Book Name:Bahar-e-Niyat

تِہائی علم:

          یہ حدیْثِ پاک اُن احادیث میں سےہےجن پردین کامدارہے۔حضرت سیِّدُنا امام شافعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا: یہ حدیْثِ پاک تِہائی علم ہےاورفِقَہ کے70اَبواب میں داخل ہے۔([1])

نِیت کےمتعلق اَسلاف کےاَقوال:

 (1) حضرت سیِّدُنایحییٰ بن کثیرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْرفرماتےہیں: نیت کوسیکھوکہ یہ عمل سے زیادہ پختہ ہوتی ہے۔ ([2])

 (2) حضرت سیِّدُنا زید شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِیفرماتے ہیں: مجھے یہ پسند ہے کہ میرے لیے ہر شے میں کوئی نہ کوئی نیت  ہوحتّٰی کہ کھانے اور پینے میں بھی۔ ([3])

 (3) حضرت سیِّدُناداؤدطائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں: میں نےیہی دیکھاہے کہ ساری بھلائی کو اچھی نیت ہی جمع کرتی ہے۔ ([4])

 (4) سلف صالحین سےمنقول ہےکہ جسےیہ پسندہوکہ اس کےعمل کوپایَۂ تکمیل تک پہنچادیاجائےتووہ اپنی نیت اچھی کرے۔ ([5])

 (5) حضرت سیِّدُنااِبْنِ مُبارَکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں: بہت سےچھوٹےاَعمال کو نیت بڑا کردیتی ہے اور بہت سے بڑےاعمال کو نیت چھوٹاکردیتی ہے۔ ([6])

 (6) حضرت سیِّدُنا امام حدَّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَادفرماتے ہیں:

وَلِصَالِحِ النِّیَّاتِ کُنْ مُّتَحَرِّیًا                                                                                مُّسْتَکْثِرًامِّنْہَا وَرَاقِبْ وَاخْشَعْ

          ترجمہ: اچھی نیتوں کی جستجوکرنےاوراُن میں اضافہ کرنے والےبنواورنگہبانی کرواور ڈرتے رہو۔

          حضرت سیِّدُناامام  احمدبن زَیْن حَبَشِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینےاِس شعر کی کامل شرح  لکھی ہے جو چاہے اُس کا مطالعہ کرلے۔سلف صالحین اپنی اولادکو نیت کی تعلیم اِس طرح دیتےتھے جیسےوہ انہیں سورۂ فاتحہ سکھاتے تھے۔

مسجدجانےکی آٹھ نِیَّتَیْں

          مساجد کی طرف آمدورفت پرہیزگاروں کےاعمال میں نعمَتِ عُظْمٰی کی حیثیت رکھتی ہےاور اِس کے سبب اللہ تعالٰی نے مؤمنوں کا ایمان ظاہر فرمایا ہے۔بندۂ مومن کوچاہیے کہ جب گھرسے مسجدمیں جانے کےاِرادے سے نکلے تو آٹھ طرح کی مستحب نیتیں کرلے تاکہ اُس کے لیے فضْلِ عظیم لکھاجائےاوروہ قیامت میں بڑےثواب   کا مستحق ٹھہرے کیونکہ اعمال نیتوں کے ساتھ ہیں اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اُس نے نیت کی اور ہر فضیلت والے کو اُس کا فضل  پہنچایا جائےگا۔

پہلی نِیَّت

          مسجدجانےوالاربِّ جلیلعَزَّ  وَجَلَّکےگھرمیں اُس  سےملاقات کی نیت کرے کیونکہ مساجد اللہکریم کے گھرہیں اورتم اللہ تعالٰی کےبندےہواوربندہ جب کسی گھروالے سےملاقات کااِرادہ کرتاہےتواُس کےگھرکاقصدکرتااوروہاں اُسےتلاش کرتا ہے ([7]) ۔

اللہعَزَّ  وَجَلَّسےمُلاقات کرنےوالا:

          حضورنَبِیِّ اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاِس فضل واحسان کی خبردیتےہوئے حضرت سیِّدُناسلمان فارسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی حدیث میں ارشادفرمایا: جو مسلمان وضو کرےپس اچھا وضو کرےپھر اللہ تعالٰی کی مسجدوں میں سے کسی مسجد میں آئے  تو وہ اللہ تعالٰی سے ملاقات کرنے والا ہوتا ہے اور جس سے ملاقات کی جائے اُس پرحق ہے کہ  ملاقات کرنے والے کو عِزت دے۔ ([8])

مسجدکی حاضری بھی توفیْقِ الٰہی سےملتی ہے:

       اے بندے!غورکراگرتواپنےجیسےکسی بندےکےساتھ بُرائی سےپیش آئےپھر معافی مانگنےاُس کےگھرچلاجائےتووہ تجھےعزت دےگا، تجھےاپنےقریب کرےگا،  تجھےمعاف کردےگااوراُس وقت بےرُخی سےپیش نہیں آئےگاتوپھرعظمت والے اللہ کریم کا معاملہ کیسا ہوگا جبکہ وہ سب سے بڑھ کر عزت دینےوالاہے۔یہ بھی طے شدہ ہےکہ تیرااپنےربِّ کریم عَزَّ  وَجَلَّکے گھر (مسجد) جانا اُسی کی توفیق وعنایت سے ہے اوراگراللہ تعالٰی اِس بندے کے ساتھ عزت واُلفت  کا ارادہ نہ فرماتاتواُسے اپنے گھر میں اپنی ملاقات کی توفیق عطا نہ فرماتا۔

حکایت: محبوب ومحب ہی کوبلایاجاتاہے

       اِسی مفہوم کی ایک پیاری حکایت عابدوزاہدحضرت سیِّدُنامُوَفَّقرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےبارے میں منقول ہے۔چنانچہ آپ فرماتےہیں: جب میرے60حج مکمل ہوگئے تومیں مسجدحرام میں میزابِ رحمت (خانہ کعبہ کے پرنالے) کے نیچے بیٹھ گیااورمیرے دل میں خیال آیاکہ ’’ میں اور کتنی بار اِس گھرمیں آتا رہوں گا؟ ‘‘ پس مجھ پرنیندکا غَلَبہ ہوا اور کسی کہنے والےنےکہا: ”اےمُوَفَّق!اگر تیرا کوئی گھرہوجس میں تومہمانوں کو جمع کرتاہوتو تُو صرف اُسی کو دعوت دےگاجس سے تجھے محبت ہواوروہ تجھ سےمحبت کرتاہو۔“آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں: پھرمیرےدل میں آنےوالاخیال دور ہوگیا۔ ([9])

 



[1]   جامع العلوم والحکم،  الحدیث الاول، ص۱۷

[2]   حلیة الاولیاء،  یحیی بن ابی کثیر،  ۳ / ۸۲،  رقم: ۳۲۵۷

[3]   جامع العلوم والحکم،  الحدیث الاول، ص۲۳

[4]   جامع العلوم والحکم،  الحدیث الاول، ص۲۳

[5]   جامع العلوم والحکم،  الحدیث الاول، ص۲۳

5   احیاء العلوم، کتاب النیة والاخلاص والصدق،  الباب الاول فی النیة،  ۵ / ۸۹

[7]   مساجداللہعَزَّ  وَجَلَّکی رحمت کی خاص جگہیں ہیں لہٰذامساجدکی طرف جانےوالاان مقامات پر رحمَتِ الٰہی اوررضائےالٰہی پانےکےلئےجانےکی نیت کرے۔(ازعلمیہ)