Book Name:Bahar-e-Niyat

اللہ عَزَّ  وَجَلَّکےفیصلےپرراضی رہوں گا۔  (12) …اللہتعالٰی کےعظیم فضل و قدرت  کویادکروں گااوریاددِلاؤں گا۔  (13) …ذکرِالٰہی کروں گااوراس کے درپے رہوں گا۔  (14) …ایسی جگہوں پرجاؤں گاجوقدرتِ باری تعالٰی کی یاددِلاتی ہیں۔ (15) …اُن کودرپیش کاموں میں مدد کروں گا۔ (16)…ظاہری وباطنی غم خواری کروں گا۔  (17) …وہ تمام نیتیں رکھوں گاجواللہعَزَّ  وَجَلَّکےنیک بندےکرتےہیں۔ (18) …انہیں فائدہ پہنچاؤں گااوراُن سے فائدہ حاصل بھی کروں گا۔ (19) …عِلْمِ دین عام کروں گا۔  (20)…انہیںاللہتعالٰی کی اطاعت وفرمانبرداری کی طرف  بُلاؤں گا۔ (21) …لوگوں کےساتھ خوش خُلْقی کامظاہرہ کروں گا۔ (22) …لوگوں کی رہنمائی کروں گا۔  (23) …انہیں نصیحتیں  کروں گا۔ (24) …اُن کی طرف سے پہنچنےوالی اذیت پرصبر کروں گا۔ (25) …اپنی عزت لوگوں کےلئےمباح کردوں گاکہ اگرکوئی بےعزتی کرےگاتواس سےالجھوں گانہیں۔ (26) …علم سیکھ کر اُس پرعمل کروں گا۔  (27) …اپنےسارےدن میں حضورنَبِیِّ پاک، صاحِبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِتِّباع کروں گا۔ (28) …لوگوں سےکسی اندیشےکے پیْشِ نَظَرسرکوجھکاکررکھوں گا۔ (29) …اپنےارادےکوپختہ رکھوں گا۔ (30) …طویل خاموشی اختیار کروں گا۔ (31) …اپنے اعضائے بدن کو پُرسکون رکھوں گا۔  (32) …اَحکام کی پیروی میں سبقت کروں گا۔ (33) …تقدیرپراعتراض نہیں کروں گا۔ (34) …ہمیشہ غور وفکر کرتا رہوں گا۔ (35) …اللہ کریم کے فضل وکرم پر بھروسا رکھوں گا۔

       حضرت سیِّدُناامام حدَّادعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَادفرماتےہیں: اللہتعالٰی تم پررحم فرمائے،  نیت کا اچھا رکھنا اور اُس کا خالص اللہعَزَّ  وَجَلَّکے لیے ہونا تم پر لازم ہے ۔

       آپ نےاپنی کتاب”اَلْحِکَم“میں فرمایا: ”مَنْ اَصْلَحَ نِیَّتَہٗ بَلَغَ اُمْنِیَّتَہٗیعنی جس نے اپنی نیت اچھی کرلی وہ اپنی آرزوؤں کو پہنچ گیا۔“ ([1]) اِسی مفہوم کی ایک بات آپ نے یہ فرمائی: ”اِذَاصَلُحَتِ الْمَقَاصِدُلَمْ یَخِبَّ الْقَاصِدُیعنی  جب اِرادےاچھےہوں توقاصد خیانت نہیں کرتا۔“ ([2]) اورہمارےہاں عوام کہتی ہے: اَلنِّیَّۃُ مَطِیَّۃٌیعنی نیت سواری ہے۔ اور”مَطِیَّۃ“کی جمع”مَطَایَا“آتی ہےاوریہ وہ اونٹ ہوتےہیں جن کوسفر کےلیے تیار کیا جاتا ہے۔

سفر کی11نِیَّتَیْں

           (1) …سفرکےمُتَعَلِّق حکْمِ نبوی  کی پیروی کروں گا۔ (2) …ظاہری وباطنی رِزق تلاش کروں گا۔ (3) …حلال روزی  حاصل کروں گا۔  (4) …اِن تمام باتوں میں رضائے ربُّ الاَنام کو پیْشِ نظر رکھوں گا۔ (5) …جہاں جارہا ہوں وہاں کے نیک لوگوں کی زیارت کروں گا۔ (6) …اُن بزرگوں کی برکتیں حاصل کروں گا۔ (7) …سفر میں جوعلم حاصل ہوگااُس سےبندوں کونفع پہنچاؤں گا۔ (8)…ناواقِفَوں کوعلم  سیکھاؤں گا۔ (9)…گمراہ لوگوں کی دُرُست سَمْت میں رہنمائی کروں گا۔ (10) …حدیث شریف میں سفرسےصحت کےملنےکاذکرہے، اُسےحاصل کروں گا۔ (11) …ظاہری وباطنی بیماریوں سےشفاحاصل کروں گا۔

       یہ  کلام  حضرت سیِّدُناشیخ علی  بن محمدحَبَشِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکی کتاب ”وَقَفَاتٌ تَاَمُّلِیَّۃ عَلٰی جَانِبِ الْوَصَایَاوَالْاِجَازَاتِ الْحَبْشِیَّۃ“سے لیا گیا ہے۔

سفر کی دعا:

       حضورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسفرپرروانہ ہوتےتویوں کہتے: اَللہُ اَکْبَرُ،  اَللہُ اَکْبَرُ، اَللہُ اَکْبَرُ، سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَاہٰذَاوَمَاکُنَّالَہٗ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّااِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ،  اَللّٰھُمَّ اِنَّانَسْاَلُکَ فِیْ سَفَرِنَاہٰذَاالْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَاتَرْضٰی، اَللّٰھُمَّ ہَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَاہٰذَاوَاَطَوِعْنَابُعْدَہٗ، اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِوَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْاَھْلِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَّعْثَاءِ السَّفَرِوَکَابَۃِ الْمَنْظَرِوَسُوْ ءَ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَھْلیعنیاللہعَزَّ  وَجَلَّ سب سےبڑاہے، اللہعَزَّ  وَجَلَّسب سےبڑا ہے، اللہعَزَّ  وَجَلَّ سب سے بڑا ہے۔پاک ہےوہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں کردیا اور یہ ہمارے  قابو میں آنے کی نہ تھی اور ہم اپنے رب عَزَّ  وَجَلَّکی طرف لوٹنے والے ہیں۔اے اللہعَزَّ  وَجَلَّ!ہم اپنےاِس سفرمیں تجھ سےنیکی، تقوٰی  اورایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جو تجھے پسند ہو۔اے اللہعَزَّ  وَجَلَّ!ہمارے اِس سفرکوہم پرآسان فرمااوراِس کی مسافت کوہمارےلیےکم کردے۔اےاللہعَزَّ  وَجَلَّ! سفر میں تو ہی حفاظت فرمانے والا ہے اورگھر والوں کا نگہبان ہے۔اے اللہعَزَّ  وَجَلَّ!میں سفر کی مشقتوں ، بُرےانتظار اورمال وگھر والوں میں بُری واپسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں  ۔

       آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب سفرسےواپس لوٹتےتویہی کلمات فرماتے اور اتنےالفاظ بڑھادیتے: اٰئِیْبُوْنَ، تَائِبُوْنَ، عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَاحَامِدُوْنیعنی ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے رب عَزَّ  وَجَلَّکی حمدوثنا کرنے والے ہیں۔ ([3])

 (صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب                                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد)

سیِّدُناہُودعَلَیْہِ السَّلَام کےمزارکی زیارت کی49نِیَّتَیْں

       زیارت کےلیے جانے والے جب تم ارادہ کرلو تو اپنے گمان کو اچھا کرو، دل میں مزارپاک کی عظمت کو بٹھاؤ اور زیادہ سے زیادہ اچھی نیتیں کرو جو تمہیں ربِّ کریم کا قُرب عطاکریں۔

            بزرگوں نےاللہعَزَّ وَجَلَّکےمُقَدَّس نبی حضرت سیِّدُناہودعَلَیْہِ السَّلَامکےمزارمبارک  کی زیارت  کے متعلق بہت ساری اچھی نیتیں  اور اچھے مقاصد تحریر فرمائے ہیں،  تم ان نیتوں اور مقاصد



[1]   کتاب الحکم للحداد، ص۲۲

[2]   کتاب الحکم للحداد، ص۲۲

[3]   مسلم،  کتاب الحج،  باب ما یقول اذا رکب  الی سفر الحج وغیرہ،  ص۵۳۸،  حدیث: ۳۲۷۵



Total Pages: 54

Go To