Book Name:Bahar-e-Niyat

الرَّاغِبِیْنَ اِلَیْکَ فَاِنِّیْ لَمْ اَخْرُجْ اَشَرًّاوَّلَابَطَرًاوَّلَارِیَاءً وَّلَا سُمْعَۃً وَّلٰکِنْ خَرَجْتُ اِتِّقَاءَ سُخْطِکَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِکَ اَنْ تُدْخِلَنِیَ الْجَنَّۃَ وَتُبْعِدَنِیْ عَنِ النَّاریعنی: اےاللہعَزَّ  وَجَلَّ!میرے دل میں نور، میری زبان میں نور، میری سماعت میں نور،  میری بصارت میں نور ،  میرے اوپرنور ، میرے نیچے نور ، میرے دائیں  نور ، میرے بائیں نور، میرے آگےنور اورمیرے پیچھے نور کردے ۔میری جان  میں نور کر، میرے نور کو بڑھا، میرے لیے نور کردے اور مجھے نور بنادے۔ اے میرے پروردگارعَزَّ  وَجَلَّ!مجھے نور عطا فرما، میرے پٹھوں میں نور، میرے گوشت میں نور،  میرے خون میں نور، میرے بالوں میں نوراور میری کھال میں نور کردے۔ ([1]) اے میرے معبودعَزَّ  وَجَلَّ!میں تجھ سے اُس حق کے طفیل سوال کرتا ہوں جو مانگنے والوں کا تیرے ذِمَّۂ کرم پر ہےاورتیری طرف اپنے اِس چلنےکے حق اور تیری طرف رغبت کرنے والوں کے حق کےطفیل تجھ سے سوال کرتا ہوں،  میں فسادوتکبُّراورریاکاری  کےلیےنہیں نکلااور نہ ہی اِس لیے کہ لوگ سن کر اچھا جانیں،  بلکہ میں تو  تیری ناراضی سے بچنے اور تیری خوشنودی  کے حصول کے لیے نکلا ہوں کہ تو مجھے جنت میں داخل فرمانا اور جہنم سےدوررکھنا۔ ([2])

مسجد میں داخلےکی دعا:

           (10) … (مسجدمیں داخل ہونےکی دعاپڑھوں گا: ) اَعُوْذُبِاللہِ الْعَظِیْمِ وَبِوَجْہِہِ الْکَرِیْمِ وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم، بِسْمِ اللہِ وَبِاللہِ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ، اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکیعنی: میں عظمت والےاللہعَزَّ  وَجَلَّ، اُس کی کریم ذات اوراُس کی ہمیشہ والی سلطنت  کی پناہ میں آتاہوں شیطان مردودسے۔ ([3]) اللہکے نام سے شروع اوراللہکے نام کےساتھ اوردُرُودوسلام نازل ہواللہعَزَّ  وَجَلَّکےرَسُوْلصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر۔اےاللہعَزَّ  وَجَلَّ! میرے لیے اپنی رحمت کےدروازے کھول دے۔ ([4])

مسجد میں بیٹھنے کی12 نِیَّتَیْں

                             مسجدمیں بیٹھنادین کےافضل ترین کاموں، پرہیزگاروں کےاَعمال اورنیکوکاروں کےبلنددرجات میں سےہےاوراِس پرمخلص مومن ہی کاربندرہتےہیں۔جیساکہ

مؤمنین کےباغات:

          مروی ہےکہ ’’ مساجدمؤمنوں کےباغات ہیں اور منافق مسجد میں ایسے ہوتا ہے جیسےپنجرے میں پرندہ قید ہوتا ہے۔ ‘‘  ([5])

          اور جیسا کہ کسی عقل مند نے فرمایا: خلوت نشینی میں صبرکرنااخلاص والوں کی خوبیوں میں سےہےاوریہ راہِ راست پر قائم رہنے کی نشانی ہے۔ ([6])

          بندۂ مومن کو چاہیے کہ جب وہ مسجد میں بیٹھے تواِس بیٹھنے میں12مستحب نیتیں کرلے تاکہ اُس کے لیے ہر نیت کے عوض بھرپور اجر لکھا جائےاوراُسے عظیم ثواب عطاکیاجائےاور وہ اِس کے ذریعے بڑی کامیابی حاصل کرلے کیونکہ اعمال کا مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اُس نے نیت کی ہوگی۔

پہلی نِیَّت

       مسجدمیں بیٹھنےوالانیت کرےکہ وہ جماعت کےساتھ نمازپڑھےگااورجماعت کی حفاظت کرےگایوں اُسے اجروثواب بڑھ کر ملےگا جیسا کہ

باجماعت نمازپڑھنےکی فضیلت:

         حضورنَبِیِّ رَحمت، شفیْعِ اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا: ”آدمی کاجماعت کےساتھ نمازپڑھنااکیلےنمازپڑھنےسے27درجےزیادہ اجررکھتاہے۔“ ([7])

       لہٰذابندہ مسجد میں بیٹھنے کی بدولت  اِس زائد ثواب کے حصول کی نیت کرلے۔

       حضرت سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتےہیں کہ حضورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےمنبراطہرپرخطبہ دیااوریہ آپ کاآخری خطبہ تھا، ارشادفرمایا: اے لوگو!جس نےپانچوں نمازوں کواُن کےوقت میں باجماعت اداکیا وہ سابقین کےساتھ پہلےگروہ میں پُل صراط  سے چمکتی بجلی کی طرح گزر جائےگااوروہ قیامت میں آئےگا تواُس کاچہرہ چودھویں کےچاندکی طرح  چمکتاہوگااوراُسےہردن کےعوض جس میں اُس نے جماعت کی حفاظت کی ہوگی راہِ خدا میں شہید ہونے والے کا اجر دیا جائےگا۔ ([8])

       حضرت سیِّدُناکعْبُ الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں: ہم توریت شریف میں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں کہ جماعت میں بندے کی نماز کا ثواب  حاضرین کی تعداد کے برابر بڑھ جاتا ہے ، اگر وہ ایک ہزار ہوں تو ایک ہزار درجے اجر زیادہ ہوجاتا ہے۔ ([9])

باجماعت نمازمیں چارخوبیاں ہیں:

          حضرت سیِّدُناامام شَعْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتےہیں: جماعت سےنمازپڑھنےمیں چارخوبیاں ہیں:  (۱) …سنت کااِتِّباع (۲) …ثواب کی زیادتی (۳) …سَہو (بھول) سےبچاؤاور  (۴) … ریاکاری سے چھٹکارا۔ ([10])

 



[1]    مسلم، کتاب صلاة المسافرین، باب الدعاءفی صلاة اللیل وقیامہ، ص۳۰۰ تا۳۰۲،                   حدیث:۱۷۸۸،  ۱۷۹۴،  ۱۷۹۷،  ۱۷۹۹ مشکاة المصابیح،  کتاب الصلاة،  باب صلاة اللیل،  ۱ / ۲۳۵،  حدیث: ۱۱۹۵

[2]   ابن ماجہ،  کتاب المساجد،  باب المشی الی الصلاة،  ۱ / ۴۲۸،  حدیث: ۷۷۸

[3]   ابو داود،  کتاب الصلاة،  باب فیما یقولہ الرجل عند دخولہ المسجد،  ۱ / ۱۹۹،  حدیث: ۴۶۶

[4]   ابن ماجہ، کتاب المساجد، باب الدعاءعند دخول المسجد، ۱ / ۴۲۵، حدیث: ۷۷۱، بتغیر قلیل