Book Name:Bahar-e-Niyat

عذاب سےچھٹکارا:

          حضورنَبِیِّ اَکرم، شفِیْعِ مُعَظَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: اللہتعالٰی ارشادفرماتاہےکہ میرابندہ میری طرف سےفرض کیےگئےعمل کوبجالا کر ہی مجھ (یعنی میرےعذاب)  سے بچ سکےگا۔ ([1])

قُربِ الٰہی کیسےحاصل ہو؟

          ایک روایت میں ہےکہاللہعَزَّ  وَجَلَّارشادفرماتاہے: میراقُرب چاہنےوالےفرائض کی ادائیگی کی مثل کسی اور عمل سے میرا قرب نہیں پاسکتے ۔ ([2])

عظیم امانت کی ادائیگی کاوقت:

          امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمجب نمازکے لیے اَذان کی آواز سنتےتوآپ کا رنگ مُتَغَیر ہوجاتااورجسم پرکپکپی طاری ہوجاتی۔آپ سےاِس بارے میں عرض کی جاتی توفرماتے: اُس عظیم امانت کی ادائیگی کاوقت آگیاجسےاللہ تعالٰی نے زمین اور آسمانوں پر پیش کیا تو اُنہوں نے اِس کے اٹھانے سے انکار کردیااور ڈرگئےمگرانسان نےاِسےاٹھالیابےشک یہ اپنی جان کومَشَقَّت میں ڈالنے والااورامانت کی قَدْر سے ناواقف ہےتواب ہم نہیں جانتےکہ اِسے  کماحَقُّہٗ ادا کرسکیں گے یانہیں۔ ([3])

نمازکےوقت فرشتوں کی پکار:

          امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصِدِّیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرمایا کرتےتھے: جب بھی نمازکاوقت آتاہےتوفرشتےیوں پکارتےہیں: اےمسلمانوں کےگروہ!اُس آگ کی طرفاٹھوجسے تم نے اپنی جانوں کے لیے بھڑکا رکھاہےپس اِسے نماز کے ذریعے بجھادو۔ ([4])

          منقول ہےکہ جب مُؤَذِّن اَذان دیتاہےتوتمام  چوپائےاورپرندےاپنےکانوں کواُس کی جانب لگادیتےہیں اورانسانوں اور جنات کے علاوہ ہر شےاُس کے لیے عاجزی وانکساری کرتی ہے۔  ([5])

سیِّدُناعلی رَضِیَ اللہُ عَنْہ اورنماز:

          امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمجب نماز شروع فرماتے تو آپ پر کپکپی اور خوف طاری ہوجاتا۔جب اِس بارے میں آپ سے عرض کی جاتی تو فرماتے: یہ اللہ تعالٰی کے فرائض میں سے  ایک فرض ہے ، میں نہیں جانتا کہ یہ مجھ سے قبول کیا جائے گا یا میرے منہ پر مار دیا جائے گا۔ ([6])

چھٹی نِیَّت

          مسجدجانےوالااپنی نمازسےمسجدکوآبادکرنےکی نیت کرےتاکہ وہ اُن میں سے ہوجائے جن کےایمان کیاللہ تعالٰی نےگواہی دی اورجن انعامات کا اللہعَزَّ  وَجَلَّنے وعدہ فرمایاہےان کےحصول کی نیت کرے، یوں وہ اللہوالوں اوراُس کےخاص بندوں میں سےہوجائےگا۔جیسا کہ

کامل مومن کی علامت:

          حضورتاجدارِخَتْمِ نَبُوَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا: جب تم کسی شخص کومسجدآتاجاتادیکھوتواُس کےایمان کی گواہی دو۔ ([7]) کیونکہاللہتعالٰی ارشاد فرماتاہے:

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ  (پ۱۰، التوبة: ۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اللہکی مسجدیں وہی آباد کرتےہیں جواللہاورقیامت پرایمان لاتے  (ہیں) ۔

اللہ والے:

          رَسُوْلِ مُکَرَّم، نَبِیِّ مُحْتَرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: اللہعَزَّ  وَجَلَّکے گھروں کو آباد کرنے والے ہی اللہ والے ہیں۔ ([8])

نورمیں ڈوبےہوئے:

          حضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتےہیں کہ بروزِقیامت ایک پکارنےوالاپکارےگا: سورج کی رعایت کرنےوالےکہاں ہیں؟اُس وقت مُؤَذِّنِیْن کو لایاجائےگاپھرپکاراجائےگا: میرےپڑوسی کہاں ہیں؟توفرشتےکہیں گے: کون ہےجو پڑوسی ہوسکے؟فرمایاجائےگا: میری مسجدوں کوآبادکرنےوالےکہاں ہیں؟تووہ نور میں ڈوبے  ہوئے آئیں گےاور نور کے منبروں  پر بیٹھیں گے۔ ([9])

مساجدآبادکرنےوالوں کامقام ومرتبہ:

                حضرت سیِّدُنااَنس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہےکہ حضورتاجدارِ مدینہ، راحَتِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا: اللہتعالٰی ارشادفرماتا ہے کہ میں اپنی مخلوق کو عذاب دینے کااِرادہ کرتاہوں مگرجب



[1]   قوت القلوب، الفصل الثالث والثلاثون فی ذکردعائم الاسلام...الخ، ۲ / ۱۷۰

[2]   مسند بزار،  ماروی شریک بن ابی نمر عن عطا، ۱۵ / ۲۷۰،  حدیث: ۸۷۵۰

[3]   تنبیہ الغافلین،  باب اتمام الصلاة والخشوع فیھا، ص ۲۹۱

[4]   علم القلوب، باب نیة الاختلاف فی المسجد، ص۱۹۰

[5]    علم القلوب، باب نیة الاختلاف فی المسجد، ص۱۹۰

[6]    علم القلوب، باب نیة الاختلاف فی المسجد، ص۱۹۰

[7]   ترمذی،  کتاب الایمان،  باب ماجاء فی حرمة الصلاة،  ۴ / ۲۸۰،  حدیث: ۲۶۲۶

[8]