Book Name:Bahar-e-Niyat

سے نکلیں گے تو اللہ ربُّ العِزت اُن کے لیے ایسی سواریاں بھیجے گاجو نور سے بنی ہوں گی، نور سےسجائی گئی ہوں گی ،  اُن کی لگامیں نور کی ہوں گی  اوراُن کی زینیں نورکی ہوں گی۔غِلْمانِ جنت اُن سواریوں کو چلاتےہوں گے، پس وہ اپنی قبروں سےاِس حال میں نکلیں گےکہ ربِّ جلیلعَزَّ  وَجَلَّکےلیے”میں حاضرہوں“ کی صدائیں لگارہے ہوں گے۔ انہیں  سرخ وزردیاقوت کے محلات میں لےجایا جائے گا جہاں کافُور،  شرابِ طَہُوراورتَسْنِیْم (جنت کی اعلیٰ شراب) اورمُہرلگی شراب ہوگی  اوراِن سب پر رضا ورحمت کا غَلَبَہ ہوگا، پس  وہ قُربِ خاص میں سیراب کیے جائیں گے۔پھر وہ سواریوں پر سواراور زیورات سےآراستہ  ہوکراپنےلیےرکھی گئی کرسیوں  کی طرف جائیں گے جہاں وہ  بَقاکی صِفَت سے مُتَّصِف آنکھوں سے اپنے ربِّ کریمعَزَّ  وَجَلَّکا دیدار کریں گے اور خوش ہوں گے۔ ([1])

       حضرت سیِّدُناعَمْروبن عَلارَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا: آدمی کےلیےمستحب ہےکہ وہاللہعَزَّ  وَجَلَّکی خاطربنائےگئےدوست سےدن میں دوبارملاقات کرے۔ ([2])

      حضرت سیِّدُناشیخ ابوطالب محمدبن علی مکّیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتےہیں: گویاکہ حضرت سیِّدُناعَمْروبن علارَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےاہْلِ جنت کےمُتَعَلِّق اِس فرمانِ باری تعالٰی کی تاویل کی ہے:

وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا (۶۲)   (پ۱۶، مریم: ۶۲)

ترجمۂ کنز الایمان: اورانھیں اس میں ان کا رزق ہےصبح وشام۔

       توانہوں نے اِس ملاقات اور دیگرباتوں کو داخل فرمایا۔ ([3])

       اِس بارے میں یہ اشعار بھی کہے گئے ہیں:

اِذَا غِبْتُ یَوْمًا عَنْ صَدِیْقٍ وَّ لَیْلَۃً                                          وَّ لَمْ اَرَنِیْ اَہْلًا لَّبَعْثُ رَسُوْلٍ

فَقَدْ ضَلَّ عَقْلِیْ اِنْ طَلَبْتُ اِخَاءَہٗ                    وَ اَنْ کَانَ ذَا مَالٍ وَّ اَنْ کَانَ ذَا حَالٍ

      ترجمہ:  (۱) …اگر میں ایک دن یا رات دوست سے غائب رہوں اورخوداس کےپاس نہ جاؤں توضرورکسی کواس کےپاس بھیجوں گا۔ (۲) …اگرمیں اُس سےدوستی  مال اوراچھی حالت کی بنا پر رکھوں تو میری عقل بھٹکی ہوئی ہے۔ ([4])

توخوب رہااورجنّت بھی خوب ہے:

       حدیث شریف میں ہےکہ جب بندہ مُشتاق ہوکراورملاقات کی رغبت رکھتے ہوئے اپنے بھائی سے ملاقات کرتاہے تو اُسےپیچھےسے ایک فرشتہ یوں پکارتاہے :  تو خوب رہا اور جنت بھی  خوب ہے۔ ([5])

سیِّدُنااِبن عمررَضِیَ اللہُ عَنْہکونصیحت:  

       حضرت سیِّدُناابوطالب مکّیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتےہیں کہ ہم نے ایک حدیث روایت کی ہےکہ حضورتاجدارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےملاحظہ فرمایاکہ حضرت سیِّدُنا ابن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَادائیں بائیں دیکھ رہےہیں تواُن سےاِس بارےمیں اِسْتِفْسارفرمایا،  انہوں نےعرض کی: یَارَسُوْلَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھےایک شخص سےمحبت ہے، میں اُسےتلاش کررہاہوں مگروہ نظرنہیں آرہا۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: اےعبْدُاللہ!جب تم کسی سےمحبت کروتواُس سےاُس کانام اوراُس  کے والدکانام پوچھواوراُس کےگھرکاپتامعلوم کرو، پھراگروہ غائب ہوتواُس سےملاقات کرو،  اگربیمارپڑجائےتواُس کی عیادت کرواوراگرکسی کام میں مشغول ہوتواُس کی مددکرو۔ ([6])

چوتھی نِیَّت

       ملاقات کرنے والااپنےمسلمان بھائی کی ملاقات سےگناہوں کےکفارےاور خطاؤں کے مٹنے کی نیت کرے ۔جیسا کہ

مصافحہ کرتےوقت مُسکرانےکی فضیلت:

       حدیْث شریف میں ہےکہ جب کوئی اللہعَزَّ  وَجَلَّکی رضا کےلیےاپنے مسلمان بھائی سےملاقات کرےپھردونوں مصافحہ کریں اور ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے تو دونوں کے گناہ جھڑتے ہیں۔ ([7])

          حضرت سیِّدُناابواُمامہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہےکہ سرورِ انبیا، محبوب کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مغفرت نشان ہے: جب مومن مومن کو دیکھتا ہے



[1]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۰۹

[2]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۰۹

[3]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۰۹

[4]    علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۰۹

[5]    الزھد لابن مبارک،  باب ماجاء فی الشح، ص۲۴۶،  حدیث: ۷۰۹

[6]   قوت القلوب،  الفصل الرابع والاربعون فی الاخوة فی اللّٰہ... الخ، ۲ / ۳۶۸

[7]   معجم اوسط،  ۵ / ۳۶۶،  حدیث: ۷۶۳۰،  بتغیر قلیل



Total Pages: 54

Go To