Book Name:Bahar-e-Niyat

       رَسُوْلِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: جس نےجہاد کیااوراُس نےصرف اونٹ کاپیر باندھنے کی رسی حاصل کرنےکی نیت کی تواُس کے لیے وہی ہے جس کی اُس نے نیت کی ([1]) ۔ ([2])

مومن کی نیت عمل سےبہترہے:

          حضورنَبِیِّ رحمت، شفیْعِ اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہیعنی مومن کی نیت اُس کے عمل سے بہتر ہے۔ ([3])

نیت پرکامل نیکی کاثواب:

          یہ اِس لیےہےکہ نیت دل کاعمل ہے اور دل سب سےافضل عضوہےلہٰذا اُس کاعمل دیگراعضاء کے عمل سے بہتر ہے اور اِس لیے کہ نیت اکیلی بھی نفع دیتی ہے جبکہ دیگراعضاءکے اعمال نیت کے بغیرکچھ نفع نہیں دیتے، جیسا کہ حدیْثِ پاک میں ہے: ”جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیامگراُس پر عمل نہ کیا اُس کے لیےایک مکمل نیکی کا ثواب لکھ دیا جتا ہےپھراگر وہ اُس نیکی کو کرلے تو اُس کے لیے10نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ ‘‘ ([4])

توفیق کے70دروازے:

          مروی ہےکہ  ’’ جس نےخودپراچھی نیت کا ایک دروازہ کھولا اللہعَزَّ  وَجَلَّ اُس کےلیے توفیق کے70دروازے کھول دیتا ہے۔ ‘‘

       اےبندے!اللہتعالٰی تم پررحم فرمائے!تم پراچھی نیت لازم ہےاوراُسےخالص اللہعَزَّ  وَجَلَّکےلیےرکھناضروری ہےاورجب بھی کوئی طاعت وفرمانبرداری والاکام کروتواُس میںاللہعَزَّ  وَجَلَّکےقُرب، اُس کی مرضی چاہنےاوراُس کی رِضاطَلَب کرنے کی نِیَّت کرواوراِس اطاعت پراپنے فضل واحسان سے جس ثواب کا ربّ تعالٰی نے وعدہ فرمایا ہے اُس کا ارادہ کرو ۔

ہرمُباح کام پرثواب حاصل ہو:

       مباح چیزوں حتّٰی کہ کھانے پینے اور سونے کا آغاز اُس وقت تک نہ کروجب تک اِن سےاللہعَزَّ  وَجَلَّکی اطاعت پرمدداور اُس کی عبادت پر قوت حاصل کرنے کی نیت نہ کرلوکہ اِس نیت سے مباح چیزیں بھی اطاعت میں شمار ہوں گی کیونکہ وسائل  وذرائع کےلیےبھی مقاصدوالےاَحکام ہوتےہیں  (یعنی جوحکم مقصدکاہوتاہےوہی اُس تک  لے جانے والے ذریعے کا بھی ہوتاہے) اورجس نےاچھی نیت میں کمی کی وہ نقصان میں رہا۔

جتنی نیتیں زیادہ اُتناثواب بھی زیادہ:

       تم اِطاعت والےاورمباح وجائز کاموں میں بہت سی اچھی نیتیں کرلیا کرواللہعَزَّ  وَجَلَّ کےفضل وکرم سےتمہیں اِن میں سےہرایک نیت کےذریعےمکمل ثواب حاصل ہوگااوراطاعت وبھلائی والےایسےکام جن سےتم عاجزہواورانہیں عمل میں لانا تمہارے بس کی بات نہ ہوتو اُس کی نیت کرلواوربوقْتِ قُدرت اُس کاپختہ اِرادہ کرلواورصِدقِ دل، پختہ اِرادےاوردُرُست نیت کےساتھ کہو: ”اگرمجھےاِس کی استطاعت ہوئی تو  اِسےضرورکروں گا۔“یوں تمہیں عمل کرنےوالےکاثواب حاصل ہوجائےگاجیساکہ ہمیں یہ روایت پہنچی ہے:

حکایت: اچھی نیت کافائدہ

          بنی اسرائیل کاایک شخص قحط کے زمانےمیں ریت کے ایک ٹیلے کے پاس سے گزرا تو دل میں کہا: ”اگر یہ سارا کھانا ہوتااور میری ملکیت میں ہوتا تو میں اِسے لوگوں میں تقسیم کردیتا۔“اللہعَزَّ  وَجَلَّ نےاُن کے نبیعَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ فلاں شخص سے فرما دیجئے: ”اللہ تعالٰی نے تیرا صدقہ قبول کرلیا ہے اورتیری اچھی نیت کو شَرَف قبولیت سےنوازاہے۔“ ([5])

فقط نیت پرثواب:

          حدیْثِ پاک میں ہے: فرشتےجب بندےکانامَۂ اَعمال لےکربارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوتےہیں تواللہکریمعَزَّ  وَجَلَّاُن سےارشادفرماتاہے: اِس کےلیے ایساایساثواب لکھو۔ فرشتےعرض کرتےہیں: اِس بندےنےتویہ عمل نہیں کیا۔اللہ تعالٰی ارشادفرماتا ہے:  اِس نے اِس کی نیت کی تھی۔ ([6])

اعمال کےثواب کامدار:

          رَسُوْلِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: اعمال کادارومدار نیتوں پر ہے اور ہرشخص کےلیے وہی ہے جس کی اُس نے نیت کی، لہٰذا جس کی ہجرت اللہ تعالٰی  اور اُس کے رسول کی طرف ہے تواُس کی ہجرت اللہورَسُوْل عَزَّ  وَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا کو پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہےتو اُس کی ہجرت اُسی طرف ہے جس کی اُس نے نیت کی۔ ([7])

          امیرالمؤمنین فِی الْحَدِیْثحضرت سیِّدُناامام محمدبن اسماعیل بخاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نےاپنی کتاب صحیح بخاری شریف  کاآغازاِسی  حدیْثِ پاک سےکیا اور خطبہ کی جگہ اِس حدیْثِ مُبارَک کو رکھا۔

          حضرت سیِّدُناعبْدُالرحمٰن بن مہدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتےہیں: اگرمیں کئی ابواب پر مشتمل کوئی کتاب لکھتاتوحضرت سیِّدُناعُمَربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی حدیث ”اعمال نیتوں  کے ساتھ ہیں“ کو ہر باب میں رکھتا۔ ([8])

 



[1]   مرادیہ ہےکہ جہادسےاس کاارادہ کچھ مال غنیمت حاصل کرناہوخواہ تھوڑاہی کیوں نہ ہوجیسےکہ اونٹ کاپاؤں باندھنےکی رسی۔(التیسیربشرح الجامع الصغیر، ۲ / ۴۳۲)

[2]   نسائی، کتاب الجھاد، باب من غزا فی سبیل اللّٰہ...الخ،  ص ۵۱۰، حدیث: ۳۱۳۵ 

[3]   معجم کبیر،  ۶ / ۱۸۵،  حدیث: ۵۹۴۲

[4]    بخاری،  کتاب الرقاق،  باب من ھم بحسنة ...الخ،  ۴ / ۲۴۴،  حدیث: ۶۴۹۱

[5]    تفسیرکبیر، پ۱،  البقرة،  تحت الاٰیة: ۱۱۲،  ۲ / ۷

[6]   روح المعانی،  پ۲۶، قٓ،