Book Name:Bahar-e-Niyat

       ترجمہ:  (۱) میں نے یکتائی وقربت کو یکجا کیا اورمیں  ہر روزکوئی قبردیکھتا ہوں۔ (۲) پس ایک دن کسی نعمت میں  گزرتاہے اور ایک دن کسی مصیبت میں کٹ جاتا ہے۔ (۳) اورمحبت کرنے والے کی نگاہ محبوب کو تلاش کرتی ہے تاکہ اُس کی بدولت صحبت کوپاکیزہ بناسکے۔ ([1])

دِینِ اِسلام کےبعدسب سےبہتر:

       امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں: دِیْنِ اسلام کےبعدبندےکونیک دوست سےبہترکچھ نہیں دیاگیاتوتم میں سےجواپنے دوست کی جانب سے محبت دیکھےتو اُسے ضرور اختیار کرے۔ ([2])

مومن دوہتھیلیوں کی مثل ہے:

       حضورنَبِیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب بھی دومومن ملاقات کرتےہیں تواُن میں سے ایک کو ضروربھلائی نصیب ہوتی ہےاور بےشک مومن کی مثال اُن دو ہتھیلیوں کی طرح ہے جن میں سے ایک دوسری کو دھوتی ہےتو اُس کے لیے اِس کا وجود ضروری ہے۔ ([3])

تیسری نِیَّت

       ملاقات سے یہ نیت کرے کہ یہ عمل سنَّتِ رَسُول ہے اور اِس لحاظ سے یہ مستحب ہے۔جیساکہ

70ہزارفرشتوں کی دعا:

       حضرت سیِّدُناحسنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےمروی ہےکہرَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے (حضرت سیِّدُناابورَزِیْنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے) ارشادفرمایا: اےابورزین!کیاتمہیں خبرہےکہ جب کوئی شخص اپنے گھرسےرضائےالٰہی کےلیےاپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کےلیےنکلتاہےتو70ہزارفرشتےاُس کےساتھ چلتےہیں اوراُس پردرودبھیجتے ہیں اوریوں دعاکرتےہیں: ”اےہمارےربعَزَّ  وَجَلَّ!اِس نےتیرےلیےتَعَلَّق قائم کیاتو بھی اِس سےتعلُّق قائم فرما۔“ (اے ابورَزِیْن) اگرتم اپنےآپ کو اِس کام میں لگا سکتے ہو تو ایسا ضرور کرنا۔  ([4])

ایک بہت ہی پیاری سنت:

       حضرت سیِّدُناابوطالِب مکّیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتےہیں: یہ حضورنَبِیِّ رَحمت، شفیْعِ اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف سے اپنے بھائیوں سے ملاقات کو ترجیح دینے کا حکم ہے ([5]) اورحضرت سیِّدُنااَنَسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں کہ رَسُوْلِ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکامعمول تھا کہ اگر کوئی شخص تین دن مسجد سے غائب رہتاتو آپ اُس کے متعلِّق لوگوں سےپوچھا کرتے پس اگر وہ بیمار ہوتا تو اُس کی عیادت فرماتے، اگرسفر میں ہوتا تو اُس کے لیے دعا فرماتے اور اگر گھر میں ہوتا تو اُس سے ملاقات فرماتے۔ ([6])

99رحمتوں کامستحق:

       حدیث شریف میں ہے: جب دو دوست آپس میں مصافحہ کرتے (ہاتھ ملاتے) ہیں تو اُن کے درمیان100رحمتیں تقسیم  کی جاتی ہیں جن میں سے99اُس کے لیے ہوتی ہیں جواپنے رفیق سے زیادہ اُنسیت رکھتا ہے۔ ([7])

مُلاقات کےوقت مُسکرانےکی فضیلت:

       ایک روایت میں ہے: ملاقات کرنے والوں میں سےایک دوسرےکودیکھ کر مسکراتا ہے تو اُن دونوں کے گناہ جھڑجاتے ہیں۔ ([8])

نوری سواریوں کےسوار:

            حضرت سیِّدُناامام مُجاہِدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدفرماتےہیں: اللہتعالٰی کےلیےباہَم محبت کرنے والےاور اللہعَزَّ  وَجَلَّہی کے لیے ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والے جب روزِمحشر اپنی قبروں



[1]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۰۸

[2]   شعب الایمان،  باب فی حقوق الاولاد والاھلین،  ۶ / ۴۱۶،  حدیث: ۸۷۲۴، بتغیر

[3]   الجامع فی الحدیث،  باب الاخاء فی اللّٰہ، ۱ / ۲۹۸،  حدیث: ۲۰۱،  بتغیر قلیل

[4]   حلیة الاولیاء،  ابو رزین،  ۱ / ۴۴۹،  حدیث: ۱۲۷۲،  بتغیر قلیل

[5]    علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۰۹

[6]   مسند ابی یعلٰی،  مسند انس بن مالک،  ۳ / ۲۱۷،  حدیث: ۳۴۱۶،  بتغیر قلیل

[7]   مسند بزار،  مسند عمر بن خطاب،  ۱ / ۴۳۷،  حدیث: ۳۰۸،  بتغیر

[8]   معجم اوسط،  ۵ / ۳۶۶،  حدیث: ۷۶۳۰،  بتغیر قلیل



Total Pages: 54

Go To