Book Name:Tangdasti Aur Rizq Main Bebarkati Ka Sabab

ہے ۔ یونہی گھڑیوں میں میوزک بجتا ہے ۔ اس کے عِلاوہ گاڑی جب پیچھے ( Reverse ) ہوتی ہے تو بعض لوگ اس میں بھی میوزیکل گھنٹی( Bell )لگاتے ہیں۔ اسی طرح بعض لوگ موسیقی کے ساتھ نعت یا کسی نعت کی طرز پر میوزک والی گھنٹی  لگاتے ہیں یہ سب ناجائز ہے ،  اگر کسی کے فون میں میوزیکل ٹیون ہو اُس کے لیے ضَروری ہے کہ اِس منحوس ٹیون کو ہمیشہ کے لیے ختم کرے اور توبہ بھی کرے ۔ ورنہ جب جب یہ میوزیکل ٹیون بجے گی خود بھی سُننے کی آفت میں پڑے گا اور دوسرا مسلمان بھی اگر سننے سے بچنے کی کوشش نہیں کریگا تو وہ بھی  پھنسے گا۔

رہی بات  مَساجد میں دَورانِ نماز  میوزیکل ٹیونز والی گھنٹیاں بجنے کی تو یہ سخت ناجائز ہے کیونکہ اس سے نمازیوں کو  سخت تشویش ہوتی ہے اور مَساجد کا تَقَدُّس بھی پامال ہوتا ہے لہٰذا موبائل فون میں میوزیکل ٹیونز ہرگز نہ لگائی جائیں۔

میوزیکل  ٹیونز کے عِلاوہ کوئی اورگھنٹی لگی ہو تب بھی جب نماز کے لیے  مسجد جائیں تو اپنا موبائل فون گھر یا دُکان پر  ہی رکھ کر جائیں تاکہ مسجد میں اِس کے بجنے کی نوبت ہی نہ آئے  اور اگر  ساتھ  لے جائیں  تو مسجد  میں داخِل ہوتے ہی جماعت کھڑی ہونے کا اِنتظار کیے بغیر فوراً موبائل فون بالکل  بند کر لیجیے ، بعض لوگ جماعت کھڑی ہونے کا اِنتظار کرتے ہیں اور پھر بند کرنا بھول جاتے ہیں جس کی وجہ سے دَورانِ نماز گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں جس سے نماز میں سخت خَلل پڑتا ہے ۔ ہر مسلمان کو خود بھی ان بے احتیاطیوں اور بے حُرمتیوں سے بچنا چاہیے اور دوسروں کو بھی حتَّی المقدور بچانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔  

گھنٹی کے طور پر تِلاوت  اور حمد ونعت لگانا کیسا؟

سُوال: موبائل میں تِلاوت ، حمد،  نعت اور اذان کی آواز کو گھنٹی( Bell )کے طور پر لگانا کیسا ہے ؟

جواب:تلاوتِ قرآن،  حمدِ الٰہی،  نعتِ مصطفے ٰ اور اذان کی آواز وغیرہ یہ سب چیزیں یقیناً ذِکرُ اللہ میں داخِل اور باعثِ بَرکت ہیں مگر ساتھ ہی  ساتھ واجبُ الاحترام بھی ہیں لہٰذا انہیں موبائل فون پر گھنٹی کے طور پر نہ لگائیں۔

شریعتِ  مطہرہ میں زِنا کی سزا

سُوال:شریعتِ مطہرہ میں زِنا کی سزا کیا ہے ؟نیز یہ سزا دینے کا اِختیار کسے  حاصل  ہے ؟

جواب:شريعتِ مطہرہ میں زِنا کی سزا دُنیا میں حَداور آخرت میں عذابِ نار ہے ۔ اگر  زِنا کرنے والے مَرد و عورت دونوں آزاد اور کنوارے ہوں تو ان کی حَد یہ ہے کہ ان کوسو سو کوڑے مارے جائیں چنانچہ پارہ 18سورۃُ النُّور کی آیت نمبر 2 میں اِرشاد ہوتا ہے :

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ۪-                  ترجمۂ  كنزالايمان: جو عورت بدکار ہو اور جو مَرد تو ان میں ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔

اور اگر زِنا کرنے والے مَرد وعورت آزاد نہ ہوں بلکہ باندی یا غُلام ہوں تو ان کی حد پچاس کوڑے ہیں چنانچہ اِرشادِ ربّ العباد  ہے :

( فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِؕ    ( پ۵، النساء:۲۵ ) ترجمۂ  كنزالايمان: جب وہ قید میں آ جائیں  پھر بُرا کام کریں تو اُن پراس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے ۔

اگر زِنا کرنے والے مَرد وعورت شادی شدہ ہوں اور دِیگر شرائط بھی پائی جائیں  تو ان کی سزا رَجم  کرنا ( یعنی  پتھر مار کر انہیں ہلاک کرنا )ہے ۔ زانی کو آخرت میں سخت  عذاب دیا جائے   گا اَلبتہ زِنا کرنے کے بعد جو توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ رَجم ہونے یا کوڑے کھانے کی صورت میں سزا پالے یا پھر چُھپ کر زِنا کرنے کی صورت میں سچی پکی توبہ کر لے اور زِنا بالجبر کی صورت میں فریقِ ثانی سے بھی



Total Pages: 15

Go To