Book Name:Bahar-e-Niyat

تجدیدکروں گا یعنی اِسے تازہ کروں گا۔ (35) …بھلائی وتقوٰی پرمددکروں گا۔ (36) …حق عام کروں گا، حق قبول کروں گا، حق والاعمل کروںگااورحق کوپسندرکھوں گا۔ (37) …نفس کےجوکام زیادہ لائق ہےاِسےوہاں مصروف کروں گا۔ (38) …اِس عمارت  کی مٹی، طرزِتعمیر، نقشہ اوراِس سےجڑےتمام آلات میں جوبھی تصَرُّف اورخرچ ہوگااُس سےاللہکریم کو راضی کروں گا۔ (39) …اِس کےذریعےاپنےایمان وتصدیق کو ظاہر کروں گا۔ (40)…دل کوتقویت پہنچاؤں گا اوراِسےنصیحت کروں گا۔ (41) …اِس کام سےبےتوجہی برتنےوالےتمام لوگوں کی طرف سےنِیابَت کروں گا۔  (42) …اور اُن لوگوں سے حَرَج وتنگی  کو دور کروں گا۔  (43) …اِن سب باتوں میں ثواب کی نیت رکھوں گا۔ (44) …اپنے عمل کے بجائے اللہعَزَّ  وَجَلَّکےفضل اور اُس کی رحمت پرنظررکھوں گا۔ (45) …بارگاہِ الٰہی سےمدد اورتوفیق طلب کروں گا۔ (46) …اُس کی بارگاہ میں خودکو جھکاؤ ں گااوراپنی مجبوری اورمحتاجی کااظہار کروں گا۔

دعا:

       اےہمارےرب عَزَّ  وَجَلَّ!تو ہم سےاِس کوقبول فرما، ہماری کمی کوپورافرمااور ہمیں پلک جھپکنےبلکہ اِس سےکم مقداربھی ہمارےنفسوں کےسِپُردنہ فرما۔

       یہ نیتیں حضرت سیِّدُناشیخ علی بن ابوبکرسَکْرانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنکےوصایاسے منقول ہیں۔

مشائخ وبُزُرگانِ دِین  سے ملاقات کی سات نِیَّتَیْں

           (1) …دینی ودنیاوی مُعاملات میں اُن سےفائدہ اٹھاؤں گا۔ (2) …حضورنَنِیِّ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاِس حکم پرعمل کروں گاکہ” جَالِسُواالْکُبَرَاءَیعنی بڑوں کی بارگاہ میں بیٹھا کرو۔“ ([1])  (3) …اُن ہستیوں پرنازل ہونےوالی رحمت سے حصہ پاؤں گا۔ (4) …ان کی نظَرِکرم  کا اُمیدوار رہوں گاتاکہ اللہ تعالٰی  میری بگڑی حالت کوسنواردے۔ (5) …نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھوں گا۔ (6)…یہ اُمید رکھوں گا کہاللہعَزَّ  وَجَلَّمیرے دل کو پاکیزہ فرمادے۔ (7) …یہ نیت رکھوں گاکہ اللہ کریم ظاہر کی طرح میرے باطن کوبھی اِن بزرگوں سے جوڑدے۔

نیک اِجتِماعات میں حاضری کی11نِیَّتَیْں

           (1) …اپنےوقت کی حفاظت کروں گا۔ (2) …حضورنَبِیِّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےحکم پرعمل کروں گا۔ (3) …یہ  نیت کروں گاکہاللہ تعالٰی مجھے اُس جگہ سےغائب نہ پائےجہاں کااُس نےمجھےحکم فرمایاہے۔ (4) …اللہعَزَّ  وَجَلَّکاقرب حاصل کروں گا۔ (5) …وہاں جاکراپنےباطن کوصاف اورستھراکروں گا۔ (6) …نیک اجتماع کےحاضرین کی تعدادمیں اضافہ کروں  گا۔ (7) …اگرمجھے موت آنےوالی ہوئی تو مجلس خیرمیں حاضرہوکراچھی حالت اختیارکروں گا۔ (8) …خودکوخیروبھلائی والوں کےساتھ جوڑوں گا۔ (9)…نفس وشیطان اورہوس ودنیاپرغَلَبَہ حاصل کروں گا۔  (10) …فرشتوں کی مشابہت اِختیار کروں گا (کہ ایسے اجتماعات میں فرشتوں کی آمد ہوتی ہے) اور (11) …بارگاہِ الٰہی میں اپنے درجات بلند کرواؤں گا۔

اِجتِماعِ میلاد میں حاضری کی10نِیَّتَیں

           (1) …تاجدارِانبیاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپردرودشریف بھیجنےوالےاجتماع میں شرکت کروں گا۔ (2) …ایسےاجتماع میں شرکت کروں گاجس کی رغبت علمائے کرام رکھتےہیں۔ (3) …حضوررحمَتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سیرتِ مُقَدَّسَہ کا بیان سنوں گا۔ (4) …نصیحت  وہدایت والی مجلس میں حاضرہوں گا۔ (5) …حضورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عاداتِ مُبارَکہ کابیان سُن کرانہیں اپناؤں گا۔ (6) …اپنے وقت کوخیروبھلائی میں صرف کروں گا۔ (7) …اَہْلِ حق (میلادمنانےوالوں) کےگروہ میں اضافہ کروں گا۔ (8) …یہ نیت رکھوں گاکہ اِجتماعِ میلادمیں  حضور نَبِیِّ  اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےجواخلاق واوصاف سنوں، اللہتعالٰی مجھےبھی اُن میں سےحصہ عطافرمادے۔ (9) …پیارےآقا، دو عالَم کےداتاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےلیے جوکرناواجب ہےمیں اُس پرعمل کروں گا۔ (10) …اجتماعِ میلادمیں اِس دعاکے ساتھ حاضری دوں گاکہاللہتعالٰی مجھےاپنےپیارےحبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت سےمُشَرَّف فرمائے۔

زیارتِ قُبُوْرکی سات نِیَّتَیْں

           (1) …حضورتاجدارِدوجہاںصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِتِّباع وپیروی کروں گا۔ (2) …آخرت، قبراورموت کی حالت کویادکروں گا۔ (3) …اپنےدوستوں،  رشتے داروں اور دیگر مسلمانوں کےلیےدعاکروں گا۔ (4) …زیارتِ قبور سےخود کونصیحت کروں گا۔ (5) …فوت شدگان کےبعض حقوق اداکروں گا۔ (6) …فوت شدہ لوگوں سے رابطہ قائم کروں گا۔ (7) …حضورنَبِیِّ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِس حکم پر عمل کروں گا کہ”تم قبروں کی زیارت کیا کرو۔“ ([2])

زیارتِ قبورکی دعا:

            قبروں کی زیارت کےوقت زیارت کرنےوالاجوچاہےدعاکرےاوریہ کہنا مستحب ہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الدِّیَارِمِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَاِنَّااِنْ شَآءَ اللہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ وَیَرْحَمُ اللہُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّاوَالْمُسْتَاْخِرِیْنَ، اَسْاَلُ اللہَ لَنَاوَلَکُمُ الْعَافِیَۃ یعنی اے گھروالو!مؤمنواورمسلمانو!تم پرسلام ہو، بےشکاللہتعالٰی نےچاہاتوہم بھی تم سےملنے والے ہیں، اللہعَزَّ  وَجَلَّہم میں



[1]    معجم کبیر،  ۲۲ / ۱۲۵،  حدیث: ۳۲۴

[2]    مسلم،  کتاب الجنائز،  باب استئذان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ... الخ،  ص ۳۷۷،  حدیث: ۲۲۶۰



Total Pages: 54

Go To