Book Name:Bahar-e-Niyat

مسجدکی طرف چل کرجانےکی فضیلت:

          منقول ہےکہ  جب بندہ مسجد کےاِرادے سے اپنے گھر سے نکلتا ہے توزمین کے جن حصوں پراُس کےپاؤں پڑتےہیںاللہعَزَّ  وَجَلَّبروزِقیامت تحْتَ الثّریٰ تک اُن حصوں کو اُس بندے کے نیکیوں والے پلڑے میں رکھےگا۔ ([1])

چوتھی نِیَّت

          مسجدجانےوالااپنےمولیٰ تعالٰی کےگھرجلدی جانے، اَذان کےجواب (یعنی جماعت کے لیے مسجد پہنچنے) میں تیزی اورحَقِّ غلامی کی ادائیگی کے لیےسَبْقَت لے جانے کی نیت کرےتاکہ اُسےبہت سااجروثواب حاصل ہوکیونکہ ایسا نہیں ہے کہ بلاوے سے پہلے آنے والا ملاقات کرنے والانہیں ہوتا۔

       اللہ تبارک وتعالٰی ارشاد فرماتا ہے:

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ  (پ۲۷، الحدید: ۲۱)

ترجمۂ کنز الایمان: بڑھ کرچلواپنےربّ کی بخشش  (کی طرف) ۔

          اِس آیَتِ طَیِّبَہ کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے : یعنی مساجد کی طرف بڑھ کر چلو (سَبْقَت کرو) کیونکہ مسجدوں میں تمہیں اپنے ربّ تعالٰی کی بخشش حاصل ہوگی۔ ([2])

          ایک مقولہ ہے: ”تم ہرگز بُرے غلام کی طرح نہ بننا جو اپنے آقا کے پاس صرف بلانے پر ہی آتا ہے۔“پس تم نماز کے لیے بلاوے سے پہلے پہنچ جاؤ۔ ([3])

اچھےاوربُرےاُمَّتی:

          ایک روایت میں ہےکہ وہ اُمتی بُرےہیں جو (نمازکےلیے) اِقامت کاانتظار کرتے ہیں اوروہ اُمتی اچھےہیں جواَذان سےپہلےہی نمازکےلیےحاضرہوجاتےہیں۔ ([4])

نمازکااِحترام:

          اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ طَیِّبَہ طاہِرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ حضورنَبِیِّ رَحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہم سےباتیں کررہےہوتےاور ہم میں سے کسی کی طرح گھر میں کام کر رہےہوتے، پس جیسےہی اَذان سنتےتویوں  کھڑےہوجاتے گویاہمیں جانتےہی نہ ہوں اور یہ نمازکے اِحترام میں مشغولیت کی وجہ سےہوتا۔ ([5])

       امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنےفرمایا: جس نے”حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ“کی  پکارسنی اور بغیر کسی عُذرکے جماعت کے لیے حاضر نہ ہوا اُس کی نماز قبول نہیں ہوگی ([6]) ۔ ([7])

نمازیوں کاجنّت میں داخلہ:

       منقول ہے کہ قیامت کے دن مختلف نمازیوں کو گروہ در گروہ جنت کی طرف لایا جائےگا۔پہلاگروہ جب آئےگاتواُن کےچہرےاِنتہائی چمکدارستاروں جیسےہوں گے،  فرشتے اُن سے مل کر پوچھیں گے: تم کون ہو؟ وہ کہیں گے:  ہم نمازی ہیں۔ وہ پوچھیں گے: تمہاری نماز کاکیا حال تھا؟ وہ کہیں گے: ہم اَذان سنتے ہی وضو کرلیتےتھے اورکسی  دوسرےکام میں مشغول نہیں ہوتےتھے۔فرشتےکہیں گے: تم اِسی کےمستحق ہو۔پھر دوسراگروہ آئےگا جن کا حسن وجمال پہلےگروہ سے بڑھ کرہوگا، اُن کےچہرے چودھویں کےچاند کی مانندچمکتےہوں گے، فرشتےپوچھیں گے: تم کون ہو؟وہ کہیں گے:  ہم نماز پڑھنے والے ہیں۔ وہ پوچھیں گے:  تمہاری نماز کا کیا حال تھا؟ تو وہ کہیں گے: ہم نماز کا وقت شروع ہونے سے پہلے ہی نمازکے لیے وضو کرلیا کرتے تھے۔ فرشتے کہیں گے:  تم اِسی کےمستحق ہو۔پھرتیسراگروہ آئے گاجوحسن وجمال میں دوسرےگروہ سے بھی بڑھ کرہوں گے اور اُن کے چہرے آفتاب کی طرح روشن ہوں گے۔فرشتے پوچھیں گے: تمہارے چہرے سب سے حسین ہیں ، تمہارا مقام سب سے اعلیٰ اور تمہارا نورسب سے بڑھ کر ہے، تم کون ہو؟تو وہ کہیں گے:  ہم نمازی ہیں ۔وہ پوچھیں گے:  تمہاری نماز کیسی تھی؟ جواب دیں گے: جس وقت ہمیں اَذان سنائی دیتی تھی  ہم پہلے ہی سے مسجد میں موجودہوتے تھے۔فرشتے کہیں گے:  تم اِسی کےمستحق ہو۔ ([8])

فرشتےخوش نصیبوں کےنام لکھتےہیں:

          حضرت سیِّدُناابواُمامہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا: زمین میںاللہتعالٰی کے کچھ سیاحت کرنےوالےفرشتےہیں جن کےساتھ جھنڈےہوتےہیں، وہ اِن جھنڈوں کومساجد کےدروازوں پرگاڑدیتےہیں اوروہ مسجدمیں آنےوالوں کےنام لکھتےہیں کہ کون پہلے آیا اور کون بعد میں۔ ([9])

پانچویں نِیَّت

          مسجدجانےوالااللہ تعالٰی کووہ امانت پہنچانےکی نیت کرےجسےاللہکریمعَزَّ  وَجَلَّ نےاُس پر حضرت سیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلَامکی پشت سے نکالتے وقت لازم فرمایاتھااوراُس نےاِس پرگواہی بھی دی تھی۔لہٰذاوہ اِس فرض کی ادائیگیاللہ تعالٰی کی محبوب ترین  جگہوں میں کرے اور وہ مسجدیں ہیں۔

 



[1]   علم القلوب، باب نیة الاختلاف فی المسجد، ص۱۸۸

[2]   علم القلوب، باب نیة الاختلاف فی المسجد، ص۱۸۹

[3]   علم القلوب، باب نیة الاختلاف فی المسجد، ص۱۸۹

[4]   علم القلوب، باب نیة الاختلاف فی المسجد، ص۱۸۹

[5]   احیاء العلوم،  کتاب اسرار الصلاة ومھماتھا،  الباب الاول فی فضائل الصلاة...الخ، ۱ / ۲۰۵

[6]   (مرادیہ ہےکہ)’’اس کی نمازقبول نہیں یاکامل نہیں اس حدیث سےمعلوم ہواکہ مسجدکی حاضری وہاں تک کہ لوگوں پرواجب ہےجہاں تک اذان کی آوازپہنچے، اس کےماسواسےمسجدمیں آنابھی بڑی اعلیٰ عبادت ہے۔یہ احکام جب ہیں جب وہاں کاامام بدمذہب نہ ہو۔(نیز)اذان کی آوازپہنچنےسے مرادآج کل کےلاؤڈاسپیکرکی آوازنہیں(کہ)یہ دودومیل تک پہنچ جاتی ہے۔‘‘ (مراٰۃ المناجیح، ۲ / ۱۶۹،  ۱۷۸، ملتقطا)

[7]   ترمذی، کتاب الصلاة، باب ماجاء فیمن یسمع النداءفلا یجیب، ۱ / ۲۵۷، حدیث: ۲۱۷، بتغیرقلیل

[8]   قوت القلوب، الفصل الثالث والثلاثون فی ذکردعائم الاسلام...الخ، ۲ / ۱۶۸

[9]   مسند احمد،  مسند علی بن ابی طالب،  ۱ / ۲۰۱،  حدیث: ۷۱۹،  بتغیر قلیل،  عن علی



Total Pages: 54

Go To