Book Name:Bahar-e-Niyat

انکارکرتےہوئےکہا: میں روح کی خواہش کےسبب تم سےملاقات کرنےآیا ہوں،  ہوائےنفس اورپیٹ کی خواہش کےسبب نہیں۔چنانچہ اُس نےکھانانہیں کھایا۔ ([1])

حکایت: نفس کی غذاپرروح کی غذاکوترجیح

       ایک مریدنےاپنےشیخ سےملاقات کی تاکہ اُن سےمعرفت کےمُتَعَلِّق کچھ پوچھے،  مریدجب بیٹھ گیاتواُسےکھاناپیش کیاگیا، اُس نےعرض کی: شیخ!میں اِس کھانےسے زیادہ کسی اور شے کامحتاج ہوں اور آپ پر اِس کے علاوہ کوئی اورچیززیادہ لازم ہے، ہم نےآپ سے (تصوُّف کے) کسی نکتےکےلیےملاقات کی ہے (کھانے کے) لقمےکےلیے آپ کی زیارت نہیں کی، اگر ہماری نیت کھانے کی ہوتی تو یہ تو ہمیں آپ کے علاوہ کسی اورسےبھی مل جاتا، ہم تو آپ کےپاس  وہ شےلینےآئےہیں جو ہمیں آپ کےعلاوہ کسی اورسےنہیں ملتی ، نفس  کی غذا تو ہم نے رات کوہی کھائی ہےمگر روح کی غذاہمیں40 دن سےنہیں ملی حالانکہ روح کی غذاہمیں نفس کی غذاسےزیادہ محبوب وپسندہےلہٰذا آپ زیادہ پسندیدہ شےسےآغازفرمائیےاللہتعالٰی آپ کوعزت وبزرگی سےنوازے۔ کیونکہ میں نےآپ کواپنےمشائخ سےیہ فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیان کرتے سناہےکہ”مومن وہی ہےجواپنےدین کواپنی خواہش پرترجیح دے۔“ ([2]) شیخ نےجواب دیتے ہوئےفرمایا: تم کھاناکھاؤ، میں تمہیں کھانےکی فضیلت اورمسلمان بھائیکی دعوت قبول کرنےپر14حدیثیں سناتاہوں۔مریدنےعرض کی: یاشیخ!جب کھانے کی فضیلت پر14حدیثیں ہیں توکھانانہ کھانےکی فضیلت پرتو24حدیثیں ہوں گی۔چنانچہ اُس نے کھانانہیں کھایا۔ ([3])

حکایت: پیٹ کودین کاراستہ نہ بناؤ

       درویشوں کے ایک گروہ نے کسی عالِم کے گھر کا قصدکیا، جب وہ اُن کے گھرپہنچے توانہوں نے اُن کے ساتھ بیٹھنے سے پہلے ہی کھانا لانے کا اشارہ کردیا، کھانا پیش کیاگیاتو اُن میں سےایک درویش کھڑاہوگیا۔عرض کی گئی: کہاں جاتےہیں؟کہا: میری حاجت توکھانے والے سے وابستہ ہے۔دوسروں نے کہا: آپ تشریف رکھیے، ہم فارغ ہوکر آپ کواوراِن کو ملادیتے ہیں۔درویش نے کہا:  ایسا ہرگز  نہیں ہوسکتا کہ میں اپنے پیٹ کواپنے دین کا راستہ بناؤں۔ ([4])

دوسری آفت

       ملاقات کی دوسری آفت وبُری نیت یہ ہے کہ بندہ عزت کےحصول، دکھاوے اورفخرومُباہات کےلیے ملاقات کرے۔

       منقول ہےکہ حضرت سیِّدُنافُضَیل بن عِیاض اورحضرت سیِّدُناسفیان ثوریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاکی ملاقات ہوئی، ایک نےدوسرےکونصیحت کی تودونوں رونےلگے،  حضرت سیِّدُناسفیان ثوری نےکہا: ”مجھےامُیدہےکہ آج کی اِس مجلس سے زیادہ پسندیدہ مجلس میں ہم پہلےکبھی نہیں بیٹھے۔“حضرت سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کہا: کیاآپ  اپنے پاس سے اچھے اچھے الفاظ منتخب کرکےمجھ سےباتیں نہیں کررہےاور میں بھی اپنےپاس سےاچھی اچھی باتیں چن کر آپ سے گفتگو نہیں کررہاتھا؟ یوں ہم دکھاواکرنے والے ہوگئے۔ ([5])

تیسری آفت

       ملاقات کی تیسری آفت وبُری نیت یہ ہے کہ بندہ پہچان اور مقام ومرتبہ کی خاطر اپنےبھائی سےملاقات کوجائےتاکہ وہ اِس کااِکرام وتعظیم کرے۔

حکایت: کہیں میراثواب ضائع نہ ہوجائے

       منقول ہےکہ صوفیاء کاایک گروہ حضرت سیِّدُناابوعلی رُوزباریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کی خدمت میں حاضر ہوا، اُن میں ایک نوجوان بھی تھاجسےحضرت نہیں جانتے تھےتو آپ نے لوگوں سے پوچھا: یہ نوجوان کہاں سےآیاہے، میں اِسے پہچانتانہیں ہوں؟ نوجوان نے عرض کی: میں نےآپ کو پہچان کروانے کے لیے آپ کی زیارت نہیں کی  بلکہ میں نے آپ سے ملاقات  ایک ایسی ہستی  کے اِکرام واِحترام کےلیے کی ہے جس کےساتھ میری پچھلے30سال سےپہچان ہے۔حضرت سیِّدُناابوعلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینے پوچھا: تمہارانام کیاہے؟عرض کی: آپ کی پہچان ہی میرا نام ہے ، مجھے ڈر ہےکہ کہیں میرا یہ ثواب ضائع نہ ہوجائے ۔ پھر آپ نےاپنے پاس موجودکھانا اُسے پیش کیاتو وہ نوجوان کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا:  ہمیں طَیِّب کےساتھ خبیث کو (یعنی اعمال کوبُری نیتوں

کے ساتھ)  ملانے سے منع کیا گیا ہے۔ارشادِ باری تعالٰی ہے:

وَ  لَا  تَتَبَدَّلُوا  الْخَبِیْثَ  بِالطَّیِّبِ   ۪-  (پ۴، النسآء: ۲)

 



[1]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۰۵

[2]   السنة لعبداللّٰہ بن احمد، سل عن الایمان والردعلی المرجئة   الخ، ۱ / ۳۷۴

[3]    علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۰۵

[4]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۰۶

[5]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۰۶



Total Pages: 54

Go To