Book Name:Singhon wali Dulhan

فائدہ نہیں ہوا ،میں کسی تقریب وغیرہ میں جانے تک سے کتراتا تھااور انتہائی پریشانی کی زندگی گزار رہا تھا۔ ایک دن میں نے فیضانِ مدینہ سے جمعرات کو اجتماع کے بعدمجلس مکتوبات و تعویذات عطاریہ سے تعویذات لیے اور کاٹ کا عمل بھی کروایا ۔    

      اَلْحَمْدُﷲ  عَزَّوَجَلَّ  تعویذات عطاریہ کی بَرَکت سے اب میں بہت سُکون میں ہوں ۔میری تکلیف دور ہوچکی ہے اور نیند بھی گہری آتی ہے۔

صلّو ا علٰی الْحَبِیْب !     صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد

(۱۹)کَمَرْ کا مُہرہ

       ایک اسلامی بھائی نے لکھ کر دیا کہ میں کافی عرصے سے کمر کی تکلیف میں مبتلا تھا،کیونکہ کمر کا مہرہ کھسک گیا تھا، لہٰذا شدید درْد رہتاتھا۔،کئی ڈاکٹر وں سے علاج کروایا ، مگر مستقل فائدہ نہ ہوا، کسی نے بتایا فیضانِ مدینہ سے تعویذاتِ عطاریہ بالکل مفت ملتے ہیں اور لوگوں کو حیرت انگیز فائدہ ہورہا ہے۔

       چنانچہمیں بھی فیضانِ مدینہ گیا، متعلقہ اسلامی بھائیوں نے مجھے کمر پر باندھنے کیلئے دَم کی ہوئی ڈوری دی۔ اَلْحَمْدُﷲ  عَزَّوَجَلَّ  جب سے میں نے ڈوری باندھی ہے تادمِ تحریر تقریباً ایک سال کا عرصہ گزر چکاہے مگرکمرمیں مجھے تکلیف مَحسوس نہیں ہوئی ۔اس کے بعد سے اب تک میں نے کسی ڈاکٹر کی دوا بھی استعمال نہیں کی ہے۔ یہ سب میرے مرشِدِ کریم  امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے روحانی فُیوضات  ہیں ۔

صلّو ا علٰی الْحَبِیْب !     صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد

(۲۰)پتے میں پتھری

        علاقہ چل مدینہ (حیدرآباد ) کے مقیم اسلامی بھائی نے حلفیہ لکھ کر دیا کہ ایک مرتبہ میرے پیٹ میں شدید درْد اُٹھا ہسپتال لے جایا گیا ۔ الٹراساؤنڈ سے پتا چلا کہ پِتّے میں پتھری ہے۔ ڈاکٹر نے بتایا اس کیلئے فوراً آپریشن کی ضرورت ہے اور دوسرا اسکا کوئی علاج نہیں ۔ آپریشن کرکے پِتّانکالنا پڑیگا ۔ درْد تھاکہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جارہا تھا ۔مجھے درد سے تڑپتا اور لگاتار اُلٹیاں کرتا دیکھ کے بچے بھی رو پڑتے تھے۔ مَجْلِسِ مَکتوبات و تعویذاتِ عَطّاریہسے پتھری کا تعویذ لے کربھی باندھا ۔  اُنہی دنوں شیخ طریقت امیر اہلسنتدامَت بَرکاتُہُمُ الْعالیہ حیدرآباد تشریف لائے۔ تکلیف کے باوجود جیسے تیسے زیارت کیلئے جا پہنچا۔خوش قسمتی سے کسی نے امیر اہلسنّت دامَت بَرکاتُہُمُ الْعالیہ سے آدھا سیب جو آپ نے تناول فرمایا تھا تبرکاً لیا  تومیں نے ان سے لے کر اس نیت کے ساتھ کھا لیا کہ روایت میں آیا ہے! کہ ’’مومن کے جوٹھے میں شفاء ہے ‘‘ اوریہ تو ایک ولی کامل کا تبرک ہے۔ اَلْحَمْدُﷲ  عَزَّوَجَلَّ ایسا کرم ہوا کہ اس دن سے لے کر آج کم و بیش چار سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے مگر درْد نے اٹھنے کی جرأت نہیں کی۔ تما م دوائیاں اسی دن سے بند کردیں ۔ میں نے دوبارہ الٹرا ساؤنڈ بھی نہیں کرایا، البتہ تعویذاتِ عطاریہ استعمال کرتا رہا۔ کئی بار سفر میں ہونے کے باعث بد پرہیزی بھی ہوجاتی ہے۔ مگر اَلْحَمْدُﷲ  عَزَّوَجَلَّ   اب تک درْد نہیں اٹھا ۔کئی بار میں یہ سوچ کر حیران رہ جاتا ہوں کہ پہلے ہر دوسرے تیسرے دن درْد اٹھتا رہتا تھامگر،  اَلْحَمْدُﷲ  عَزَّوَجَلَّ  اب اسقدر بے احتیاطیوں کے باوُجود آرام ہے ۔واقعی یہ اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ  کے ولی کے تبرک اور تعویذ کی بَرَکت ہے۔

صلّو ا علٰی الْحَبِیْب !     صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد

 (ایمان کی حفاظت)

شیطٰن لاکھ سستی دلائے مگراس مضمون کا اوّل تا آخر ضرورمطالعہ فرمائیں ۔

          اَلْحَمْدُ ﷲ  عَزَّوَجَلَّ  ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کی سب سے قیمتی چیز ایمان ہے۔اعلیٰ حضرت  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا ارشاد ہے،جس کو زندگی میں سلْب ایمان کاخوف نہیں ہوتا، نَزْع کے وقت اُس کا ایمان سلْب ہوجانے کا شدید خطرہ ہے ( بحوالہ رسالہ"برے خاتمے کے اسباب ص ۱۴)   ا یمان کی حفاظت کا ایک ذریعہ کسی ’’مرشدِکامل ‘‘ سے مُرید ہونا بھی ہے۔

بَیْعَت کا ثُبوت  اَللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ   قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔  

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ   (سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر ۷۱)

( ترجمۂ قرآن کنزالایمان)’’جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے‘‘۔

نورُ العِرفان فی تفسیر القرآن میں مفسرِ شہیر مفتی احمد یا ر خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیتِ مبارَکہ کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں  ،’’ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی صالح کو اپنا امام بنالیناچاہیئے  شَرِیْعَت میں  ’’تقلید‘‘  کرکے ، اور طریقت میں ’’بَیْعَت‘‘کرکے ، تاکہ حَشْر اچھوں کے ساتھ ہو۔ اگر صالح امام نہ ہوگا تو اس کا امام شیطٰن ہوگا۔ اس آیت میں تقلید، بَیْعَت اور مُریدی سب کا ثبوت ہے۔

آج کے پرفِتن دور میں پیری مُریدی کا سلسلہ وسیع تر ضَرورہے ، مگر کامل اور ناقص پیر کا امتیاز مشکل ہے۔ یہ اَللّٰہ عَزَّوجَلَّ   کاخاص کرم ہے! کہ وہ ہر دور میں اپنے پیارے مَحبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت کی اصلاح کیلئے اپنے اولیاء کرام رَحِمَھُمُ اللّٰہ  ضَرورپیدافرماتا ہے۔ جو اپنی مومنانہ حکمت و فراست کے ذریعے لوگوں کو یہ ذہن دینے کی کوشش فرماتے ہیں کہمجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔(اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ )

مرشد ِکامل  جس کی ایک مثال قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کا مَدَنی ماحول ہمارے سامنے ہے۔ جس کے امیر، بانیِ دعوت اسلامی،امیرِ اَہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلالمحمد الیاس عطارقادری رَضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ہیں ، جن کی نگاہ ولایت نے لاکھوں مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں مَدَنی انقلاب برپا کردیا۔

        آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  خلیفۂ قطبِ مدینہ ، مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی وقار الدین قادری علیہ الرحمۃ کے پوری دنیا میں واحد خلیفہ ہیں ۔(آپ کو شارح بخاری،فقیہ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃنے سلاسلِ اربعہ قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ کی خلافت و کتب و احادیث وغیرہ کی اجازت بھی عطا فرمائی، جانشین وشہزادہ قطبِ مدینہ حضرت مولانا فضل



Total Pages: 7

Go To