Book Name:Bahar-e-Niyat

بڑی نگہبانی:

       حضورنَبِیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے والا اُس شہسوار کی طرح ہےجس نے راہِ خدا میں اپنے قریب گھوڑاباندھ رکھا ہو، وہ جب تک کوئی بات نہ کرے یا کھڑا نہ ہوجائے آسمانوں کے فرشتے اُس پردرود (رحمت) بھیجتے رہتے ہیں اور یہ بڑی نگہبانی میں مشغول ہے ۔ ([1])

پانچویں نِیَّت

       مسجدمیں بیٹھنےوالااپنےکان، آنکھوں ، زبان اور دیگر اعضاء کوممنوعہ چیزوں سے بچانےکی نیت کرےاورمسجد میں بیٹھنے سےرہبانیت (عبادت ورِیاضت میں مُبالغہ کرنے اور لوگوں سے دور رہنے) کی نیت کرے۔جیسا کہ

اس اُمَّت کی رُہبانیت:

       حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضرت سیِّدُناعُثمان بن مَظْعُوْنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ رسالت میں حاضرہوکرعرض  کی:  یَارَسُوْلَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرا نفس مجھےجس چیزکی طرف بلاتاہے اور جس بات کا حکم دیتا ہے اُس کی وجہ سے زمین میرےلیےتنگ ہوگئی ہے۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسارفرمایا: تمہارا نفس تمہیں کس بات کاحکم دیتاہے؟عرض کی: یہ مجھےرُہبانیت (سب سےالگ تھلگ رہنے) کا حکم دیتاہے۔تواللہعَزَّ  وَجَلَّکےپیارےحبیب، حبیْبِ لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: اےعثمان!اِس  بات کورہنےدو کیونکہ میری اُمَّت کی رُہبانیت ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ہے۔ ([2])

       ایک روایت میں یوں ہےکہ حضرت سیِّدُناعُثمان بن مَظْعُوْنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹےکااِنتقال ہوگیا تووہ  گھر میں بیٹھ رہےاور اپنے لیے ایک کمرہ مخصوص کرلیااورمسجد کی حاضری ترک کردی۔حضورنَبِیِّ رَحمت، شفیْعِ اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےانہیں غائب پایا تو بُلوا کرارشادفرمایا: اے عثمان! کیا تم جانتے ہو کہ بے شک اللہ تعالٰی نے میری اُمَّت پر رُہبانیت کو حرام کردیا ہے اور میری اُمَّت کی رُہبانیت مسجدوں میں بیٹھناہے۔ ([3])

ہزاررکعت نفل پڑھنےسےافضل:

       حضرت سیِّدُنااَنسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہےکہ بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی: غیبت کاترک زیادہ پسندیدہ ہےیاہزاررکعت (نفل) نمازپڑھنا؟ارشادفرمایا: غیبت کاچھوڑنا ہزار رکعت نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ ([4])

چھٹی نِیَّت

       مسجدمیں بیٹھنےوالاباہر نکلنےتک مسجدمیں اعتکاف کی نیت کرے ۔

بےشمارثواب:

       حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالِکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں: ایک عمل ایسابھی ہےجس کاثواب شمار سے باہرہےاوروہ اعتکاف ہےاوررَسُوْلِ مُکَرَّم، نَبِیِّ مُحْتَرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرَمَضان شریف کے آخری10دنوں کا اعتکاف فرمایاکرتے تھے۔ ([5])

حکایت: مغفرت کرواکرہی اُٹھوں گا

       منقول ہےکہ ایک شخص کسی مسجد میں داخل ہوا ، وہاں ایک دَرْوَیش ونیک آدمی کواعتکاف کی حالت میں دیکھاتو پوچھا: آپ اِس وقت یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟انہوں نے فرمایا: مجھ سےگھر والے کی نافرمانی ہوگئی تومیں نے اُس کے گھرمیں بیٹھنے کو لازم کرلیا اوریہ عہدکرلیاہے کہ وہ جب تک میری مغفرت نہیں فرمادے گا میں یہاں سےنہیں نکلوں گا۔ ([6])

       یوں ہی ایک شخص کسی مسجدمیں گیا تو وہاں ایک دَرْویش کو اعتکاف میں دیکھ کر پوچھا: آپ یہاں کیوں بیٹھےہیں؟توانہوں نےفرمایا: اُس نےمجھےاپنےدروازےپر بلوایا تومیں آگیا، اب میں حضوری کی اجازت کاانتظارکر رہا ہوں۔ ([7])

ساتویں نِیَّت

       مسجدمیں بیٹھنے والا نیت کرے کہ ”اگرمُیَسَّرآیا تو علم حاصل کروں گااورذکر کے حلقےمیں شرکت کروں گا۔“تاکہ اُسے بڑا ثواب حاصل ہو۔جیسا کہ

 



[1]   مسند احمد،  مسند ابی ھریرة،  ۳ / ۲۶۷،  حدیث: ۸۶۳۳

[2]   امالی ابن بشران،  مجلس فی صفرمن السنة المذکورة، ۲ / ۳۳۵،  حدیث: ۱۶۳۶،  بتغیر قلیل

[3]   معرفة الصحابة،  رقم ۲۰۱۵، عثمان بن مظعون، ۳ / ۳۶۶،  حدیث: ۴۹۴۱،  بتغیر قلیل

[4]   تنبیہ الغافلین،  باب النفقة علی العیال، ص۱۸۸،  حدیث: ۴۸۴،  الف رکعة بدلہ عشرة اٰلاف

[5]   ابن ماجہ،  کتاب الصیام،  باب فی المعتکف یزورہ اھلہ فی المسجد،  ۲ / ۳۶۳،  حدیث: ۱۷۷۹

[6]   علم القلوب، باب النیة فی جلوس العبدفی المساجدوالقعودفیھا، ص۱۹۶

[7]   علم القلوب، باب النیة فی جلوس العبدفی المساجدوالقعودفیھا، ص۱۹۶



Total Pages: 54

Go To