Book Name:Sahabiyat Aur Shoq e Ilm e Deen

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

صحابیات اور شوقِ عِلْمِ دین

دُرُودِ پاک کی فضیلت

خَاتَمُ الْـمُرْسَلِین،جنابِ صادِق واَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ بَـخْشِشْ نِشان ہے: جس نے کِتاب میں مجھ پر دُرُودِ پاک لکھا تو جب تک میرا نام اُس میں رہے گا فرشتے اُس کے لیے اِسْتغفار (یعنی بَـخْشِشْ کی دُعا)  کرتے رہیں گے۔[1]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!          صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!فرشتوں سے بَـخْشِشْ کی دُعا چاہتی ہیں تو اپنی عادَت بنا لیجئے کہ جب بھی آقائے دو۲ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نامِ مُبارَک لکھیں ساتھ میں دُرودِ پاک ضَرور لکھئے، کیونکہ درودِ پاک کی جگہ  ” صلعم “ وغیرہ لکھنا کافی نہیں ہے۔ اعلیٰ حضرت، عظیم البَرَکت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: تحریر میں ہزار جگہ نامِ پاک حُضُورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم آئے ہر جگہ پورا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم لکھا جائے ہرگز ہر گز کہیں صلعم وغیرہ نہ ہو عُلَما نے اس سے سَخْت مُمانَعَت فرمائی ہے۔[2] نیز بہارِ شَریعَت میں ہے: بعض لوگ براہِ اِخْتِصار  ” صلعم “  یا ”  ؐ “  لکھتے ہیں، یہ مَحْض ناجائز وحَرام ہے۔[3]

حُکْمِ حَق ہے پڑھو دُرُود شریف                چھوڑو مَت غافِلو دُرُود شریف

حضرتِ مصطفےٰ کا پیارا نام                                                          جب سنو تب پڑھو دُرُود شریف[4]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!        صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خواتین کی بحر علم سے سیرابی

دَورِ جَاھِلیَّت میں عربوں پر چھائے جَہَالَت وگمراہی کے اندھیرے میں خال خال  (بَہُت کم) ہی نُورِ عِلْم سے مُنَوَّر کوئی شخص نَظَر آتا۔ اِسلام نے عربوں کو جہاں دیگر مُتَمَدِّن قوموں کی طرح تہذیب و تَمَدُّن سے رُوشناس کرایا وہیں انہیں زیورِ عِلْم سے بھی آراستہ کیا جس کے لیے مُعَلِّمِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودَات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بَہُت سے اَقدامات کئے۔ ان ہی میں سے ایک سلسلۂ دَرْس و بیان بھی تھا۔اس کی بدولت مَرد حضرات تو عِلْم کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر سے سیراب ہونے لگے مگر ہَنُوز  (ابھی تک)  خواتین کی تِشْنَگی کا الگ سے کوئی مَعْقُول و مُنَاسِب اِنْتِظام نہ ہو سکا۔ بلکہ وہ اپنی عِلْمی پیاس بجھانے کیلئے خاص خاص مَوَاقِع مثلاً عِیْدَیْن وغیرہ میں حاضِری کی مُنْتَظِر رہتیں۔ یہی وجہ تھی کہ صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی عِلْمی تِشْنَگی روز بروز بڑھتی گئی اور ان کے دِلوں میں یہ خواہش شدید اَنگڑائیاں لینے لگی کہ ان کے لیے بھی ایسی مَحَافِل مُنْعَقِد ہونی چاہئیں جن میں صِرف اور صِرف اِنہی کی تعلیم و تَربِیَت کا اِہتِمام ہو۔ اس آرزو کا اِظْہَار اس وَقْت سامنے آیا جب ایک صحابیہ [5] نے خِدْمَتِ اَقْدَس میں حاضِر ہو کر باقاعدہ عَرْض کی کہ ان کے لیے بھی کچھ وَقْت خاص ہونا چاہئے جس میں وہ دین کی باتیں سیکھ سکیں۔ چُنَانْچِہ بقولِ مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان اس صحابیہ نے عَرْض کی:  (اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!) مَردوں نے آپ کا فَیضِ صُحْبَت بَہُت حاصِل کیا، ہر وَقْت آپ کی اَحادِیْثِ  (مُبارَکہ)  سنتے رہتے ہیں،ہم کو حُضُور  (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)  کی خِدْمَت میں حاضِری کا اتنا مَوْقَع نہیں ملتا،مہینہ میں یا ہفتہ میں ایک دِن ہم کو بھی عَطا فرمائیں کہ اس میں صِرف ہم کو وَعْظ و نصیحت فرمایا کریں۔[6] اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں وہ کچھ سکھائیں جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کو سکھایا ہے۔ چُنَانْچِہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں مَخْصُوص جگہ پر مَخْصُوص دن جَمْع ہونے کا حُکْم اِرشَاد فرمایا۔[7]

خواتین میں علم کی محبت کیسے پیدا ہوئی؟

پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! اس رِوایَت میں صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی دین سیکھنے سکھانے کے بارے میں کڑھن ان کی عِلْمِ دین سے مَحبَّت کا منہ بولتا ثُبُوت ہے۔ آخِر ان میں یہ شُعُور کیسے پیدا ہوا ؟  اگر غور کریں تو مَعْلُوم ہو گا کہ یہ سب حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہی نَظَرِ شَفْقَت کا نتیجہ تھا، کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس بات کا بخوبی اِدْرَاک تھا کہ عورت پر پوری نسل کی تعلیم و تَرْبِیَت کا اِنْحِصَار ہے۔ چُنَانْچِہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خواتین کو مُعَاشَرے میں جہاں بـحَیْثِـیَّت ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے عَظَمَت بخشی اور ان کے حُقُوق مُقَرَّر کیے وہیں ان کیلئے بہترین تعلیم و تَرْبِیَت کا اِہتِمام بھی فرمایا تا کہ یہ اپنی ذِمَّہ داریوں سے کَمَا حَقُّہٗ عُہْدَہ بَرآ ہوں اور ان کی گود میں ایک صِحَّت مند نسل تیّار ہو کہ بلاشبہ ماں کی گود



[1]         معجم اوسط،  باب الالف،  من اسمه احمد،  ۱ / ۴۹۷،  حدیث:۱۸۳۵

[2]         فتاویٰ رضویہ،  ۶ / ۲۲۱