Book Name:Tangdasti Aur Rizq Main Bebarkati Ka Sabab

جواب:تکبیرات ِاِنتقال ( یعنی ایک رُکن سے دوسرے رُکن میں جانے کے لیے کہی جانے والی تکبیرات )میں لوگ بہت غَلَطیاں کرتے ہیں۔ بعض لوگ رکوع وسجود میں پہنچ کر تکبیرات کہتے ہیں اور کچھ رکوع و سجود کے بالکل قریب ہو تے وقت  ”اَﷲُ اَکْبَر“ کہتے ہیں یہ دونوں طریقے غَلَط ہیں ۔ صحیح طریقہ  یہ ہے کہ جب ایک رُکن سے دوسرے رُکن کی طرف منتقل ہونا شروع ہوں  اس وقت تکبیر کہنا شروع کریں اور اس رُکن میں پہنچتے ہی تکبیر ختم کر دیں۔ صدرُ الشَّریعہ،  بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:بہتر یہ ہے کہ اَﷲُ اَکْبَر کہتا ہوا   رکوع کو جائے یعنی جب رکوع کے ليے جھکنا شروع کرے ،  تو اَﷲُ اَکْبَر شروع کرے اور ختمِ رکوع پر تکبیر ختم کرے ۔ اس مسافت کے پورا کرنے کے ليے اللہ  کے  ”لام“ کو بڑھائے ، اَکْبَر کی ”ب“وغیرہ کسی حرف کو نہ بڑھائے ۔ ( [1] ) تکبیراتِ انتقال میں اَللہ یا اَکْبَر کے  ”الف“ کو دراز کیا آللہ یا آکبر کہا یا  ”ب“ کے بعد  ”الف“ بڑھایا اکبار کہا نماز فاسد ہو جائے گی اور تحریمہ میں ایسا ہوا تو نماز شروع ہی نہ ہوئی۔ ( [2] )

اِسی طرح رکوع سے کھڑے ہوتے وقت امام اور اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے   ”سنَّت یہ ہے کہ سَمِعَ اﷲُ  کا  ”سین“ رکوع سے سر اُٹھانے کے ساتھ کہیں اور حَمِدَہ کی  ”ہ“ سیدھا ہونے کے ساتھ ختم اور مقتدی  کے لیے سنَّت رکوع سے سر اٹھانے کے ساتھ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْد کا  ”الف“ اور جو صرف رَبَّنَا لَکَ الْحَمْد پڑھتا ہو وہ رَبَّنَا کی ”ر“ شروع کریں اور سیدھے ہو جانے کے ساتھ حَمْد کی  ” دال “  ختم ہوجائے ۔ ( [3] )

سلام پھیرنے کا طریقہ

سُوال:سلام پھیرنے کا طریقہ کیا ہے ؟ نیز سلام پھیرتے وقت کیا نیت ہونی چاہیے ؟

جواب:جب سلام کے لیے منہ پھیرنا شروع کریں تو ساتھ ہی ساتھ ”اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللہ“ بھی کہنا شروع کریں۔ جب پورا مُنہ پھیر لیں تو سلام کے اَلفاظ بھی ختم ہو جانے چاہئیں۔ بہارِ شریعت میں ہے :امام داہنے سلام میں خطاب سے ان مقتدیوں کی نیت کرے جو داہنی طرف ہيں اور بائیں سے بائیں طرف والوں کی نیز دونوں سلاموں میں کراماً  کاتبین اور ان ملائکہ کی نیت کرے ، جن کو اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نے حفاظت کے ليے مقرر کیا اور نیت میں کوئی عددمعین نہ کرے ۔ ( [4] )مقتدی بھی ہر طرف کے سلام میں اس طرف والے مقتدیوں اور اُن ملائکہ کی نیت کرے نیز جس طرف امام ہو اس طرف کے سلام میں امام کی بھی نیت کرے اور امام اس کے محاذی ہو تو دونوں سلاموں میں امام کی بھی نیت کرے اور مُنفرد صرف اُن فرشتوں ہی کی نیت کرے ۔ ( [5] )  



[1]    بہارِشریعت، ۱/ ۵۲۵، حصہ: ۳

[2]    بہارِشریعت، ۱/ ۶۱۴، حصہ: ۳

[3]    فتاویٰ رضویہ ، ۶/ ۱۸۸ ملتقطاً

[4]    بہارِشریعت، ۱/ ۵۳۶، حصّہ: ۳ ملتقطاً

[5]    درمختار، کتاب الصلاة، ۲/  ۲۹۹ ملخصاً   



Total Pages: 15

Go To