔ تنگدستی   دُور کرنے کا وَظیفہ بیان کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت،  امام اہلسنَّت،  مجدِّدِ دِین و ملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: یَامُسَبِّبَ الْاَسْبَاب 500 بار اوّل و آخر 11، 11 بار دُرُود شریف بعد نمازِ عشا قبلہ رُو  باوُضو  ننگے سر ایسی جگہ کہ جہاں سر اور آسمان کے دَرمیان کوئی چیز حائِل نہ ہو یہاں تک کہ سر پر ٹوپی بھی نہ ہو ،  پڑھا کرو( [1] )۔ ( [2] )   

رِزق میں اِضافے کے لیے کُڑھنا

سُوال: ہر وقت  رِزق میں اِضافے  کے لیے کُڑھتے رہنا،  اسی کے لیے دُعائیں کرنا اور اَوراد و وَظائف پڑھنا کیسا ہے ؟

جواب:اتنا کمانا فرض ہے جو اپنے لیے اور اَہل و عیال کے لیے اور جن کا نفقہ اس کے ذِمَّہ واجب ہے ان کے نفقہ کے لیے اور اَدائے دَین ( یعنی قرض ادا کرنے ) کے لیے کفایت کر سکے اس کے بعد اسے اِختیار ہے کہ اتنے ہی پر بس کرے یا اپنے اور اَہل و عیال کے لیے کچھ پس ماندہ رکھنے ( یعنی بچا کر رکھنے ) کی بھی سعی و کوشش کرے ۔ ماں باپ محتاج و تنگدست ہوں تو فرض ہے کہ کما کر انہیں بقدرِ کفایت دے ۔ ( [3] ) بہرحال اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ رِزق حلال میں اِضافے کے لیے دُعا کرنے اور جائز وظائف پڑھنے میں کوئی  حَرج نہیں،  بہتر یہ ہے کہ اس دُعا:( رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ(۲۰۱) )( پ۲، البقرہ:۲۰۱ ) ترجمہ کنز الایمان: ”اے ربّ ہمارے ہمیں دُنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذابِ دوزخ سے بچا۔ “ کو اپنا معمول بنا لیا جائے کہ یہ دُعا جامعُ الدَّعوات ہے کہ تھوڑے اَلفاظ میں دِین و دُنیا کی تمام بھلائیاں اس میں مانگی گئی ہیں ۔ حضرتِ سَیِّدُنا اَنس بِن مالِک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے :نبیٔ  کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اکثر یہ دُعا مانگا کرتے تھے ۔ ( [4] )  

یاد رکھیے ! جائز مقصد کے لیے جو بھی وَظیفہ کیا جائے محض اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رضا کے لیے کیا جائے ،  پھر اس کے وسیلے سے اپنے جائز کام کی تکمیل کی دُعا کی جائے اور اگر وَظیفے سے مقصود صرف اپنے دُنیوی  کام کا حصول ہو تو پھر ایسا وَظیفہ مسجد میں نہ پڑھا جائے جیسا کہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنَّت، مجدِّدِ دِین و ملّت مولانا  شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:جو جائز عمل جائز نیت سے ہے اس میں حالتیں دو ہیں:ایک اہلِ علم کی کہ وہ اَسماءِ الٰہیہ سے تو سُّل اور اپنے جائز مقصد کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف تضرع ( یعنی آہ وزاری ) کرتے ہیں یہ دُعا ہے اور دُعا مغز ِعبادت ہے مسجد میں ہو خواہ دوسری جگہ۔ دُوُم عوام نافہم ( ناسمجھ عوام ) کہ ان کا مطمحِ نظر ( یعنی اَصلی مقصد ) اپنا مطلبِ دُنیوی ہوتاہے اور عمل کو نہ بطورِ دُعا بلکہ بطورِ تد بیر بجا لاتے ہیں ولہٰذا جب اَثر نہ دیکھیں اس سے بے اِعتقاد ہو جاتے ہیں اگر دُعا سمجھتے بے اِعتقادی کے کیا معنیٰ  تھے کہ حاکم پر حکم کس کا؟ ایسے اَعمال نہ مسجد میں عبادت ہو سکتے ہیں نہ غیر میں بلکہ جب کسی دُنیوی مطلب کے لئے ہوں مسجد میں نہ پڑھنا چاہئے ۔ ( [5] )   

آج کل مال و دولت میں اِضافے اور روزی میں برکت کی تقریباً سبھی کو جستجو  ہوتی ہے ، بچپن ہی سے والدین کی طرف سے بچے کو مال کمانے کا ذہن دیا جاتا ہے ،  دُنیوی عُلوم و فنون بھی اسی لیے پڑھائے جاتے ہیں کہ بچہ تعلیم یافتہ ہو کر ڈاکٹر ،  انجینئر یا افسر بنے اور



   [1] ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،  ص۲۵۶ مکتبۃ المدینہ  باب المدینہ کراچی

   [2] تنگدستی اور رِزق میں بےبرکتی کے مزید اَسباب اور ان کا حل جاننے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ   رسالے ”تنگدستی کے اَسباب اور ان کا حل “ کا مُطالعہ کیجیے۔  ( شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ ) 

[3]    بہارِ شریعت ، ۳/ ۶۰۹، حصّہ: ۱۶ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[4]    بخاری، کتاب الدعوات،  باب قول النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ربنا آتنا فی الدنیا حسنةالخ، ۴/ ۲۱۴،  حدیث: ۶۳۸۹ دار الکتب العلمیة  بیروت 

[5]    فتاویٰ رضویہ،  ۲۳/ ۳۹۸ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور  



Total Pages: 15

Go To