Book Name:Bahar-e-Niyat

اپنےگھروں (مسجدوں) کو آبادکرنےوالوں، میری خاطرباہم محبت کرنےوالوں اورسحرکےوقت اِستغفار کرنے والوں  کو دیکھتا ہوں  تواُن سے اپنا عذاب روک لیتا ہوں۔ ([1])

          ایک روایت میں ہے: جب میں مسجدوں کومیرےذکرسےآبادکرنے والوں،  قرآنِ کریم کی تلاوت کرنےوالوں اورمسلمان بچوں کودیکھتاہوں تواُس وقت میرا غَضَب رُک جاتا ہے۔ ([2])

          ایک روایت میں ہے: میں جب میری خاطر بھوک پیاس اختیارکرنےوالوں کو دیکھتاہوں تواُن سے اپنا عذاب پھیرلیتا ہوں ۔ ([3])

ساتویں نِیَّت

          مسجدجانےوالااَمْرٌبِالْمَعْرُوْفاورنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر (یعنی نیکی کی دعوت دینےاوربُرائی سےمنع کرنے) کی نیت کرےتاکہاللہتعالٰی کےاُن خاص بندوں میں سےہوجائے جنہوں نےرضائےالٰہی کی طَلَب میں اپنی جانیں بیچ دیں تو بروزِقیامت اُن کےپاس اللہکریم  کی طرف سے خوشخبری آئے گی۔جیسا کہ اللہعَزَّ  وَجَلَّارشادفرماتا ہے:

اَلْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ  اللّٰهِؕ-وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ (۱۱۲)  (پ۱۱، التوبة: ۱۱۲)

ترجمۂ کنز الایمان: بھلائی کےبتانےوالےاور بُرائی سےروکنےوالےاوراللہکی حدیں نگاہ رکھنے   والےاورخوشی سناؤمسلمانوں کو۔

مسجدمیں نیکی کی دعوت دینےکےمواقع:

          جب بندہ مسجد میں اپنے مسلمان بھائیوں کو صفوں کی دُرُستی، رُکُوع وسُجُودکوپورا کرنے، پہلی صف کی طرف بڑھنے، جوتےدروازۂ مسجدپراُتارنےاورقیام میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنےوغیرہ باتوں کاحکم  دیتاہےاوریوں ہی جب وہ اِنہیں نماز میں اِدھراُدھر دیکھنے، قراءت میں آوازبلندکرنے، خُشُوع ترک کرنے، لوگوں کی گردنیں پھلانگنے،  مسجدمیں گمشدہ چیز تلاش کرنے، دنیا کی باتیں کرنے، ہنسی مزاح کرنے، فضول گوئی کرنے، مذاق اڑانے، خریدوفروخت اورجھگڑے وغیرہ سےمنع کرتا ہےتووہ نیکی کا حکم دینےاوربُرائی سے منع کرنے والوں کے حصوں سےوافر حصہ پالیتا ہے۔

مساجدکواِن کاموں سےبچاؤ:

          حضرت سیِّدُناابواُمامہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہےکہ  مُعلّمِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےمنبرشریف پرارشادفرمایا: اپنی مساجدکوبچوں، پاگلوں،  جھگڑوں، آوازیں بلند کرنے، تلواریں  کھینچنےاورحُدودقائم کرنے سےبچاؤاورہرجمعہ کو اِن میں خوشبوسلگایاکرو۔ ([4])

          نیزحضورنَبِیِّ رَحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےمسجدمیں گم شدہ شےکااعلان کرنےاوراِس میں (خلافِ شرع) شعر پڑھنے سے منع فرمایاہے ([5]) اورکوئی گم شدہ چیزکا اعلان کرےتوسننےوالےکوحکم دیاکہ وہ یوں کہے: ”اللہ تعالٰی تجھےوہ چیزنہ ملائے۔“ ([6])

          اورشعرپڑھنےوالےسےیوں کہنےکاحکم دیا: اللہتعالٰی تیرےدانت گرائے، تُو ٹھیک طرح سےبول نہ سکے ([7]) ۔ ([8])

حکایت: اےسانپ کےبچو!

          حضرت سیِّدُناعیسیٰ بن مریمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاملوگوں کے ایک گروہ کے پاس آئےجومسجد میں خریدوفروخت کررہےتھےتوآپ نےاپنی چادرکو بَل دیئےاور انہیں اُس سےمارتےہوئےفرمانےلگے: اےسانپ کےبچو!تم نےاللہعَزَّ  وَجَلَّکی مسجدوں کوبازار بنالیا، یہ تو آخرت کے بازارہیں۔ ([9])

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو ان سےکوئی کام نہیں:  

          اللہعَزَّ  وَجَلَّکےپیارےحبیب، حبیْبِ لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: اِن مساجد کی حفاظت  وہی شخص کرتا ہےجس سے اللہتعالٰی راضی ہواورجس سے اللہعَزَّ  وَجَلَّ راضی ہوگیا اُس کے لیے جنت ہے ([10])  اور عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ مسجدوں میں تو جایا کریں گے مگر اُن کامقصدصرف دنیا کی باتیں ہوگالہٰذا جب وہ زمانہ آئے تو تم ایسے لوگوں کے ساتھ مت بیٹھنا کیونکہ اللہعَزَّ  وَجَلَّ کو اُن سے کوئی کام نہیں۔ ([11])

مساجدکی تعمیرکامقصد:

                امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےکچھ لوگوں کو مسجد میں کاروبارکی باتیں کرتےسناتوفرمایا: یہ مسجدیںاللہعَزَّ  وَجَلَّکےذکرکےلیےبنائی گئی ہیں، اگرتمہیں اپنی تجارت کی  یا دنیا کی باتیں کرنی ہوں تو بقیع کی



[1]   شعب الایمان،  باب فی الصلوات،  فصل المشی الی المساجد، ۳ / ۸۲،  حدیث: ۲۹۴۶

[2]   الزھدلاحمد، بقیة زھدعیسیعلیہ السلام، ص۱۲۹، رقم: ۵۰۰، بتغیرقلیل

[3]   التبصرة لابن جوزی،  المجلس الثالث فی ذکر الارض وعجائبھا،  ۲ / ۱۹۶

[4]   ابن ماجہ،  کتاب المساجد،  باب مایکرہ فی المساجد، ۱ / ۴۱۵،  حدیث: ۷۵۰

[5]   ابن ماجہ،  کتاب المساجد،  باب النھی عن انشاد الضال فی المسجد،  ۱ / ۴۲۳،  حدیث: ۷۶۶

[6]   مسند بزار،  محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان عن ابی ھریرة،  ۱۵ / ۴۷،  حدیث: ۸۲۶۰



Total Pages: 54

Go To