Book Name:Bahar-e-Niyat

راہِ خدامیں جہادکرنےوالےکی مثل:

       حدیْثِ پاک میں آیاہےکہ رَسُوْلِ اَکرم، شفیْعِ اَعْظَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: جوشخصاللہعَزَّ  وَجَلَّکےذکرکےلیےصبح کومسجدگیاوہ راہِ خدامیں جہاد کرنےوالےکی طرح ہے۔ ([1])

پانچویں نہ بننا:

          مُعلّمِ کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: عالِم بنویا طالِبِ علم یا عالِم کی بات سننےوالے بنویااِن سے محبت کرنے والے اور پانچویں نہ بننا کہ ہلاک ہوجاؤگے۔ ([2])

سال بھرکی عبادت سےزیادہ پسندیدہ:

          سرورِ کونین، شہنشاہِ دارَیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرماتےہیں: عالِم کے پاس گھڑی بھربیٹھنااللہ تعالٰی کوایک  سال کی عبادت سے زیادہ پسندہےجس میں وہ  پلک جھپکنے کی مقداربھی اللہعَزَّ  وَجَلَّکی نافرمانی نہ کرے۔ ([3])

علم کی محفل گویا رسولُ اللہکی محفل ہے:  

          مروی ہےکہ ’’ جس نے علم کی مجلس کو پایا گویااُس نے میری مجلس کو پایا اور جس نے میری مجلس  کو پایا بروزِقیامت اُس کے لیے کسی عذاب کی سختی نہیں ہوگی۔ ‘‘  ([4])

سایَۂ عرش میں رہنےوالے:  

          حضرت سیِّدُناابوہُریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہےکہاللہعَزَّ  وَجَلَّقیامت کے دن ارشادفرمائےگا: اَیْنَ الْمُتَحَابُوْنَ بِجَلَالِی الْیَوْمَ اَظِلُّھُمْ فِی ظِلِّیْ لَاظِلَّ اِلَّاظِلِّیْیعنی کہاں ہیں میری عزت وجلال کی وجہ سے باہم محبت کرنے والے، آج میں انہیں اپنے عرش کےسائے میں رکھوں گاکہ میرے عرش کے سائے کے  علاوہ کوئی سایہ نہیں ۔ ([5])

       سیِّدُناابوطالِب مکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتےہیں: حدیث شریف میں”بِجَلَالِیْ“سے مرادہے”میرےاِحترام واِکرام اورتعظیم  کی وجہ سےباہم  محبت کرنے والے“مطلب یہ ہے کہ  وہ لوگ میری اِطاعت میں ایک دوسرے کی مدد کرتےہیں،  میری محبت میں باہَم اُلْفَت رکھتے ہیں اور میری ہی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتےہیں اورایسااِس لیےہےکہ میں اِن چیزوں کومحبوب رکھتاہوں اورمیں نے بندے کے اِس عمل کو بڑا اوربلند رتبہ کردیا۔ ([6])

بلنددرجہ چاہتےہوتو۔۔۔!

       حضورنَبِیِّ رحمت، شفیْعِ اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرماتےہیں: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےلیے باہم محبت کرواوراللہتعالٰی کےلیے بھائی  بنوکیونکہ جواللہعَزَّ  وَجَلَّکے لیے کسی کا بھائی بنتاہے اللہ تعالٰی اُسے اتنا بلند درجہ عطا فرماتاہےجس تک اُس کا کوئی عمل  بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ ([7])

نیک دوست سےبہترکوئی چیزنہیں:

       امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں: دین اسلامکے بعد بندے کو نیک دوست سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی ۔ ([8])

       رَسُوْلِ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ ذیشان ہے: اللہ عَزَّ  وَجَلَّجس کےساتھ بھلائی کااِرادہ فرماتا ہے اُسے نیک وصالح دوست  عطا فرمادیتاہے،  اگروہ (عبادت وغیرہ)  بھول جائے تو یہ اُسے یاددلاتاہےاوراگروہ یاد رکھے تو یہ اُس کی مددکرتا ہے۔ ([9])

حکایت: کیاوہ ہمیں عذاب دےگا؟

            حضرت سیِّدُناثابت بُنانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتےہیں: ہم عرفات کےایک پہاڑ کے پاس ٹھہرےہوئےتھےکہ دونوجوان آئےجنہوں نےبغیرآستین والےجبےپہنے ہوئےتھے، اُن میں سےایک نے دوسرےسےکہا: اےمحبوب۔دوسرےنےجواب دیا: اےمُحِب!میں حاضر ہوں۔پہلےنےکہا: آپ کیاکہتےہیں کہ ہم جس کی خاطرایک دوسرےسےمحبت کرتےہیں کیاوہ ہمیں



[1]   حلیة الاولیاء،  کعب الاحبار،  ۶ / ۱۶،  حدیث: ۷۶۵۵،  بتغیر قلیل

[2]   حلیة الاولیاء، مسعر بن کدام،  ۷ / ۲۷۷،  حدیث: ۱۰۵۱۳،  بتغیر قلیل

[3]   مسند فردوس،  ۱ / ۳۲۸،  حدیث: ۲۳۹۷،  بتغیر منھاج العابدین،  الباب الاول ، العقبة الاولی وھی عقبة العلم،  ص ۱۱،  بتغیر

[4]    علم القلوب، باب النیة فی جلوس العبدفی المساجدوالقعودفیھا، ص۱۹۶

[5]   مسلم،  کتاب البر والصلة،  باب فی فضل الحب فی اللّٰہ،  ص۱۰۶۵، حدیث: ۶۵۴۸

[6]    علم القلوب، باب النیة فی جلوس العبدفی المساجدوالقعودفیھا، ص۱۹۷

[7]    قوت القلوب،  الفصل الرابع والاربعون فی الاخوة فی اللّٰہ... الخ، ۲ / ۳۶۰،