Book Name:Bahar-e-Niyat

جس سےفرشتےبھی حیاکریں:

        (ایک طویل حدیْثِ پاک میں) مروی  ہےکہ جب حضرت سیِّدُناعُثمان بن عَفّان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبارگاہِ رسالت میں حاضرہوئےتوحضورتاجدارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاپنی پنڈلی مُبارَک چھپالی جبکہ اُس وقت بارگاہِ عالی میں حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق، حضرت سیِّدُناعُمَرفاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاحاضر تھےاورپنڈلی شریف کھلی ہوئی تھی۔جب آپ سےاِس عمل کے بارے میں عرض کی گئی توارشادفرمایا: کیا میں اُس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتےہیں۔ ([1])

گیارھویں نِیَّت

       مسجدمیں بیٹھنےوالا عذابِ الٰہی سے چھٹکارے کی نیت کرے  ، یوں وہ اپنی اُمیدوں میں کمی کرنےوالااوراپنی دنیاوی زندگی کی تعمیروترقی سےبےرغبت ہوگااوراِس حالت میں وہ صاحِب فضیلت ہوگا۔

مساجدمیں بیٹھنےکی برکات:

          حضرت سیِّدُنامالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں:  ”اگر آسمان سے کوئی عذاب نازل ہوتومسجدوں والے اُس سے محفوظ رہیں گے۔“ ([2])

          منقول ہے کہ اللہعَزَّ  وَجَلَّ کا ذکرکرنے والوں کومُہْلِک عذاب نہیں پہنچتے۔ ([3])

بارھویں نِیَّت

          مسجدمیں بیٹھنےوالااللہتعالٰی کےلیےبنائےگئےدوستوں سےملاقات کی نیت کرےپس  اُس کی ملاقات اللہعَزَّ  وَجَلَّکےلیےہوگی اوراللہ تعالٰی کے گھرمیں  اُسے دیکھنا ہوگاتو یوں اُسے اللہ کریم کی بارگاہ سےثواب ملے گا۔چنانچہ

70ہزارفرشتوں کاساتھ اوردعا:

          مروی ہےکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکےپیارےحبیب، حبیْبِ لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےحضرت سیِّدُناابورَزِیْن عُقَیْلیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےارشادفرمایا: کیاتم جانتےہوکہ  جب بندہ اپنے گھرسےاللہ تعالٰی کی رضاکےلیےاپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کرنے جاتا ہےتو70ہزارفرشتےاُس کےساتھ چلتےہیں اوراُس پردرود (رحمت) بھیجتےہوئےدعا کرتےہیں کہ اےہمارےربعَزَّ  وَجَلَّ!اِس نے تیرے لیےحُسْنِ سُلُوک کیا تو بھی اِس کے ساتھ اچھاسلوک فرما۔ ([4]) تواگرتم اپنے جسم کو اِس میں لگاسکتے ہوتو ضرور لگاؤ۔

          یہاں حضورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاللہعَزَّ  وَجَلَّکی رضاکےلیےمسلمان بھائی سے ملاقات کا حکم دیاہے۔

محبَّتِ اِلٰہی کےمستحق:

       حضورسرورِکونینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: اللہتعالٰی ارشادفرماتا ہےکہ میری محبت اُن بندوں کےلیے لازم ہوگئی جومیرےلیےایک دوسرے سے ملتے،  میری خاطرباہم محبت کرتےاورمیری وجہ سےہی ایک دوسرے کو کچھ دیتے ہیں۔ ([5])

نیکی کرواگرچہ میلوں سفرکرناپڑے:

       ایک روایت میں ہےکہ ایک میل چل کرجاؤاورکسی متقی امام کےپیچھےنماز پڑھو،  دو میل چل کر جاؤاور کسی مریض کی عیادت کرو ، تین میل چل کرجاؤ اور کسی جنازہ میں شرکت کرو،  جہاں ذکرِاِلٰہی ہواُس علم کی مجلس میں حاضر ی کے لیے چار میل تک چل کر جاؤ، پانچ میل چل کر جاؤاوردوناراض افراد کے مابین صلح کرواؤاور چھ میل  تک چل کرجاؤاوررضائےربُّ الاَنام کے لیے  کسی مسلمان بھائی کی  زیارت کرو ([6]) ۔ ([7])

            اگر کوئی عالِم ہواور پہچان رکھتا ہوتو اس کے لیے بیان کردہ تمام نیتیں  ایک ہی عمل میں جمع ہوسکتی ہیں اور اُسے ہر نیت کے بدلے عظیم اجراور بڑا ثواب عطا  ہوگا لہٰذا ایسا بندہ جسے  اچھی نیتوں کی بدولت ایک ہی عمل میں بہت سارے اجرحاصل ہوجائیں اُس میں اور ایسے بندے  میں بڑا فرق ہے جونیت کی دُرُستی بھول جانے کے سبب کثیر اعمال میں ایک بھی اجر حاصل نہ



[1]   مسلم،  کتاب فضائل الصحابة،  باب من فضائل عثمان بن عفان،  ص۱۰۰۴ ، حدیث: ۶۲۰۹

[2]   علم القلوب، باب النیة فی جلوس العبدفی المساجدوالقعودفیھا، ص۱۹۸

[3]   علم القلوب، باب النیة فی جلوس العبدفی المساجدوالقعودفیھا، ص۱۹۸

[4]   حلیة الاولیاء،  ابو رزین،  ۱ / ۴۴۹،  حدیث: ۱۲۷۲،  بتغیر قلیل

[5]   مسند احمد،  مسند انصار،  ۸ / ۲۳۲، حدیث: ۲۲۰۶۳

[6]   یعنی مستحب ہے کہ طویل سفرطےکرکےبھی ان اعمال کوبجالانےکی کوشش کروکہ مریض کی عیادت کےلئے طویل مَسافت طے کرواورصلح کروانے کےلئےاس سےدُگنی اورمسلمان بھائی کی زیارت کےلئےاس سے بھی دُگنی مَسافت طے کرو۔(فیض القدیر، ۲ / ۲۴۶، تحت الحدیث: ۱۶۴۷)

[7]   حلیة الاولیاء،  عطاء بن میسرة،  ۵ / ۲۲۵،  رقم: ۶۹۱۲،  بتغیر تاریخ بغداد،  رقم۵۸۵۶ ، عیسی بن الفیروزان،  ۱۱ / ۱۶۳،  بتغیر



Total Pages: 54

Go To