Book Name:Tangdasti Aur Rizq Main Bebarkati Ka Sabab

       لے سب یکساں ہے ، ہاں تھوڑی کترنے سے سب منڈا دینا سخت وخبیث تر ہے کہ حرام حرام میں فرق ہوتا ہے ۔ “( [1] )یہ کہنا کہ میں اس قابِل نہیں جب اس قابِل ہو جاؤں گا تو داڑھی رکھ لوں گا یہ شیطان کا بہت بڑا اور بُرا وار ہے ۔ یاد رکھیے ! داڑھی  رکھنے کے لیے کسی قابلیت کی ضَرورت نہیں۔ مَسائل معلوم  ہوں یا نہ ہوں،  نماز پڑھانا آتی ہو یا نہیں داڑھی رکھنا واجب ہے ۔ کسی نے  آپ سے شرعی مسئلہ پوچھ لیا اور آپ کو نہیں آتا تو صاف کہہ دیجیے کہ مجھے نہیں آتا۔ اِسی طرح اگر کسی نے نماز پڑھانے کا کہہ دیا اور آپ نماز نہیں پڑھا  سکتے تو معذرت کر لیجیے ۔ داڑھی رکھنے  والا اس بات کا پابند تو  نہیں کہ وہ نماز پڑھانا بھی جانتا ہو،  اسے مسائل بھی معلوم ہوں اور وہ ہر مسئلے کا جواب  بھی دے ۔ بہرحال  یہ سب شیطانی وار ہیں جو آپ کو اس عظیم سُنَّت ( جو واجب کا حکم رکھتی ہے اس ) سے محروم کروا رہے ہیں۔ داڑھی رکھیے اس کی بَرکت سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ دِیگر بہت سے گناہوں سے بچنے کا ذہن بنے گا مثلاًداڑھی رکھنے سے  پہلے اگر گالی دینے کی عادت تھی تو داڑھی رکھنے کے بعد خُود ہی یہ اِحساس ہو گا کہ  اگر میں نے گالی دی تو لوگ کہیں  گے کہ مولانا ہو کر گالی دیتا ہے تو یوں آپ گالی دینے سے باز رہیں  گے ۔ خدا نخواستہ دِیگر گناہوں سے چھٹکارا  نہ بھی ملا تو کم از کم داڑھی مُنڈانے  کے  گنا ہ سے تو جان چھوٹے گی ۔

اَحادیثِ مُبارَکہ میں داڑھی مُنڈا کر یہودیوں جیسی صورت  بنانے سے منع فرمایا گیا ہے چنانچہ ہادیٔ راہِ نجات، سرورکائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبرت نشان ہے :مُونچھیں پَست کرو اور داڑھیوں کو معافی دو،  یہودیوں جیسی شکل مت بناؤ۔ ( [2] )( شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں: )  ”ایک بار بابُ المدینہ( کراچی ) کے علاقے  کیماڑی میں اِجتماعِ ذِکر ونعت   کا اِہتمام تھا،  اس علاقے کا ایک بدمعاش اوباش نوجوان بھی پھرتا پھراتا اِجتماعِ ذِکر و نعت میں آ پہنچا اور بیان سننے لگا ، دَورانِ بیان میں نے یہی حدیثِ پاک سنائی  تو اس حدیثِ پاک نے اس بدمعاش نوجوان کے دِل پر بڑا  اَثر کیا ،  جب بیان ختم ہوا اور مُلاقات جاری تھی تو وہ میرے پاس آیا اور پُھوٹ پُھوٹ کر رونے لگا کہ مجھے معلوم  نہیں  تھا کہ میں ایسا کمینہ شخص ہوں کہ آج تک یہودیوں جیسی شکل بنا کر گھومتا رہا، میں توبہ کرتا ہوں اور آپ سے  وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی بھی داڑھی نہیں مُنڈاؤں گا چنانچہ  اس نے داڑھی رکھ لی ،  زُلفیں بھی بڑھا لیں اور اپنے  سب گھر والوں کو سلسلۂ عالِیہ قادریہ میں داخِل کروایا اور فیضانِ سُنَّت کا دَرس  دینا شروع کر دیا ۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہ ہمارے علاقے کا بدمعاش تھا، اِتفاقاً یہاں سے  گزر رہا تھا ، بیان کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تو یہ خود ہی آ کر بیان سننے بیٹھ گیا اور اس کی زندگی میں مدنی اِنقلاب برپا  ہو گیا۔ “

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس مدنی بہار  میں  جہاں اس اوباش نوجوان کی زندگی میں مدنی اِنقلاب برپا ہونے کا ذِکر  ہے وہیں سُنَّتوں بھرے اِجتماع میں شرکت کی اَہمیت کا بھی اَندازہ ہوتا ہے کہ سُنَّتوں بھرے اِجتماعات میں شرکت کی بَرکت  سے نجانے کتنے لوگوں کی زندگیوں میں مدنی اِنقلاب بَرپا ہو جاتا ہے اور وہ گناہوں بھری زندگی چھوڑ کرسُنَّتوں بھری زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ بھی اس مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے اور اپنے چہرے پر ایک مٹھی داڑھی، سر پر زُلفیں اور عمامے شریف  کا تاج سجا لیجیے اور اپنے دِل میں سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی محبت بسا لیجیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّآپ کا سینہ سرکار  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی محبت کا مدینہ بنے



[1]    فتاویٰ  رضویہ، ۲۲/ ۶۰۶

[2]    کنزالعمال، کتاب الزینة  والتجمل،  الباب الثانی فی أنواع الزینة...الخ، الجزء: ۶، ۳/ ۲۷۶،  حدیث: ۱۷۲۱۴ دار الکتب العلمیة  بیروت



Total Pages: 15

Go To