Book Name:Bahar-e-Niyat

       بندہ نیت کرےکہ”بھوکارہ کربیْتُ الخلاء میں آنا جانا کم کروں گا ۔“ اِس صورت میں وہ روزہ داربھی ہوتواِس کی بدولت وہ سچ والو ں اور حیا والوں کے درجہ کو پہنچ جاتا ہے۔جیساکہ

حیاکی حقیقت تین چیزیں ہیں:

        حضورپُرنور، شافِعِ یومُ النُّشُورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاپنےصحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسےارشادفرمایا: اللہ ربُّ العزت سےکماحَقُّہٗ حیاکرو۔انہوں نےعرض کی:  یارَسُوْلَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہماللہعَزَّ  وَجَلَّسےکیسےحیاکریں؟ارشادفرمایا: جو اللہتعالٰی سےکماحَقُّہٗ حیاکرناچاہتاہےوہ اپنےپیٹ اوراُس میں جوکچھ ہےاور اپنےسر اوراُس میں جوکچھ ہےاُس کی حفاظت کرےاورموت ومصیبت کو یاد رکھے۔ ([1])

       یہاں حضورنَبِیِّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےخبردی کہ حیاکی حقیقت یہ تین خصلتیں ہیں اوراِن میں سے ایک پیٹ کی حفاظت ہے  اور وہ رضائے الٰہی کے لیے بھوکا رہنا ہے تاکہ پیٹ میں چیزوں کے داخل ہونے اور نکلنے کا عمل کم رہے ۔

       حضرت سیِّدُنا مالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں: مجھےبیْتُ الخلاء میں بہت زیادہ آنے جانے میں  اپنے ربّ عَزَّ  وَجَلَّسے حیا آتی ہے حتّٰی کہ  میں تمنا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی میرا رزق ٹھیکری میں رکھ دیتا تو میں اُسے چوس لیا کرتا یہاں تک کہ مجھے موت آجاتی۔ ([2])

کھاناکھاتےوقت صحابہ کی تمنا:

       حضورامامُ الانبیاءوالمرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےصحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی تعریف  کرتےہوئےحضرت سیِّدُناحسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں: اُن میں سےکوئی ایک وقت کاکھاناکھاتےتوتمناکرتےکہ کاش!یہ اُن کےپیٹ میں باقی رہتا جیسے پانی میں ٹھیکری باقی رہتی ہے پس یہ اُن کا دنیاوی زادِ راہ ہوجاتا۔ ([3])

چھٹی نِیَّت

       بندہ بھوکارہنےسےنیت کرےکہاللہتعالٰی کی پکڑاورناراضی سےبچوں گا۔ حضرت سیِّدُناابوطالب مکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینےفرمایا: جودوبارکی بھوک کےدرمیان ایک بارسیرہوااُس نےحضورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاصحاب کی سیرت کو اپنالیا اور یہ  تب ہوگا جب بندہ صومِ دہر رکھے تو رات میں روزہ کھولےاور اُس کے بعد ایک دن کا روزہ رکھےپس  یہ دو بار کی بھوک کے درمیان ایک بار کا سیرہونا (پیٹ بھرنا)  ہے تو یہ بھوک اُس کے سیر ہونے سے زیادہ ہوگی۔ ([4])

ساتویں نِیَّت

       بندہ نیت کرےکہ بھوکا رہ کر اُن مصائب وآلام کو یادرکھوں گا جو بھوک والوں کو پہنچتے ہیں۔

تاکہ بھوکوں کویادرکھوں:

       منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا یُوسُف بن یعقوبعَلَیْہِمَا السَّلَام جب مصر کےخزانوں کےمالک بنےتوآپ نےکبھی پیٹ بھرکرکھانانہیں کھایا۔آپ سےاِس بارےمیں عرض کی گئی تو ارشادفرمایا: مجھے خوف ہےکہ اگرمیں نےپیٹ بھر کر کھایا تو بھوکے کو بھول جاؤں گا۔ ([5])

پانچ چیزیں اورپانچ لوگ:

       منقول ہے کہ پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کی قَدَر پانچ طرح کے لوگ ہی جانتے ہیں:   (۱) …صحت وعافیت کی نعمت کوبیمار (۲) …زندگی کی قیمت کومُردے (۳) …پیٹ بھرنے کی قَدْر وقیمت بھوکے (۴)…نیند کی لذت دردوتکلیف والے اور (۵) …روشنی کی نعمت کو اندھیرےمیں رہنے والے ہی جانتے ہیں۔ ([6])

بھوکا رہنے کی نِیَّتَوں کا خُلاصہ

                 (1) …بھوکارہ کرنفس کوکمزورکروں گا، اُس کی خواہشات کوتوڑوں گااوراُس کی مخالفت کو ترجیح دوں گا تاکہ وہ اطاعت والے کاموں میں لگ جائے۔ (2) …بھوکا رہ کرحضورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورآپ کےصحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے اَحوال کی  مُوافَقَت  کروں گاتاکہ اُن کے گروہ میں شامل ہوجاؤں۔ (3) …بھوکا رہ کر دنیاکے زادِ راہ میں کمی کروں گا۔ (4) …بھوکا رہ کر



[1]   ترمذی،  کتاب صفة القیامة،  باب ۲۴،  ۴ / ۲۰۷،  حدیث: ۲۴۶۶،  بتغیر قلیل

[2]    المجالسة وجواھر العلم،  ۱ / ۳۷۹،  رقم: ۹۷۸،  بتغیر قلیل

[3]    موسوعة ابن ابی دنیا،  کتاب الجوع،  ۴ / ۹۷،  رقم: ۱۰۹

[4]   قوت القلوب، الفصل التاسع والثلاثون فی ترتیب الاقوات...الخ، ذکرریاضة المریدین... الخ، ۲ / ۲۸۲، مفھومًا

[5]   علم القلوب، باب النیة فی التجوع للّٰہ، ص۲۰۴

[6]   علم القلوب، باب النیة فی التجوع للّٰہ، ص۲۰۴



Total Pages: 54

Go To