Book Name:Bahar-e-Niyat

طرف نکل جاؤ۔ ([1])

آٹھویں نِیَّت

          مسجدجانےوالادنیاسےآخرت، خواہش کی تجارت سےتقوٰی کی تجارت، خسارے والے بازار سے رحمت ورضوان کے بازاراوردُنیوی دوستوں سےاُخروی دوستوں کی طرف جلدجانےکی نیت کرے ۔اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِؕ-  (پ۲۷، الذّٰرِیٰت: ۵۰)

ترجمۂ کنز الایمان: تو اللہکی طرف بھاگو۔

          نیزارشادِ باری تعالٰی ہے :

وَ  مَنْ  دَخَلَهٗ  كَانَ  اٰمِنًاؕ-  (پ۴، اٰلِ عمرٰن: ۹۷)

ترجمۂ کنز الایمان: اورجواس میں آئےامان میں ہو۔

خطرات اورہلاکتوں سےمحفوظ کون؟

       بعض مُفَسِّرِیْن نےاِس کی تفسیرمیں فرمایا: یہاں مرادمسجدیں ہیں۔ایک قول کےمطابق اِس سےمراد مَکّہ اور حرم شریف ہے۔ایک قول یہ ہے کہ اِس سے مراد جنّت ہےاوربندہ خطرات اور ہلاکتوں سے اُس وقت تک نجات نہیں پاسکےگا جب تک جنّت میں نہ پہنچ جائے۔ ([2])

بہترین جگہیں اوربہترین لوگ:

       حضورنَبِیِّ رَحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے: سب سےبہترین جگہیں مسجدیں ہیں اور سب سے بہترین لوگ اِنہیں آباد کرنےوالےوہ بندےہیں جو مسجدوں میں داخل سب سےپہلےہوتےہیں اورنکلتےسب سےآخرمیں ہیں۔ ([3])

ابلیس کےفتنےسےمحفوظ:

       بعض عُلَمائے کرام نےاِس فرمانِ باری تعالیٰ:

وَ  مَنْ  دَخَلَهٗ  كَانَ  اٰمِنًاؕ-  (پ۴، اٰلِ عمرٰن: ۹۷)

ترجمۂ کنز الایمان: اورجواس میں آئےامان میں ہو۔

       کی تفسیرمیں فرمایا: ایک قول کےمطابق یہاں مرادمسجدیں ہیں کہ جواِن میںداخل ہوجاتاہےوہ ابلیس اوراُس کےلشکر کےفتنہ سےمحفوظ ہوجاتاہےاوروہ اب اِس بندے کو گناہ میں مبتلاکرکے ہلاکت میں نہیں ڈال سکتے  اور بندے کے مسجد میں داخلے کے بعدلعنتی شیطان وسوسہ ڈالنے کے علاوہ کچھ نہیں کرپاتا۔ ([4])

          لہٰذابندہ اگر اِن سب کو دورکرکے جلد مسجد پہنچ جائے  تو اُسے بڑی کامیابی حاصل ہوجائےگی۔

مومن کوشیطان سےبچانےوالے قلعے:

          منقول ہےکہ مومن کوشیطان سےبچانےوالےچارقلعےہیں:  (۱) مسجدیں (۲) غور وفکرکےساتھ تلاوتِ قرآنِ کریم (۳) نماز (۴) دنیاسےبےرغبت عالِم کے چہرے کی زیارت۔بوقْتِ وسوسہ سب سےبہترعلاج غوروفکرکےساتھ تلاوت کرناہےکیونکہ  غوروفکرکےبغیرکچھ پڑھنازیادہ مفیدنہیں ہوتا۔

          کسی دانا (عقل مند) کاقول ہےکہ جب بندہ مسجدسے نکل کر اپنا پاؤں باہرکی زمین پر رکھتاہےتودنیاکی حلاوت اُس کےجسم میں موجود360رگوں میں پھیل جاتی ہےجیساکہ سانپ کےڈسنےپرجسم میں زہرپھیل جاتا ہے۔یہ بات کوئی معرفَتِ الٰہی رکھنے والا ہی تم پر واضح کرسکتاہے۔ ([5])  

مسجد جانےکی  نِیَّتَوں کاخُلاصہ

      (1) میں ربِ جلیل سےاُس کے گھر میں ملاقات کروں گا۔ (2) وہ عہد حاصل کروں گاجس کی بدولت بارگاہِ الٰہی میں بزرگی اورشفاعت کرنے والاہوجاؤں۔(3) جس اضافی انعام پرآخرت میں اہْلِ جنت حسرت کریں گےاُسےحاصل کروں گا۔ (4) اپنےمولیٰ تعالٰی کےگھرجلدی جانے، اَذان کےجواب میں تیزی اورحَقِّ غُلامی کی ادائیگی کےلیے سَبْقَت لے جانے کی کوشش کروں گا۔ (5) اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نےحضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامکی پُشت سےنکالتےوقت جوامانت لازم کی تھی وہ اُس تک پہنچاؤں گا۔ (6) اپنی نماز سےمسجدآبادکروں گاتاکہ اُن لوگوں میں سے ہوجاؤں جن کےایمان کیاللہ تعالٰی نےگواہی دی اورجن انعامات کااللہعَزَّ  وَجَلَّنے وعدہ فرمایا ہےان کےحصول کی نیت کرے،  یوں وہ اللہ والوں اور اُس کے خاص بندوں میں سےہوجائے گا۔ (7) نیکی کی دعوت دوں گااوربُرائی سےمنع کروں گا تاکہ اللہ تعالٰی کے اُن خاص بندوں میں سے ہوجاؤں جنہوں نے رضائے الٰہی کی طَلَب میں اپنی جانیں بیچ دیں۔ (8) دنیاسےآخرت اورنفسانی تجارت سےتقوٰی والی تجارت کی طرف جلدجانے کی کوشش کروں گا۔

مسجد جانے کی دعا:

                 (9) (مسجدکی طرف جانےکی دعاپڑھوں گا: ) اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِيْ قَلْبِيْ نُوْرًاوَّفِيْ لِسَانِيْ نُوْرًاوَّفِيْ سَمْعِيْ نُوْرًاوَّفِيْ بَصَرِيْ نُوْرًاوَّمِنْ فَوْقِیْ  نُوْرًاوَّمِنْ تَحْتِیْ نُوْرًاوَعَنْ یَّمِیْنِیْ نُوْرًاوَّ عَنْ شِمَالِیْ نُوْرًاوَّمِنْ اَمَامِیْ نُوْرًاوَّمِنْ خَلْفِيْ نُوْرًاوَّاجْعَلْ فِیْ نَفْسِیْ نُوْرًاوَّاعْظِمْ لِیْ نُوْرًاوَّ اجْعَلْ لِیْ نُوْرًاوَّوَاجْعَلْنِیْ نُوْرًا، اَللّٰھُمَّ اعْطِنِیْ نُوْرًاوَّاجْعَلْ فِیْ عَصَبِیْ نُوْرًاوَفِیْ لَحْمِیْ نُوْرًاوَّ فِیْ دَمِیْ نُوْرًاوَّفِیْ شَعْرِیْ نُوْرًاوَفِیْ بَشَرِیْ نُوْرًا، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ بِحَقِّ السَّائِلِیْنَ عَلَیْکَ وَ بِحَقِّ مَمْشَایَ ہَذَااِلَیْکَ وَبِحَقِّ



[1]   تاریخ مدینة لابن شبة،  باب ماکرہ من رفع الصوت... الخ،  ۱ / ۳۴

[2]   علم القلوب، باب نیة الاختلاف فی المسجد، ص۱۹۳

[3]   العظمة ،  ذکر حجب ربنا تبارک وتعالی،  ص۱۰۴،  حدیث: ۲۶۹

[4]   علم القلوب، باب نیة الاختلاف فی المسجد، ص۱۹۳

[5]   علم القلوب، باب نیة الاختلاف فی المسجد، ص۱۹۳



Total Pages: 54

Go To