Book Name:Tangdasti Aur Rizq Main Bebarkati Ka Sabab

اس کا خیال پہنچے لہٰذا تعمیمِ عام  کے اَلفاظ ہونے چاہئیں جو ہر قسم کے گناہ کو یقیناً عام بھی ہو جائیں اور وہ تصریحِ خاص باعثِ فتنہ بھی نہ ہو مثلاً ( یوں کہے : ) ”چھوٹے سے چھوٹا،  بڑے سے بڑا جو گناہ ایک مَرد دوسرے کا کر سکتا ہے جان مال عزت آبرو  ہر شَے کے متعلق اس میں سے جو تیرا میں نے گناہ کیا ہو سب مجھے مُعاف کر دے ۔ “ بالجملہ اَمر مشکل ہے  جو سچے دِل سے مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف رُجُوع لاتا ہے اس کا کرم ضَرور اسے قبول فرماتا ہے ۔ ( [1] )

زِنا کی تہمت لگانا کیسا؟

سُوال:کسی پر زِنا کی تہمت لگانا کیسا ہے ؟

جواب:کسی پر محض شکوک و شُبہات کی بِنا پر تہمت لگانا گناہِ کبیرہ ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ آج کل ہمارے مُعاشرے میں یہ وَبا عام ہو چکی ہے ،  بات بات پر ایک دوسرے پر تہمت لگا دی جاتی ہے کہ تُو نے میرے پیسے نکال لیے ،  میری فُلاں چیز چُرا لی ہے ۔ اِسی طرح  گھر میں ساس بہو آپس میں ایک دوسرے پر جادو کے اِلزامات لگاتی رہتی ہیں۔ ان سب کو اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ کے عذاب سے ڈر جانا چاہیے چُنانچہ مکی مدنی سُلطان،  سَرورِ ذِیشان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبرت نشان ہے : جو کسی مؤمِن کے بارے میں ایسی چیز کہے جواس میں نہ ہو تو اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ اُس ( بُہتان تراش )کو اُس وقت تک رَدْغَۃُ الْخَبَال ( یعنی دوزخ کا وہ مقام جہاں دوزخیوں کا پیپ و خون جمع ہوتا ہے اس )میں رکھے گا یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نکل جائے ۔ ( [2] )اِسی طرح آج کل محض شک و شُبہ کی بنا  پر زِنا کی تہمت  لگا دی جاتی ہے ۔ اگر کسی نے پارسا مَرد یا عورت کو زِنا کی تہمت لگائی اور شرعی عدالت میں ایسے شرعی گواہ جو اس طرح شرعی گواہی دیں جو زِنا کی گواہی میں مَطلوب ہے پیش نہ کر سکا تو اس تہمت لگانے والے  پر حَد واجِب ہو جاتی ہے اور اسے  اَسّی ( 80 ) کوڑے لگائے جائیں  گے چنانچہ پارہ 18سورۃُ النُّور کی آیت نمبر 4میں اِرشاد ہوتا ہے :

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًاۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ(۴)ترجمۂ كنزالايمان:اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انہیں اسّی کوڑے لگاؤ اور ان کی کوئی گواہی کبھی نہ مانو  اور وہی فاسِق ہیں۔

حضرتِ سیِّدُنا حُذَیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمان ِ عِبرت نشان ہے : کسی پاک دامن عورت پر زِنا کی تُہمت لگانا سو سال کی نیکیوں کو بَرباد کر دیتا ہے ۔ ( [3] )

داڑھی رکھنے کیلئے کسی قابلیت کی ضَرورت نہیں

سُوال:بعض لو گ داڑھی نہیں رکھتے اور کہتے ہیں  ”ہم اس قابل نہیں کہ داڑھی رکھیں، کسی نے کوئی مسئلہ پوچھ لیا تو ہم کیا بتائیں گے ؟“عرض یہ ہے کہ کیا داڑھی رکھنے کے لیے کسی قابلیت کی ضَرورت ہے ؟

جواب:جو بالغ ہو گیا اور اس کی  داڑھی نکل آئی  تو اب اس پر داڑھی رکھنا واجب ہو گیا۔  ”داڑھی کا طُول ایک مُشت یعنی ٹھوڑی سے نیچے چار انگل چاہیے اس سے کم کرنا ( ہم حنفیوں کے نزدیک ) حرام ہے ، قینچی سے کترے خواہ اُسترے سے

 

 



[1]    فتاویٰ رضویہ، ٢٤/ ۳۷۴تا ۳۷۷  ملتقطاً 

[2]    ابوداود، کتاب الأقضیة، باب فیمن یعین علٰی خصومة...الخ، ۳/ ۴۲۷،  حدیث: ۳۵۹۷  دار احیاء التراث العربی بیروت

[3]    معجمِ کبیر،  ومن مسند حذیفة ، ۳ /  ۱۶۸، حدیث : ۳۰۲۳  دار احیاء التراث العربی بیروت



Total Pages: 15

Go To