Book Name:Bahar-e-Niyat

ترجمۂ کنزالایمان: اورستھرےکےبدلے گندا نہ لو۔ ([1])

چوتھی آفت

       ملاقات کی چوتھی آفت وبُری نیت یہ ہے کہ بندہ لوگوں سے تعریف  کروانے کی غرض سے اپنے بھائی سے ملاقات کرے۔

سچاانسان اپنی نیکیاں چھپاتاہے:

       کہتےہیں کہ سچاانسان اپنی نیکیاں چھپاتاہےجیسےدوسرااپنی بُرائیاں چھپاتاہےاور اُس کواپنی نیکیاں قبول نہ ہونے کاخوف اِس دوسرے کے بُرائیوں کی بخشش نہ ہونے  کے خوف سے زیادہ ہوتا ہے۔ ([2])

پانچویں آفت

       ملاقات کی پانچویں آفت وبُری نیت یہ ہے کہ بندہ مال کے حصول کے لیے اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کرے۔

حکایت: مریدوں کی اصلاح وتربیت

       منقول ہےکہ حضرت سیِّدُناشیخ شِبْلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے مریدین میں سے بعض درویشوں کی حالت یہ تھی کہ جب آپ کے پاس وُسعت وگنجائش ہوتی توآپ کے ساتھ رہتے اور اگر تنگی ہوتی تو چھوڑ کر چلے جاتے۔ایک دن آپ نے ارشاد فرمایا: اِن بیوقوفوں کو دیکھو ، میں اِنہیں اللہعَزَّ  وَجَلَّکےلیے چاہتا ہوں اوریہ مجھے دنیااورنفس کی خاطرچاہتےہیں۔ایک دن آپ تشریف فرماتھےکہ ایک مصری شخص حاضرخدمت ہواجس کےپاس200دینارتھے، اُس نےوہ دینارآپ کےسامنےڈال دیئے۔درویشوں کو  پتا چلا تو وہ جلدی سے آپ کے پاس پہنچ گئے، جیسےہی وہ آپ کےگھرمیں  داخل ہوئے توآپ سمجھ گئےکہ یہ کیوں آئےہیں۔پس آپ کھڑےہوگئےاوروہ دیناراٹھالیےاورایک  ہمواروتنگ راستےدریائےدجلہ تک پہنچ گئےاوراُس کےکنارےکھڑےہوکردیناروں کواپنی ہتھیلی پررکھ کربلندکیااور (دیناردریامیں پھینکتےہوئے) یہ آیَتِ مبارَکہ تلاوت کی:

وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًاؕ-لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا (۹۷)   (پ۱۶، طٰہٰ: ۹۷)

ترجمۂ کنز الایمان: اوراپنےاس معبودکودیکھ جس کےسامنےتودن بھرآسن مارے (پوجاکے لئےبیٹھا) رہاقسم ہے ہم ضروراسےجَلائیں گے پھرریزہ ریزہ کر کےدریامیں بہائیں گے۔

       پھر فرمایا: جو مجھے چاہتا ہے میرے پیچھے چلاآئے اور جو دیناروں کو چاہتا ہے وہ اِن کے پیچھے چلا جائے۔ ([3])

       حضرت سیِّدُناعُمَربن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزفرماتےہیں: کسی کی ایسی محبت سے بچ جو وہ تجھ سے اپنی حاجت کے مطابق کرے کیونکہ جب وہ اپنی حاجت  کو کم کرے گا تو محبت ختم ہوجائے گی۔ ([4])

مُلاقات کی سات اَچّھی نِیَّتَیں

       بندۂ مومن کوچاہیےکہ اپنےمسلمان بھائی سےدرج ذیل سات نیتوں سےملاقات کرےتاکہ اُسےڈھیروں اجروثواب حاصل ہو۔

پہلی نِیَّت

       ملاقات کرنےوالااپنے مسلمان بھائی کی حرمت ، عزت  اور مقام ومرتبہ کی خاطر اُس سے ملاقات  کرے۔جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:

بندۂ مومن کی حُرمَت:

       حضورتاجدارِدوجہاں، رَحمَتِ عالمیاںصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےخانہ کعبہ کو دیکھ کراِرشادفرمایا: بےشک اللہعَزَّ  وَجَلَّنے تجھے شَرَف وعظمت سےنوازا ہےمگر بندۂ مومن حرمت میں تجھ سے بڑھ کر ہے۔ ([5])

عالِم، طالِبِ عِلم اورمومن کی شان:  

            مروی ہےکہ جس نے کسی عالِم کی تعظیم کی اُس نے70نبیوں کی تعظیم کی اورجس نے کسی طالِبِ علم کو عزت دی اُس نے70شہیدوں کو عزت دی ([6])  اور جس نے کسی مومن کواذیت دی اُس نےانبیائےکرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکواذیت پہنچائی اورجس نےانبیائے عظامعَلَیْہِمُ السَّلَامکواذیت پہنچائی اُس نےاللہتعالٰی کواذیت دی اورجس نےاللہعَزَّ  وَجَلَّ کو اذیت دی اُس پر توریت شریف،



[1]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۰۶

[2]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۰۶

[3]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۰۶

[4]   قوت القلوب،  الفصل الرابع والاربعون،  فی الاخوة فی اللّٰہ والصحبة... الخ،  ۲ / ۳۷۳

[5]   معجم اوسط، ۴ / ۲۰۳،  حدیث: ۵۷۱۹

[6]   مسند فردوس،  ۳ / ۵۷۶،  حدیث: ۵۸۰۵



Total Pages: 54

Go To