Book Name:Bahar-e-Niyat

نفس کومغلوب کرنےکاطریقہ:

       حضرت سیِّدُنایحییٰ بن معاذرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں: اگرتم اِس بات پرکہ”نفس دنیاچھوڑدےاوراطاعت میں لگ کرتم سےصلح کرلے“ساتوں آسمان کے فرشتوں، کم وبیش ایک لاکھ24ہزارانبیائےکرامعَلَیْہِمُ السَّلَام، ہرآسمانی کتاب وحکمت اورتمام ولیوں کی سفارش بھی لےآؤتونفس تمہاری بات نہیں مانےگااوراگرتم اِس کےسامنے بھوک کی سفارش لے آؤتو یہ تمہاری بات مانےگا اور تمہارے سامنے جھک جائے گا۔ ([1])

بھوک کی اہمیت وفضیلت:

       حضرت سیِّدُناسہل بنعبْدُاللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں: اُساللہعَزَّ  وَجَلَّکی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! اللہتعالٰی کی ناپسندیدہ چیز چھوڑکر اُس کی پسندیدہ  چیز کی طرف  آنےوالےصرف بھوک سےہی آسکتےہیں اورصدیقین بھوک ہی کے ذریعے صدیق بنتے ہیں۔ ([2])

جنتی سُواریوں کےسُوار:

       حضرت سیِّدُناحجاج بن غرافضہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ میں مکہ مکرمہ میں عبادت وریاضت میں مصروف ایک گروہ کےپاس آیااوراُن سے عرض کی: مجھے بتائیےکہ اللہتعالٰی نےاپنےاولیاکواپنے نفسوں کوبھوکارکھنے کا حکم کیوں دیا؟وہ بولے:  کیا تم نے نہیں دیکھاکہ  اگر سخت طبیعت چوپایہ یااونٹ بِدَک جائے تو گھر والے اُسے بھوکا رکھ کرہی  اُس پرقابوپاتےہیں۔جبکہ بندےکامعاملہ یہ ہےکہ اگروہ اپنے نفس کو بھوکاپیاسارکھتاہےتواللہعَزَّ  وَجَلَّفرشتوں کےسامنےاُس پرفخرفرماتاہےاورجس بندے پراللہتعالٰی نے ایک باربھی فخر فرمایا قیامت کے دن اُس کے سر پر نور کا تاج رکھا جائےگااوراللہتعالٰی نوری فرشتوں کوبھیجےگاجن کےساتھ ایسی سواریاں  ہوں گی جو سرخ وپیلے یاقوت سے آراستہ ہوں گی، اُن کی لگامیں  پروئے ہوئے موتیوں کی اوراُن کےکجاوےسبززبرجدکےہوں گے، اُن سواریوں کوخوبرولڑکےہانکتے ہوئے لائیں گےاوردنیامیں بھوک پیاس برداشت کرنےوالوں کی قبروں کےسامنے کھڑا کریں گےتو وہ  اِن پر سوار ہوکر بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوں گے۔ ([3])

شیطان کاجاسوس:

       حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم بیان کرتے ہیں: مجھےیہ بات پہنچی ہےکہ ایک دن اور ایک رات شیطان نے حضرت سیِّدُناعیسیٰ رُوْحُاللہعَلَیْہِ السَّلَام کو دیکھا کہ آپ بظاہر کمزور ہیں تو شیطان نےکہا:  کیا بات ہے کہ میں آپ کو کمزور دیکھ رہا ہوں کیا میں آپ کوکھانا پیش کروں ؟حضرت سیِّدُناعیسیٰعَلَیْہِ السَّلَامنےارشاد فرمایا: تو اچھی طرح جانتاہےکہ اگر میں اِن پہاڑوں اوروادیوں سےکہہ دوں: ”اللہعَزَّ  وَجَلَّ کے حکم سےکھانابن جاؤ“تویہ کھانابن جائیں گے مگرتومیرادشمن ہےاورنفس میرے ساتھ تیرا جاسوس  ہےلہٰذا میں تیرے جاسوس کو بھوکا رکھ کر کمزورکرتا ہوں  تاکہ اِس میں اتنی طاقت نہ رہے کہ یہ میری خبر تجھ تک پہنچاسکے ۔بے شک میری بھوک تجھے غصہ دلاتی اور پگھلاتی ہے اور میں دنیا سے اِس کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہتا ۔ ([4])

       بھوک کے بارے میں یہ شعر کہا گیا ہے:

رَاَیْتُ الْجُوْعَ یُغْلَبُ مِنْ رَّغِیْفٍ        وَمِلْیِٔ الْقَعْبِ مِنْ مَّاءِ الْفُرَاتِ

رَاَیْتُ الْجُوْعَ عَوْنًا لِلْمُصَلِّی                                       رَاَیْتُ الشَّبْعَ عَوْنًا لِلسَّبْحَاتِ

       ترجمہ:  (۱) …میرامشاہدہ ہےکہ جوکی ایک روٹی اورفرات کےپانی سےبھرےایک پیالے سے بھوک  پرغَلَبہ پایاجاسکتا ہے۔ (۲) …میں نےبھوک کو نمازی کےلیےاورشکم سیری کو زندگی کے چند لمحوں کے لیے مدد گار پایا ہے۔ ([5])

دوسری نِیَّت

            بندہ بھوکارہ کرحضورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورآپ کےصحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکےاَحوال کی مُوافَقَت کی نیت کرےتاکہ بروزِ قیامت اِن نفُوسِ قدسیہ



[1]   علم القلوب، باب النیة فی التجوع للّٰہ، ص۲۰۰

[2]   علم القلوب، باب النیة فی التجوع للّٰہ، ص۲۰۰

[3]    علم القلوب، باب النیة فی التجوع للّٰہ، ص۲۰۰

[4]    علم القلوب، باب النیة فی التجوع للّٰہ، ص۲۰۱

[5]   علم القلوب، باب النیة فی التجوع للّٰہ، ص۲۰۱



Total Pages: 54

Go To