Book Name:Tangdasti Aur Rizq Main Bebarkati Ka Sabab

گا۔ ( [1] ) 

قضا نمازوں کا آسان طریقہ

سُوال:چند سالوں کی قضا نمازیں ہوں تو انہیں ادا کرنے کا کوئی آسان طریقہ اِرشاد فرما دیجیے ۔

جواب:چند سالوں کی قضا نمازیں ادا کرنے کے لیے سب سے پہلے ظنِ غالب کا اِعتبار کرتے ہوئے سالوں کی تعیین  کر لیجیے کہ کتنے سال نماز نہیں پڑھی۔ اگر یہ معلوم نہ ہو سکے تو جب سے بالغ ہوئے اس وقت سے نمازوں کا حساب لگائے اور اگر تاریخِ بلوغ بھی  معلوم نہ ہو تو ہجری سِن کے حساب سے احتیاطاً عورت نو سال کی عمر سے اور مَرد بارہ سال کی عمر سے نمازوں کا حِساب لگائے کہ لڑکا بارہ سے پندرہ اور لڑکی نو سے پندرہ سال کے دَوران بالغ ہو جاتی  ہے مثلاً کسی کی  بارہ سال کی قضا نمازیں رہتی ہیں تو وہ روزانہ ترتیب وار فجر،  ظہر،  عصر،  مغرب اور عشا بھی پڑھ سکتا ہے ،  چاہے تو پہلے بارہ سال کی فجر پڑھے ،  پھر بارہ سال کی ظہر اور اسی طرح باقی نمازیں۔  ” قضا نمازیں پڑھنے میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کسی پر اس کا اِظہار نہ ہو کیونکہ تاخیر گناہ ہے جس کا اِظہار نہیں ہونا چاہیے ۔ “( [2] )

جن پر کئی سالوں  کی نمازیں قضا ہوں ان کے لیے کچھ تخفیف بھی ہے جیسا کہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں:قضا ہر روز کی نماز کی فقط بیس رکعتوں کی ہوتی ہے ۔ دو فرض فجر کے ،  چار ظہر ، چار عصر ،  تین مغرب ،  چار عشاء  کے ،  تین وتر اور قضا میں یوں نیت کرنی ضرور  ہے کہ نیت کی میں نے پہلی فجر جو مجھ سے قضا ہوئی یا پہلی ظہر جو مجھ سے قضا ہوئی ،  اسی طرح ہمیشہ ہر نماز میں کیا کرے اور جس پر قضا نماز  یں  بہت کثرت سے ہیں وہ  آسانی کے لیے اگریوں بھی ادا کرے تو جائز ہے کہ ہر رکوع اور ہر سجدہ میں تین تین بار ”سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم،  سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کی جگہ صرف ایک بار کہے ۔ مگر یہ ہمیشہ ہر طرح کی نماز میں یاد رکھنا چاہیے کہ جب آدمی رکوع میں  پورا  پہنچ جائے اس وقت سُبْحَان کا  ”سین“ شروع کرے اور جب عَظِیْم کا  ”میم“ ختم کرے اس وقت رکوع سے سر  اُٹھائے ۔ اسی طرح جب سجدوں میں پورا پہنچ لے اس  وقت  تسبیح  شروع کرے اور جب پوری تسبیح ختم کر لے اس  وقت سجدہ سے سر اٹھائے ۔ بہت سے لوگ جو  رکوع سجدہ  میں آتے جاتے یہ تسبیح  پڑھتے ہیں بہت غَلَطی کرتے ہیں۔ ایک تخفیف کثرتِ قضا والوں کی یہ ہو سکتی ہے ۔ دوسری تخفیف یہ کہ فرضوں کی تیسری اور چوتھی رکعت میں اَلْحَمْد شریف کی جگہ فقط سُبْحَانَ اللہ، سُبْحَانَ اللہ، سُبْحَانَ اللہتین بار کہہ کر رکوع میں چلے جائیں مگر  وہی خیال یہاں بھی ضَرور  ہے کہ سیدھے کھڑے ہو کر سُبْحَانَ اللہ شروع کریں  اور سُبْحَانَ اللہ پورے کھڑے کھڑے کہہ کر رکوع کے لیے سر جھکائیں،  یہ تخفیف  فقط فرضوں کی تیسری چوتھی رکعت میں ہے ،  وتروں کی تینوں رکعتوں میں اَلْحَمْد اور سورت دونوں ضرور  پڑھی جائیں۔ تیسری تخفیف پچھلی التحیات کے بعد دونوں دُرُودوں اور دُعا کی جگہ صرف  ” اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ کہہ کر سلام پھیر دیں۔ چوتھی تخفیف وتروں کی تیسری رکعت میں دُعائے قُنُوت کی جگہ اَﷲُ اَکْبَر کہہ کر فقط ایک یا تین بار  ” رَبِّ اغْفِرْلِیْ کہے ۔ ( [3] )

تکبیراتِ اِنتقال کا طریقہ

سُوال: تکبیراتِ اِنتقال کا طریقہ بھی اِرشاد فر ما دیجیے ۔  

 



   [1]    مزید معلومات کے لیے شیخِ طریقت،  امیرِ اہلسنَّت،  بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارقادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ بنام” کالے بچھو“ کا مطالعہ کیجیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ معلومات کا انمول خزانہ ہاتھ آئے گا۔ ( شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ )

[2]       دُرِّمختار ، کتابُ الصلٰوة ، ۲/ ۶۵۰ 

[3]    فتاویٰ رضویہ،  ۸/ ۱۵۷



Total Pages: 15

Go To