Book Name:Bahar-e-Niyat

’’ لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ ‘‘ کےبعدسب سےاچھاکلام:

          حضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسےمروی ہے کہ حضور تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: جب مسلمان مسجدمیں داخل ہوکریہ کہتاہے: ”بِسْمِ اللہِ وَبِاللہِوَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِاللہِ وَعَلَیْہِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللہِ یعنیاللہعَزَّ  وَجَلَّکے نام سے شروع اوراللہتعالیٰ (کی مدد) کےساتھ اوررَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر درودوسلام نازل  ہواور آپ پر سلامتی ہواور اللہ کی رحمت۔“تو اُس سےدوفرشتےکہتےہیں: اللہتعالٰی تجھ پررحمت نازل فرمائےکہ تونے لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ“کے بعد سب سے اچھا کلام کیا ہے۔ ([1])

دوسری نِیَّت

          مسجدجانے والا یہ نیت کرےکہ میرے عمل کی بدولت مجھے ربّ تعالٰی کی بارگاہ سے عہدمل جائے تاکہ  وہ بارگاہِ الٰہی میں بزرگی اور شفاعت والوں میں سے ہوجائے ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے:

لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ   اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ (۸۷) (پ۱۶، مریم: ۸۷)

ترجمۂ کنز الایمان: لوگ شفاعت کےمالک نہیں مگروہی جنھوں نےرحمٰن کےپاس قرار کررکھاہے۔

       اِس آیَتِ مبارَکہ کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے: اِس  قرار (عہد) سےمرادجماعت کے ساتھ نماز ہے۔ ([2])

عذاب سےمحفوظ ومامون:

       حضرت سیِّدُناابوسعیدخُدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتےہیں کہاللہعَزَّ  وَجَلَّکے پیارےحبیب، حبیْبِ لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے  پاس تشریف لائے، اُس وقت ہم سات اَفرادتھے، آپ نےارشادفرمایا: کیاتم جانتےہوکہ تمہارےربّعَزَّ  وَجَلَّ نےکیافرمایا ہے؟ہم نے عرض کی: اَللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمیعنی اللہ تعالٰی اوراُس کارَسُوْلصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہترجانتےہیں۔فرمایا: بےشک تمہاراربّعَزَّ  وَجَلَّارشادفرماتاہے:  جس نےاپنے گھرمیں وضوکیاپھرنمازکےحق کی تعظیم، اُس کی رغبت اوردوسری چیزوں پراُسے ترجیح دیتے ہوئے نماز کےلیےچلاتو اُس کےلیےمیرےپاس عہدہےکہ میں اُسے کبھی عذاب نہ دوں گا۔ ([3])

تیسری نِیَّت

       مسجدجانےوالااُس اضافی اِنعام کی نیت کرےجس پرآخرت میں اَہْلِ جنَّت حسرت کریں گےجیسا کہ مروی ہے، حضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے عرض کی گئی: کیا جنَّت والے جنَّت میں داخل ہونے کے بعد کسی شے کی حسرت کریں گے؟آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا: جنتیوں کوجنت میں داخلےاوردائمی نعمتیں ملنےکے بعدصرف اس پرحسرت ہوگی کہ کاش!وہ مسجدکی طرف آمدورفت رکھنے میں مزید اضافہ کرلیتے۔ ([4])

       اے عمل کرنے والے! ندامت وافسوس سے پہلے پیش قدمی کرکیونکہ ندامت تجھے نفع نہیں دے گی، تم لوگوں کی اُس سَعی  کےمُتَعَلِّق کیا گمان کرتے ہو کہ اَہْلِ جنَّت  اُس سےمحروم ہونےپرحسرت میں مبتلاہوں گےحالانکہ وہ عظیم بادشاہ کےجوارِ رحمت میں نعمتوں اوربزرگیوں سے مالا مال ہوں گے۔

صبح وشام مسجدجانےکی فضیلت:

       حضورنَبِیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاِرشادفرمایا: جوصبح یا شام مسجدکی طرف جائےگااللہ تعالٰی اُس کے لیے ہربارکے جانےپرجنت کی مہمانی کاسامان بنائےگا۔ ([5])

       ایک بزرگ کا معمول تھاکہ وہ جب عشاکی نمازکےبعد اپنے گھرجاتے تو اکثر فرمایا کرتے:  ہم شب وروزصبح شام  مسجد جاتےہیں مگر عنقریب نہ صبح کو جاسکیں گے نہ شام کو جاسکیں گے۔ ([6])

کَفّارات:

       حضورنَبِیِّ اَکرم، شفیْعِ اَعظمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرماتےہیں: شبمعراج اللہعَزَّ  وَجَلَّنےمجھ سےفرمایاکہ ملاءِ اَعلیٰ (مقربین فرشتے) کس بات میں جھگڑرہےہیں؟میں نےعرض کی: میں نہیں جانتا۔پھر اللہعَزَّ  وَجَلَّنےاپنادست قدرت میرےدونوں کاندھوں کےدرمیان رکھاجس کی ٹھنڈک میں نےاپنےسینےمیں محسوس کی اورمیں نے زمین وآسمان میں موجودہرچیزکوجان لیا۔اللہتعالٰی نےپھرفرمایا: اےمحبوب!ملاءِ اعلیٰ کس بات میں جھگڑرہےہیں؟میں نےعرض کی: ہاں، اےمیرےربّعَزَّ  وَجَلَّ!کفّارات کےبارےمیں جھگڑرہےہیں اورکفّارات یہ ہیں:  (۱) …نمازکےلئےمسجدمیں ٹھہرنا  (۲) …مساجدکی طرف  چل کرجانا (۳) …مَشَقَّت کےوقت کامل وضوکرنا([7])۔ ([8])

 



[1]   ابن ماجہ، کتاب المساجد، باب الدعاءعند دخول المسجد، ۱ / ۴۲۵، حدیث: ۷۷۱،  دون قول الملائکة، عن فاطمة بنت رسول اللّٰہ

[2]   علم القلوب، باب نیة الاختلاف فی المسجد، ص۱۸۸

[3]   معجم کبیر،  ۱۹ / ۱۴۲،  حدیث: ۳۱۲،  بتغیر،  عن کعب بن عجرة

[4]    علم القلوب، باب نیة الاختلاف فی المسجد، ص۱۸۸

[5]    مسند بزار،  عطاء بن یسار عن ابی ھریرة،  ۱۵ / ۲۵۱،  حدیث: ۸۷۱۲

[6]    علم القلوب

Total Pages: 54

Go To