Book Name:Bahar-e-Niyat

٭٭٭

دعوتِ اسلامی کے سنتوں  کی تربیت کے مدنی قافلوں  میں  سفر اور روزانہ فکرِ مدینہ کےذریعے مدنی انعامات کارسالہپُر کرکےہرمدنی ماہ کی پہلی تاریخ اپنےیہاں  کےذِمَّہ دارکوجمع کروانےکامعمول بنا لیجئے۔اِنْ شَآءَ اللہعَزَّوَجَلَّاس کی برکت سے پابند ِسنّت بننے، گناہوں  سےنفرت کرنےاورایمان کی حفاظت کےلئےکُڑھنےکا ذہن بنےگا۔

 

پہلے اِسے پڑھ لیجئے

          حضرت سیِّدُناعلامہ سعْدُالدِّین تَفْتازانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتےہیں: اَلنِّیَّۃُ اَنْ یَّقْصُدَ بِقَلْبِہٖ تَوْجِیْہَ فِعْلِہٖ اِلَیاللہِتَعَالٰی وَحْدَہٗیعنی دل سےاپنے عمل کوصرفاللہتعالٰی کے لیے رکھنے کااِرادہ  کرنانیت کہلاتا ہے۔ ([1])

          ہرجائز کام میں ایک سےزیادہ  اچھی نیتیں کی جاسکتی ہیں اوراِس طرح وہ عمل  عبادت   بن جاتا، ثواب بڑھتااوربندہ اَعلیٰ درجات پالیتاہے، تواِس سےبڑاخسارہ کیا ہوگا کہ بندہ غفلت وبھول کے سبب اپنے عمل میں نیت ہی نہ کرے یا ایک سے زیادہ نیتیں نہ کرے۔عالِم ِ نیت، سیِّدِی اَعلیٰ حضرت مولاناشاہ امام احمدرضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن فرماتےہیں:  ’’ جب کام کچھ بڑھتا نہیں،  صِرْف نیّت کرلینے میں ایک نیک کام کےدس ہو جاتےہیں توایک ہی نیّت کرناکیسی حماقت اوربِلاوجہ اپنانقصان ہے۔ ‘‘  ([2])

          شیْخِ طریقت، امیْرِاہلسنت، بانِیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطّارقادریدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے72موضوعات پراچھی اچھی نیتوں سےمُتَعَلِّق اپنے رسالے”ثواب بڑھانےکےنسخے“صفحہ3پرنیت کےپانچ رہنمااُصُول بیان فرمائےہیں جن کاخُلاصہ یہ ہے:  (۱) …بِغیر اچّھی نیّت کے کسی نیک کام کا ثواب نہیں ملتا (۲) …جتنی اچّھی نیّتیں زِیادہ اُتنا ثواب بھی زِیادہ (۳) …نیّت دل کےاِرادےکوکہتے ہیں،  دل میں نیّت ہوتےہوئے زبان سے بھی دوہرا لینا زیادہ اچھا ہے،  دل میں نیّت نہ ہوتو زبان سے نیّت کےالفاظ اداکرلینےسےنیّت نہیں ہو گی (۴) …عَملِ خیرمیں اچّھی نیّت کا مطلب یہ ہےکہ دل عمل کی طرف مُتَوجِّہ ہو اوروہ عمل رِضائے الٰہی کےلیےکیا جا رہا ہو۔نیّت سےعبادات کوایک دوسرےسےالگ کرنایاعبادت اورعادت میں فرق کرنا مقصود ہوتا ہے۔  یاد رہے!صِرْف زَبانی کلام یاسوچ یا بےتوجّہی سےارادہ کرنا ان سب سے نیّت کوسوں دور ہے کیونکہ نیّت اس بات کا نا م ہے کہ دل اس کام کو کرنے کےلیے بالکل تیّار ہو (۵) …جو اچّھی نیّتوں کاعادی نہیں اُسے شُروع میں   بہ تکلُّف اس کی عادت بنانی پڑےگی نیزنیّتوں کی عادت بنانےکےلیےاِن کی اہمیت پرنظررکھتے ہوئےسنجیدگی کے ساتھ پہلے اپناذِہن بنانا پڑے گا۔

          53موضوعات کےمُتَعَلِّق692اچھی نیتوں پرمشتمل پیْشِ نظرکتاب”بہارِنِیَّت“ حضرت علامہ محمدبن عَلَوی بن عُمَرعَیْدَرُوسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی تالیف”کِتَابُ النِّیَّات (مرکز    تریم للدراسات والنشر، مطبوعہ: ۱۴۲۴ہجری) کااُردوترجمہ ہےجس میں امام اَجَل حضرت سیِّدُناامام ابوطالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکی تصنیف”عِلْمُ الْقُلُوْب“سےبھرپور اِستفادہ کیاگیاہے۔علامہ محمدعَیْدَرُوْسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ۱۳۵۱ہجری کو تِرْیَم (یمن)  میں پیدا ہوئےاورساری تعلیم یہاں کےعلمائےکرام سےحاصل کی، پھرطَلَبِ روزگارمیں شہرعدن چلےگئےوہیں آپ نےقرآنِ کریم حفظ کیا، چارسال کے بعدواپس تِریَم آگئے اورمسجدسَقاف میں امام و مُعَلِّم مُقَرَّر ہوئےاورتصنیف وتالیف میں مشغو ل ہوگئے، دینی،  علمی اورثقافتی موضوعات پرآپ نےتقریباً100 کتابیں لکھیں جن میں  سےچندیہ ہیں:   (۱) خَمْسُمِائَةِ سُنَّةٍ مِّنْ سُنَنِ الصَّلَاة (۲) فَوَائِدٌمِّنَ الْاِعْجَازِالْقُرْاٰنِي (۳) نَتْفُ الزَّمَان فِيْ اَخْبَارِمَاقَدْكَان (۴) عِلَاجُ النِّسْيَان (۵) خَوَّاصُ اَسْمَاءِاللهِ الْحُسْنٰى (۶) فَضَائِلُ لَااِلٰہَ اِلَّااللہ (۷) کَیْفَ تَکُوْنُ غَنِیًّاوغیرہ۔      علم وعمل کی پیکریہ شخصیت بروزجمعرات۸ذُوالْقَعْدَۃِ الْحَرَام۱۴۳۲ہجری کو دنیائے فانی سے کوچ کرگئی، آپ کاوصال بھی بڑاقابِل رشک تھا۔چنانچہ جب آپ کو حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُناامام محمدبن محمدغزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیکےہاتھ کالکھاہوا”اِحْیَاءُ الْعُلُوْم“ کانسخہ ملاتوآپ بےاِنتہاخوش ہوئے اوراپنی جگہ سےہلےبغیراس کامطالعہ کرتے رہےاوراسی حالت میں مسکراتےہوئےانتقال فرماگئے۔مزارفائِضُ الانوارحَضْرَمَوت کے علاقے تِرْیَم  (یمن)  میں  واقع ہے ۔       مجلساَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّہ کےشعبہ تراجِمِ کُتُب نےاِس کتاب کااُردو ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل کی، کتاب میں دئیےگئےحوالہ جات کی حتَّی المقدرتخریج کردی  گئی ہے، پڑھنےوالوں کی دلچسپی کےلئےجابجامختلف عنوانات قائم کئےگئےہیں اورعوام کی تشویش کاباعث بننےوالے دوایک مقامات کاترجمہ نہیں کیاگیا۔خودبھی اِس کتاب کا مطالعہ کیجئےاوردوسرے اسلامی بھائیوں کوبھی  ترغیب دلائیے، ممکن ہو تو دوسروں کو تحفے میں پیش کیجئے، اللہکریم ہمیں اچھی اچھی نیتیں کرکے اپنے اعمال کا ثواب بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

شعبہ تراجِمِ کُتُب

(مَجْلِس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّہ)

٭٭٭

آغازِسُخن

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَصَلَّی اللہُ وَسَلَّمَ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍسَیِّدِ

الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن، اَمَّابَعْدُ

          میں سب سےپہلےاللہعَزَّ  وَجَلَّکی حمدکرتا ہوں کہ اُس نے مجھےیہ کتاب  لکھنےکی توفیق دی اوراِس پرمیری مددفرمائی اورمیں اُسی ربِّ کریمعَزَّ  وَجَلَّسےسوال کرتا ہوں کہ یہ کتاب اُس کی بارگاہ میں قبول ہوجائے۔یہ اللہعَزَّ  وَجَلَّ کا فضل ہے کہ اِس کتاب کا پانچ مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوچکاہےاوراِسے ملک وبیرونِ ملک میں  بڑی پَزِیْرائی  حاصل  ہوئی ۔اب یہ کتاب دوبارہ چھپنے جا رہی ہےاوریہ ایڈیشن تصحیح شدہ ہےاوراِس میں کچھ اضافہ جات بھی کیے گئے ہیں۔

          اللہرَبُّ الْعٰلَمِیْنسےدعاہےکہ وہ اِس  ایڈیشن کےنفع وبھلائی کوعام فرمائے،  بے شک اعمال نیتوں کے ساتھ ہیں اور ہر شخص کو وہی ملے گاجس کی اُس نے نیت کی۔

اچھی نیتوں کی اہمیت:

          رَسُوْلِ اَکرم، شفیْعِ اَعْظَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَالِکُلِّ امْرِ ئٍ مَّانَوٰییعنی اعمال کامدارنیتوں پر ہے اور ہرشخص کےلیے وہی ہے جس کی اُس نے نیت کی۔ ([3])

          حضوررَحمَتِ عالَم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: اِنَّمَایُبْعَثُ النَّاسُ عَلٰی نِیَّاتِہِمْیعنی روز محشرلوگوں کو اُن کی نیتوں پر اُٹھایا جائے گا۔ ([4])

 



[1]   شرح التلویح علی التوضیح، ۱ / ۲۱۰

[2]   فتاوٰی رضویہ، ۲۳ / ۱۵۷

[3]   بخاری،  کتاب بدء الوحی،  باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللّٰہ، ۱ / ۵،  حدیث: ۱

[4]   ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب النیة، ۴ / ۴۸۲، حدیث: ۴۲۲۹



Total Pages: 54

Go To