Book Name:Bahar-e-Niyat

کرپائے۔تو ایسے شخص کی کوشش رائیگاں جاتی ہے اورعمل ضائع ہوجاتاسوائےیہ کہ اللہکریم اُسےاپنی رحمت سےنوازدے۔لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ ([1])

مسجد میں بیٹھنے کی نِیَّتَوں کا خُلاصہ

       مسجد میں بیٹھنے والایوں نیتیں کرے:   (1) …جماعت کے ساتھ نمازپڑھوں گا اوراُس کی محافظت کروں گا۔ (2) رَسُوْلِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مُوافَقَت واِتِّباع کروں گا۔ (3)…مسلمانوں کےمجمع میں اضافہ کروں گا۔ (4) …ایک نماز کےبعددوسری نمازکےانتظارکےلیےجمارہوں گا۔ (5) …مسجدمیں بیٹھ کراپنے کان، آنکھ، زبان اوردیگراَعضاء کو ممنوعات سےبچاؤں گااوررُہبانیت اختیارکروں گا  (یعنی عبادت وریاضت میں مبالغہ کروں گااورلوگوں سےدور رہوں گا) ۔  (6) …مسجدسے نکلنےتک مسجدمیں اعتکاف کی نیت سےرہوں گا۔ (7) …علم حاصل کروں گااورذکر کےحلقوں میں شریک رہوں گا۔ (8) …یہ نیت کرتا ہوں کہ شاید اللہعَزَّ  وَجَلَّکی خاطرکسی مسلمان بھائی سے اچانک ملاقات ہوگئی تواُس سےفائدہ اٹھاؤں گاتاکہ وہ دنیاوی زندگی میں نفع کاسبب بنے اوربعدِوفات بارگاہِ الٰہی میں میری شفاعت کرے۔  (9)…بارگاہِ الٰہی سےنُزولِ رحمت کامنتظررہوں گا۔ (10) …مسلمان بھائیوں سے حیاکرتے ہوئے اور اُن  کی نفرت وبیزاری کے خوف سےگناہوں کو ترک کروں گا۔

(11) …عذابِ الٰہی سےچھٹکاراحاصل کروں گاتاکہ اُمیدوں میں کمی کرنےوالا بن جاؤں اور دنیاوی زندگی کی تعمیروترقی سے بے رغبت ہوجاؤں۔ (12) …اللہ تعالٰی کےلیے بنائے گئے دوستوں سے ملاقات کروں گا۔

مسجدسےنکلتےوقت کی دعا:

           (13) مسجدسےنکلتےوقت یہ دعاپڑھوں گا: بِسْمِ اللہِ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسَئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ، اَللّٰھُمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمیعنیاللہ عَزَّ  وَجَلَّکےنام سےشروع اوراللہتعالٰی کےرَسُوْل پردُرُودوسلام نازل ہو۔اےاللہعَزَّ  وَجَلَّ! میں تجھ سےتیرےفضل کاسوال کرتاہوں۔اےاللہعَزَّ  وَجَلَّ!مجھےشیطان مردودسےمحفوظ رکھنا۔ ([2])

مُسلمان بھائیوں سے مُلاقات کی نِیَّتَیْں

       رِضائےالٰہی کےلیےمسلمان بھائیوں سےملاقات کرنابھی مؤمنوں کےلیے باعِثِ فضیلت  اعمال میں سے ہے، لہٰذا بندےکو چاہیے اپنی نیت کو صاف ستھرا کرے  اوریہاں سات اچھی اورفضیلت والی نیتیں  جبکہ پانچ بُری ومذموم نیتیں ہیں اورپہچان رکھنےوالے پر لازم ہےکہ وہ اچھی اور بُری نیتوں کو پہچانے تاکہ بُری سے بچ کراچھی کی پیروی کرے ۔وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللہ

       منقول ہےکہ ایک صوفی بُزرگ نے اپنے ایک شاگردسے پوچھا:  تم کہاں جانے کااِرادہ رکھتےہو؟عرض کی: فلاں شخص سےملنےکااِرادہ ہے۔فرمایا: کیاتم ملاقات کی آفت کوجانتےہو؟عرض کی: نہیں۔فرمایا: جان لوکہ جواپنےمسلمان بھائی سےدرج ذیل پانچ نیتوں سے ملاقات کرتا ہے تو ایسی ملاقات اللہعَزَّ  وَجَلَّکو پسند نہیں۔ ([3])

ملاقات کی پانچ آفتیں اوربُری نِیَّتَیْں

پہلی آفت

       ملاقات کی پہلی آفت وبُری نیت یہ ہے کہ بندہ کھانےاورخواہش پوری کرنے کےلیےملاقات کرے۔

بُرابندہ:

       حضورنَبِیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: وہ بندہ بُرا ہےجسےلالچ چلائےاوروہ بندہ بھی بُراہےجسےخواہش گمراہ کردے۔ ([4])

آخری زمانےمیں لوگوں کاخدا، دین اورزیور:

       حضرت سیِّدُناسہلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں: آخری زمانےمیں کچھ ایسے لوگ نکلیں گےجن کےمعبوداُن کےپیٹ ہوں گے، جن کادین اُن کالباس ہوگااورجن کا زیور اُن کا کلام ہوگا۔([5])

حکایت: روح کی خواہش

            ایک درویش نے رضائے الٰہی کے لیے ایک دوست سے ملاقات کی، جب وہ بیٹھ گیاتودوست نےکھاناپیش کیااورکھانےکےلیےاِصرارکرنےلگا، درویش نےکھانے سے



[1]   علم القلوب، باب النیة فی جلوس العبدفی المساجدوالقعودفیھا، ص۱۹۹

[2]   تفسیر قرطبی،  پ۱۸،  النور،  تحت الایة: ۳۶،  ۱۲ / ۲۱۰،  بتغیر قلیل مسلم،  کتاب صلاة المسافرین وقصرھا،  باب مایقول اذا دخل المسجد، ص ۲۸۱،  حدیث: ۱۶۵۲

[3]   علم القلوب، باب النیة فی زیارة الاخوان، ص۲۰۵

[4]   ترمذی،  کتاب صفة القیامة،  باب۱۷،  ۴ / ۲۰۳،  حدیث: ۲۴۵۶

[5]   قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین  علماء الدنیا... الخ، ۱ / ۲۷۷، بتغیر قلیل



Total Pages: 54

Go To