Book Name:Bahar-e-Niyat

انجیل مُقَدَّس اور قرآنِ کریم میں لعنت آئی ہے۔

مسلمان کی تعظیماللہ کی تعظیم ہے:

       حضورتاجدارِرسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ ذیشان ہے: جواپنےمسلمان بھائی کی تعظیم کرتا ہے بے شک وہ اللہعَزَّ  وَجَلَّکی تعظیم کرتاہے۔ ([1])

       حضرت سیِّدُناامام جعفرصادقرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں: ایک میل تک چل کر جاؤاور کسی نیک شخص کے جنازہ میں شرکت کرواور چھ میل تک چل کرجاؤاور اللہعَزَّ  وَجَلَّ کی خاطر اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کرو۔ ([2])

پانچ چیزیں مقبول ہی مقبول ہیں:

       حضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن مُبارَکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: پانچ چیزیں زمین سےآسمان کی طرف مکمل بلند ہوتی ہیں :  (۱) …مومن کی عزت وحرمت (۲) …نعمَتِ الٰہی کاشکر (۳) …والدین کاحق (۴)…دنیاسےبےرغبت عالِم کی تعظیم اور (۵) اللہعَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت۔ ([3])

حکایت: 100حج سےافضل عمل

رضائے الٰہی کے لیے دوستی رکھنے والے دو افراد کی باہم ملاقات ہوئی توایک نے دوسرے سے پوچھا: آپ کہا ں سےآرہےہیں؟دوسرےنےکہا: میںاللہعَزَّ  وَجَلَّکے حرمت والے گھر (کَعْبَۃُاللہِالْمُشَرَّفَہ) کا حج اوررَسُوْلِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےروضَۂ اَقدس کی زیارت کرکےآرہا ہوں اورآپ کہاں سےآرہےہیں؟پہلےنے بتایا: اپنے ایک بھائی سےملاقات کرکےآرہاہوں جس سےمیںاللہتعالٰی کےلیےمحبت کرتا ہوں۔ دوسراکہنےلگا: کیاآپ مجھےاپنی ملاقات کی فضیلت (اجروثواب) تحفےمیں دیتےہیں تاکہ میں اپنے حج کا ثواب آپ کوتحفہ میں دےدوں ؟یہ سُن کر پہلا شخص کچھ دیر کےلیے سوچ میں پڑگیا۔اتنےمیں کسی نےغیب سےآواز دی، پکارنےوالانظرنہیں آرہاتھامگر اُس کی آواز سنائی دے رہی تھی، وہ کہہ رہا تھا: اللہعَزَّ  وَجَلَّکے لیے مسلمان بھائی سے ملاقات کرنابارگاہِ الٰہی میں100حج سےافضل ہےسوائےحِجَّۃُ الْاِسْلَام (فرض حج) کے۔ ([4])

دوسری نِیَّت

       ملاقات سےاپنےمسلمان بھائی کومانوس کرنےاوراُس کےدل کو اپنے لیے بدلنے کی نیت کرےتاکہ دونوں کےدرمیان (مزید) محبت  پیداہو۔اللہتعالٰی ارشاد فرماتا ہے:

لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْؕ- (پ۱۰، الانفال: ۶۳)

ترجمۂ کنز الایمان: اگرتم زمین میں جوکچھ ہے سب خرچ کردیتےان کےدل نہ ملاسکتےلیکن اللہنےان کےدل ملادیئے۔

       حضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا: یہ آیَتِ مُبارَکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکےلیے باہم محبت کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ([5])

باہمی محبت کومضبوط کرنےوالی چارخوبیاں:

       منقول ہےکہ چارخوبیاں بھائی کی بھائی سےمحبت کومضبوط کرتی ہیں:  (۱) … ملاقات وزیارت (۲) …سلام (۳) …مصافحہ اور (۴) …تحفہ۔ ([6])

       نیزاِس ملاقات سےکچھ اور حاصل نہ بھی ہوکم از کم بندہ اِس کی بدولت مسلمان بھائی کے دل میں خوشی تو داخل کرسکتا ہے۔ ([7])

       بعض بزرگوں نے فرمایا: بھائی چارگی کی فضیلت اُلفت، وابستگی اور دائمی محبت ہے۔ ([8])

مُحِب کی نگاہ محبوب کوتلاش کرتی ہے:

       خلیفہ ہارون رشیدنےعلی بن جَہْم سےکہا: قُرب کےمُتَعَلِّق مجھےاپناکوئی شعر سناؤ۔ اُس نے عرض کی : جی۔چنانچہ ( اس نےیہ اشعارسنائے) :

اَلَّفْتُ التَّوْحِیْدَ وَ الْقُرْبَةَ                                                                                              وَ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ اَرٰی تُرْبَة

فَیَوْمٌ مُّطِیْلٌ عَلٰی نِعْمَةٍ                                                                                                    وَّ یَوْمٌ مُّقِیْمٌ عَلٰی نُکْبَة

وَ مِمَّا یَطْلُبُ عَیْنُ الْحَبِیْبِ                                                                                     حَبِیْبَ تَطَیَّبَ بِہِ الصُّحْبَة

 



[1]   مسند حارث،  کتاب الصلاة،  باب  فی خطبة قد کذبھا... الخ،  ۱ / ۳۱۶،  حدیث: ۲۰۵

[2]   تاریخ بغداد،  رقم۵۸۵۶ ، عیسی بن الفیروزان،  ۱۱ / ۱۶۳،  بتغیر،  عن معروف الکرخی

[3]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۰۸

[4]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۰۸

[5]   مسند بزار،  ابو اسحاق الھمدانی عن ابی الاحوص عن عبداللّٰہ،  ۵ / ۴۳۹،  حدیث: ۲۰۷۷

[6]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۰۸