Book Name:Bahar-e-Niyat

اورایک دوسرے سے خوش ہوتوعرش کے درمیان سے ایک فرشتہ ندا دیتا ہے: ”تم دونوں اپنے اعمال نئےسِرے سے شروع کرو کیونکہ اللہتعالٰی نے تم دونوں کے گناہ معاف فرمادیئے ہیں ۔“پھر اگروہ اُسی دن یارات میں فوت ہوجائیں توصِدِّیْقِیْن کی موت  مرتےہیں۔ ([1])

پانچویں نِیَّت

       مسلمان بھائی سےملاقات میں  یہ نیت کرےکہ اُسےدیکھنےکی برکتیں حاصل کروں گا اور اُس کےقُرب کا فائدہ پاؤں گاتاکہ اِس کے ذریعے اپنے دل کی دوا کروں۔ جیساکہ

اولیاسےمحبت کی برکتیں:

       حدیْثِ پاک میں آیا ہے: بے شک اللہعَزَّ  وَجَلَّقیامت کے دن بندے کا حساب لےگاتو اُس پر حجت قائم ہوجائےگی اوراُسےجہنم میں لےجانے کا حکم ہوگا، اُس وقت بندہ حیران وپریشان ہوگاتو اللہعَزَّ  وَجَلَّارشادفرمائےگا: کیاتونےدنیامیں میرے کسی ولی کی زیارت کی اورتجھے میری خاطر اُس سے محبت تھی یا تونے  میرےلیے اُس سے ملاقات کی ہو یا پھر میرے اولیا میں سے کسی ولی کو میری خاطرتجھ سے محبت  تھی تو آج میں اُس کی خاطر تجھے چھوڑ دوں گا۔ ([2])

اولیاکی اولیاسےمحبت:

       منقول ہےکہ جب حضرت سیِّدُناحسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکےوصال کا وقت قریب آیاتو اُن سے عرض کی گئی: کیا آپ کو کوئی خواہش ہے؟آپ نےفرمایا: ہاں!ایک نظر ’’ حضرت یُوسُف بن اَسباط ‘‘  کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ ([3])

       حضرت سیِّدُناجعفربن سُلَیْمانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:  میں جب اپنے اندر کچھ سستی پاتا ہوں توحضرت سیِّدُنامحمدبن واسعرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوایک نظردیکھ لیتا ہوں تو پھر عمل میں لگ جاتا ہوں۔ ([4])

       حضرت سیِّدُناموسیٰ بن عُقبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں: میں اپنےکسی دوست سے ایک بار مِل لیتا ہوں تو کئی دن تک عمل پر کار بند رہتا ہوں۔ ([5])

سات چیزوں کی طرف دیکھناعبادت ہے:

       حضرت سیِّدُناابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتےہیں: سات چیزوں کی طرف دیکھناعبادت ہے:  (۱) …دوست کا (رضائےالٰہی کےلیےبنائےگئے) دوست کودیکھناعبادت ہے (۲) …قرآنِ کریم کودیکھنا (۳)کَعْبَۃُاللہِ الْمُشَرَّفَہکودیکھنا (۴،  ۵) …ماں اورباپ کےچہرےکودیکھنا (۶) …عالِم کودیکھنااور (۷) …علم کی کتاب میں دیکھناعبادت ہے۔ ([6])

      حضرت سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا: اللہتعالٰی کی خاطرمحبت وشوق کے ساتھ اپنے مسلمان بھائی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے۔ ([7])

اہل وعیال کی ملاقات سےزیادہ پسندیدہ:

       حضرت سیِّدُناحسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں: اللہعَزَّ  وَجَلَّکےلیے بنائے گئے دوستوں سے ملاقات کرنا ہمیں اپنے بیوی بچوں سے ملاقات کرنے سے زیادہ پسند ہے کیونکہ ہمارے گھر والےہمیں دنیاکی یاددلاتےہیں جبکہ ہمارےدوست ہمیں آخرت کی یاد دِلاتے ہیں۔ ([8])

چھٹی نِیَّت

       اِس نیت سےملاقات کرےکہ اپنے مسلمان بھائی کو اپنا حال سنائےگااوراُس سےاپنےدین کےبارےمیں نصیحت حاصل کرےگا۔

ناصح دوست بہترہےیامال دینےوالا؟

            حضرت سیِّدُنابلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد نےفرمایا: رضائےالٰہی کےلیےبنایا گیا دوست جوہربارملنےپرتمہیں اللہ تعالٰی کے بارے میں نصیحت کرےتمہارے لیے اُس دوست سے بہتر



[1]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۱۰

[2]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۱۰

[3]   المجالسة وجواھر العلم، ۳ / ۹۹، رقم: ۲۹۸۴ ، حسن البصری بدلہ الفضیل بن عیاض

[4]   قوت القلوب،  الفصل الرابع والاربعون فی الاخوة فی اللّٰہ... الخ، ۲ / ۳۶۷

[5]   قوت القلوب،  الفصل الرابع والاربعون فی الاخوة فی اللّٰہ... الخ، ۲ / ۳۶۷

[6]   شعب الایمان،  باب فی بر الوالدین،  ۶ / ۱۸۷،  حدیث: ۷۸۶۰،  دون قولہ والی العالم... الخ تنبیہ الغافلین،  باب فضل مجالس العلم، ص ۲۳۹،  حدیث: ۶۵۴ ،  دون قولہ وفی کتب العلم

[7]   قوت القلوب،  الفصل الرابع والاربعون فی الاخوة فی اللّٰہ... الخ، ۲ / ۳۶۵،  بتغیر قلیل

[8]   قوت القلوب،  الفصل الرابع والاربعون فی الاخوة فی اللّٰہ... الخ، ۲ / ۳۶۷



Total Pages: 54

Go To