Book Name:Bahar-e-Niyat

عذاب دےگا؟حضرت سیِّدُنا ثابت بُنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتےہیں: اُس وقت میں نےہاتِفِ غیبی سےایک آوازسنی  کہ ’’  ہاں! وہ ایسانہیں کرے گا۔ ‘‘  ([1])

آٹھویں نِیَّت

       مسجدمیں بیٹھنےوالایہ نیت کرےکہ شایداللہعَزَّ  وَجَلَّکی خاطرکسی مسلمان بھائی سےاچانک ملاقات ہوجائے اور  اُس سے فائدہ اٹھایا جائے کہ وہ دنیا کی زندگی میں اُسے نفع دے اور مرنے کے بعد اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں اُس کی شفاعت کرے۔

نویں نِیَّت

       مسجدمیں بیٹھنے والابارگاہِ الٰہی سےنُزولِ رحمت کےاِنتظار کی نیت کرے تاکہ وہ بھی اُن میں سے ہوجائے جنہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے۔

محفل ذکرکی برکتیں:

                             رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرماتےہیں: جولوگاللہعَزَّ وَجَلَّ کاذکر کرنےکےلیےکہیں بیٹھتےہیں تورحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہےاورفرشتےانہیں گھیرلیتے ہیں، اللہ تعالٰی اپنےپاس نوری مخلوق میں  اُن کا ذکرفرماتا ہے اورایک پکارنےوالا انہیں پکار کرفرماتاہے: بخشےہوئےاٹھو، میں نےتمہارےگناہوں کونیکیوں میں تبدیل کردیا ہے۔ ([2])

مسجدیں دارُالاَمان ہیں:

       حضورتاجدارِرِسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: مسجدیں دارُالاَمان ہیں جہاں انہیں آباد کرنے والےامن میں ہیں، مسجدیں محفوظ جگہیں ہیں جہاں انہیں آبادکرنےوالےحفاظت میں ہیں اورمسجدیں آرائش گاہیں ہیں جہاں انہیں آباد کرنے والےسنورتےہیں اور جب تک وہ مسجدوں میں ہوتےہیں اللہ تعالٰی اُن کی حاجتوں کو پورا فرماتااور اُن کی حفاظت فرماتاہے ۔ ([3])

فرشتوں کی دعاکامستحق کون؟

       سرورِکونین، شہنشاہِ دارَیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرماتےہیں: تم میںسے کوئی نماز پڑھ کر جب تک اُسی جگہ بیٹھا رہتا ہےتوفرشتے اُس پر درودبھیجتے رہتے ہیں اور اُس پررحمت نازل ہوتی ہےاورجب تک اُس کاوضوقائم رہتاہےفرشتےدعا کرتے ہیں: اے اللہعَزَّ  وَجَلَّ!اِس پر رحم فرما۔پھر اگر اُس کا وضوٹوٹ جائے تو اَب نماز قبول نہیں ہوگی یہاں تک کہ وُضوکرلے۔ ([4])

دسویں نِیَّت

       مسجدمیں بیٹھنےوالانیت کرےکہ شایدوہ مسلمان بھائیوں سےحیااوراُن  کی نفرت وبیزاری کے خوف سےگناہوں کو چھوڑدے۔جیسا کہ حضورنَبِیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: اللہعَزَّ  وَجَلَّسے حیا کر جیسا کہ تو اپنی قوم کے نیک آدمی  سے حیا کرتا ہے۔ ([5])

کس کی صحبت اختیارکی جائے؟

       حضرت سیِّدُناعیسیٰرُوْحُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنےارشادفرمایا: ایسےبندے کےپاس بیٹھو جس کی زیارت تمہیں اللہ تعالٰی کی یاددِلائے، جس کی گفتگو تمہارے عمل میں اضافہ کرے اور جس کا عمل تمہیں آخرت کی رغبت دے۔ ([6])

      حضرت سیِّدُناحاتِم اَصَمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمفرماتےہیں: تم پر ایسےشخص کی صحبت لازم ہے کہ جب تم اُسے دیکھو تو تمہارے دل پر اُس کی ہیبت  طاری ہوجائے ، اُس کی زیارت تمہیں بیوی بچے بھلا دے اور جب تک تم اُس کے قُرب میں رہو تو اپنے مولیٰ تعالٰی کی نافرمانی نہ کرو۔ ([7])

       ایک صاحِبِ معرفت بزرگ فرماتے ہیں: میں نیک بندے سے اُسی طرح حیا کرتا ہوں جیسےاللہعَزَّ  وَجَلَّسےحیاکرتاہوں۔ ([8])

 



[1]    علم القلوب، باب النیة فی جلوس العبدفی المساجدوالقعودفیھا، ص۱۹۷

[2]   معجم کبیر،  ۶ / ۲۱۲،  حدیث: ۶۰۳۹،  بتغیر قلیل

[3]   تفسیر قرطبی،  پ۱۸،  النور،  تحت الاٰیة: ۳۶،  ۱۲ / ۲۰۳

[4]   بخاری،  کتاب الصلاة،  باب الصلاة فی مسجد السوق،  ۱ / ۱۸۰،  حدیث: ۴۷۷،  بتغیر قلیل المغنی،  کتاب الطھارة، باب ماینقض الطھارة،  مسالة والارتداد عن الاسلام، ۱ / ۲۳۸

[5]   معجم الصحابة،  سعید بن یزیدالازدی، ۳ / ۸۱، حدیث: ۹۸۰

[6]   العقدالفرید، کتاب الزمردة فی المواعظ والزھد، مواعظ الانبیاءعلیھم السلام، ۳ / ۸۵، بتغیر قلیل

[7]    علم القلوب، باب النیة فی جلوس العبدفی المساجدوالقعودفیھا، ص۱۹۸

[8]    علم القلوب، باب النیة فی جلوس العبدفی المساجدوالقعودفیھا، ص۱۹۸



Total Pages: 54

Go To