Book Name:Bahar-e-Niyat

کےزمرےمیں شامل ہوجائے۔

       رسولِ مُکَرَّم، شفیْعِ مُعَظّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْیعنی جوجس قوم کی مشابہت اختیارکرتاہےوہ انہیں میں سے ہے۔ ([1])

دعائےمصطفٰے:

       امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتےہیں کہ میں حضورتاجداردوجہاںصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضرہوا، میں نے دیکھا کہ آپ ایک چٹائی پرچہرۂ اقدس  جھکائے تشریف  فرما تھے اور بظاہر بھوک سے کمزور نظرآرہےتھےاوریوں دعافرمارہےتھے: الٰہی!میری بھوک اورپیاس کےصدقے میری اُمت کے گناہ معاف فرمادے۔ ([2])

       اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں: حضورنَبِیِّ رحمت، شفیْعِ اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورآپ کےصحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ظاہری

غربت واِفلاس کے سبب بھوک اختیار کیا کرتےتھے۔ ([3])

صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی بھوک:  

       حضرت سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کابیان ہےکہ بارہاایساہوتاکہ میں حجرۂ اَقدساورمنبراطہرکےدرمیان (یعنیرِیَاضُ الْجَنَّہمیں) بھوک کےسبب آوازیں نکال رہا ہوتا تھااورلوگ کہتےکہ”یہ دیوانہ ہوگیاہے“حالانکہ مجھے بھوک کےسواکوئی دیوانگی نہ ہوتی تھی ([4])  اور کئی بار ایسابھی ہوتا کہ حضورنَبِیِّ پاک، صاحِبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنمازپڑھارہےہوتے توبھوک کےسبب بعض صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان زمین پر گرجاتے، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب نماز سےفارغ  ہوتےتواُن کی طرف متوجہ ہوکرارشادفرماتے: اگرتم جانتےکہاللہتعالٰی کےپاس تمہارےلیےکیا (خیروبھلائی) ہے توتم (بھوک کو)  اورزیادہ کرتے ۔ ([5])

جنت میںرَسُوْلُ اللہکی رفاقت:

       حضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان فرماتےہیں کہ حضورنَبِیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک انصاری شخص کی عیادت کی تو اُس سےارشادفرمایا: کیا تمہیں کسی شے  کی خواہش ہے؟ اُس نے عرض کی: جی ہاں۔ ارشاد فرمایا: جس کےپاس بھی (اِس  کی مطلوبہ شے) ہووہ لےآئے۔ایک شخص کھڑاہوااور روٹی کاایک ٹکڑالےآیااوراُس انصاری کو کِھلادیا۔ ([6]) پھرحضورنَبِیِّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحضرت سیِّدُناابوذرغفاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےارشادفرمایا: ”کم کھانے اورکم بولنےوالا جنّت میں میرے ساتھ اِن دو انگلیوں کی طرح ہوگا۔“اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی شہادت اور درمیان والی  انگلی سےاشارہ  فرمایا۔ ([7])

بروزِمحشرقُربِرَسُوْل پانےوالا:  

       حضورتاجدارختْمِ نبوَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: بروزِقیامت تم  میں سے میرے قریب ترین وہ بیٹھے گاجس کی بھوک، پیاس اور غم طویل ہوگا۔ ([8])

بلاحساب جنّت میں داخلہ:

       حضرت سیِّدُناابوہریرہ اورحضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سمیت بھوک کےستائےہوئےپانچ صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےبارگاہِ رسالت میں حاضرہوکر عرض کی: یارَسُوْلَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہمیں بہت بھوک لگ رہی ہے، کیا کھانےکوکچھ مل سکتاہے؟ تو اُس وقت انہیں جو کےتھوڑے سےسَتُّومیسر آئےجو انہوں نےکھالیےمگر وہ سیرنہ ہوسکے۔انہوں نےعرض کی:  یارَسُوْلَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آخرہم کب تک بھوک میں مبتلارہیں گے؟حضورنَبِیِّ رحمت، شفیْعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: تم زیادہ عرصہ اس میں مبتلا نہیں رہوگےمگر یہ کہ تم اللہ تعالٰی سے ڈرواورشکرادا کرو کیونکہ میں صبروالوں کے علاوہ کسی قوم کو بغیر حساب جنّت میں داخل ہونے والانہیں پاتا ([9]) ۔ ([10])

 



[1]   ابو داود،  کتاب اللباس،  باب فی لبس الشھرة،  ۴ / ۶۲،  حدیث: ۴۰۳۱

[2]   علم القلوب، باب النیة فی التجوع للّٰہ، ص۲۰۲

[3]   جامع العلوم والحکم،  الحدیث السابع والاربعون، ص۵۲۶،  من عوز بدلہ کثیرا

[4]   ترمذی،  کتاب الزھد،  باب ماجاء فی معیشة... الخ،  ۴ / ۱۶۲،  حدیث: ۲۳۷۴

[5]    ترمذی،  کتاب الزھد،  باب ماجاء فی معیشة... الخ،  ۴ / ۱۶۲،  حدیث: ۲۳۷۵

[6]   ابن ماجہ،  کتاب الطب،  باب المریض یشتھی الشیء،  ۴ / ۸۹،  حدیث