Book Name:Bahar-e-Niyat

ہے جو ہربار کی ملاقات میں تمہارے ہاتھ میں ایک دینار رکھ دے۔ ([1])

آپ کےدل کاکیاحال ہے؟

       حضرت سیِّدُناابوطالب مکّیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتےہیں: اَسلاف میں سےاللہتعالٰی کی خاطر دوستی رکھنے والے دو دوست جب ملاقات کرتے تھے توایک دوسرے سے کہتا: آپ کیسےہیں اورآپ کاکیا حال ہے؟تو وہ  کہتا: آپ اپنےنفس اورخواہش کے ساتھ کیسےہیں؟ آپ کےخیر کی طرف بلانے پر نفس نے آپ کی بات مانی یا نہیں؟اور اللہعَزَّ  وَجَلَّکی طرف بڑھنے یا پیچھے ہٹنے میں آپ کے دل کا کیاحال ہے؟ ([2])

       بعض بزرگ فرماتےہیں: ہمارا زیادہ ترشوق دوستوں سےملاقات ہے، ہم ملتے ہیں تو ایک دوسرے کو اپنے حالات بتاتے ہیں  اور مزید کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ([3])

عقل مندکےچاراوقات:

       آلِ داودکی حکمت میں ہے: عقل مندکوچاہیےکہ اُس کےلیےچاراوقات ہوں :   (۱) …ایک وہ وقت جس میں وہ اپنے رب تعالٰی سے مناجات کرے (۲) …ایک وہ جس میں وہ اپنا محاسبہ کرے (۳) …ایک وہ جس میں وہ ایسے دوستوں کےساتھ بیٹھے جو اُسے اُس کےنفس کےعیبوں سےآگاہ کریں اورآخرت کی طرف راغب کریں اور (۴) … ایک وہ وقت ہوجس میں وہ اپنے نفس کو دنیاکی جائزلذتوں کےلیےچھوڑ دے کیونکہ یہ وقت دوسرے اوقات کےلیےمعاوِن ہوتا، نُفُوس کو  مانُوس کرتااورانہیں کسی نہ کسی  فضیلت تک  پہنچاتا ہے۔ ([4])

دل کی تلاش:

       ایک بزرگ کابیان ہےکہ میں نےحضرت سیِّدُنادارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکو فرماتےسناکہ میں اپنے گھرسے تمہارے پاس اپنے دل کی تلاش میں آتا ہوں ، ہمارے گھر میں ایسا کوئی نہیں جو مجھ سے کسی شے کا پوچھے۔ ([5])

       ایک اہْلِ محبت کا بیان ہے کہ مجھ پر ایک حالت نےغَلَبہ کیاتو میں اپنے گھرسے کسی ایسےانسان کی تلاش میں نکلاجس سےاُنسیت حاصل کروں اوراُسےاپناحال سناؤں۔ چنانچہ میری ملاقات حضرت سیِّدُناسُفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے ہوگئی ، آپ نے مجھےغور سے دیکھ کر پوچھا:  تجھے کیا ہوا؟میں نے عرض کی:  میرے پاس کچھ سامان ہے،  چاہتاہوں کہ کوئی میرےساتھ سودا کرلے۔آپ نے پوچھا: دنیا کا سامان ہے یا آخرت کا؟میں نےعرض کی: آخرت کا۔پس آپ نے میرا ہاتھ پکڑااورمجھے قبرستان  لےگئے،  جب ہم قبروں کے درمیان پہنچے تو فرمایا: اَب ہم اُس جگہ آگئے ہیں  جہاں اُخروی سامان کامعاملہ ہمیشہ اچھارہتاہے۔اگرسچائی تمہارےشامل حال ہےتواپناسامان اِن (قبروالوں )  پر پیش کردوورنہ روزِ محشر کے  لیے اپنے پاس محفوظ کرلو۔ ([6])

ساتویں نِیَّت

       ملاقات سےمحبَّتِ الٰہی کی تلاش اور اُس وعدۂ الٰہیہ کی تصدیق کی نیت کرے جو اللہ تعالٰی نے ایسے  بندے سے فرمایا ہے جو اُس کے  کسی بندے سےاُس کی خاطر شدید محبت کے سبب ملاقات کرتا ہے۔جیسا کہ

اللہکےلئےمسلمان سےمحبت کاانعام:

        مروی ہے: اللہعَزَّ  وَجَلَّکےپیارے حبیب،  حبیْبِ لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایاکہ ایک شخص اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کے لیے دوسری بستی کی جانب چلا تواللہ تعالٰی نے اُس کے راستےمیں ایک فرشتہ بھیجا، فرشتے نے اُس سے پوچھا: کہاں کاارادہ ہے؟ وہ بولا: میں اِس بستی میں اپنے ایک بھائی سے ملنے جا رہا ہوں۔ فرشتے نے کہا: کیا تیرے اور اُس کے درمیان رشتہ داری ہے جسے نبھانا چاہتے ہویا اُس کاتجھ پر کوئی احسان ہے جسے پورا کرنے کا ارادہ ہے۔اُس نےجواب دیا: ایساکچھ نہیں ہے، میں توفقط اُس سے اللہعَزَّ  وَجَلَّکےلیےمحبت کرتا ہوں۔فرشتے نے کہا: میں تیری طرف اللہ تعالٰی کا قاصد ہوں ، جس طرح تواِس سےاللہعَزَّ  وَجَلَّکے لیے محبت کرتا ہے وہ بھی تجھ سے محبت فرماتا ہے۔ ([7])

 



[1]   حلیة الاولیاء،  بلال بن سعد،  ۵ / ۲۵۷،  رقم: ۷۰۳۵

[2]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۱۱

[3]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۱۱

[4]   شعب الایمان،  باب فی تعدید نعم اللّٰہ... الخ،  ۴ / ۱۶۴،  حدیث: ۴۶۷۷

[5]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۱۱

[6]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۱۱

[7]   مسلم،  کتاب البر والصلة،  باب فی فضل الحب فی اللّٰہ،  ص۱۰۶۵،  حدیث: ۶۵۴۹



Total Pages: 54

Go To