Book Name:Singhon wali Dulhan

      ایک دن ناظم صاحب کے پاس ان کے والد صاحب آئے اور ایک انتہائی حیرت انگیز بات بتائی کہ ایک سال قبل مَدَنی منے کے جو کپڑے جِنّات کے اثرات کے باعث غائب ہوچکے تھے اَلْحَمْدُﷲ  عَزَّوَجَلَّ   امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے تعویذات کی بَرَکت سے آج صبح وہ کپڑے کوئی گھر میں پھینک گیاہے، کپڑے ایک سال قبْل جس حالت میں غائب ہوئے تھے اُسی حالت میں ہی ملے ہیں ۔

صلّو ا علٰی الْحَبِیْب !     صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد

(۸) جھوٹے الزام سے نَجات

ایک عمْررسیدہ اسلامی بھائی نے حلفیہ بتایا میں عرصہ۵ سال سے لڑکیوں کے ہاسٹل میں ملازمت کرتا ہوں ۔ گزشتہ ماہ دسمبر 2003ء میں ایک لڑکی نے مجھ پریہ الزام لگایاکہ اس نے میرا سونے کا ہار چرالیا ہے اور مجھے بَہُت برا بھلا کہا، چند دنوں بعد میری بچی کی شادی ہونے والی تھی ، اسلئے اس نے دھمکی دی کہ میں تمہیں بارات سمیت اندر کرادوں گی۔

    کیونکہ وہ بڑے اَثر و رُسوخ والی تھی،لہٰذا ایسا کر بھی سکتی تھی ۔جب سے مجھ پر یہ الزام لگا ،میرا کھانا پینا سونا سب دوبھر ہوگیا، میں غریب آدمی اپنی عزت کیسے بچاتا؟ پانچ سال کی سروس میں میرے ساتھ یہ پہلا واقعہ تھا جس نے مجھے نڈھال کردیا۔ ہاسٹل کے قریب ایک بنگلے میں دعوتِ اسلامی کے ایک مبلغ بچوں کو پڑھانے آتے تھے۔ میں نے ان سے اپنا حال بیان کیا، انہوں نے میرا مسئَلہ سننے کے بعدمجھے مجلسِ مکتوبات وتعویذاتِ عطاریہ سے  تعویذحاصل کرکے باندھنے اورایک وظیفہ پڑھنے کو دیا ۔میں نے تعویذ باندھ لیا اور وظیفہ پڑھنا شروع کردیا ،ادھر وہ لڑکی تقریباً ایک ماہ کی چھٹیوں پر چلی گئی۔

اَلْحَمْدُﷲ   عَزَّوَجَلَّ  میں نے بخیر و عافیت بچی کی شادی نمٹائی اوروظیفہ جاری رکھا، تقریباً ایک ماہ بعد جب وہ لڑکی جو مجھ پر انتہائی غضب ناک تھی چھٹیاں ختْم ہونے پر واپس آئی تو اسکا انداز ہی بدل چکاتھا۔ وہ مجھ سے نہ صرف ادب سے بات کرتی ہے بلکہ کہتی ہے کہ بابا دُعا کرنا ۔آج تقریباً اس بات کو ایک ماہ کاعرصہ ہوچکاہے،مگر اَلْحَمْدُﷲ  عَزَّ وَجَلَّ اس نے چوری شدہ ہارکاتذکرہ تک نہیں کیا۔ میں ا ﷲ   عَزَّوَجَلَّ  کا شکْر ادا کرتاہوں کہ تعویذات عطاریہ کی بَرَکت سے مجھے اس جھوٹے الزام سے نَجات مل گئی   اَلْحَمْدُﷲ  عَزَّ وَجَلَّ میں پورے گھرسمیت امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے سلسلہ عالیہ قادریہ عطاریہ میں داخل ہوکر عطاری بن گیا ہوں ۔

تو ہے میرا حامی و یاور مجھے کچھ غم نہیں

کس طرح رُسوا تیرا بندہ سرِ بازارہو

   صلّو ا علٰی الْحَبِیْب !     صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد   

(۹) بَد مذہبی سے توبہ

ایک اسلامی بھائی کا کہنا ہے، میرے پڑوسی کے بچے پرجنّات کے اَثَرات ہوگئے۔ وہ گھرانا بد عقیدہ یعنی کرامات اولیا ء کا مُنْکِر تھا، وہ لوگ تعویذات وغیرہ کو (معاذاﷲ)شِرک بتاتے تھے۔ انہوں نے کافی لوگوں کو دکھا یا اوراِفاقہ نہ ہونے پر مجبوراً  مَجْلِسِ مَکتوبات و تعویذاتِ عَطّاریہسے تعویذات حاصل کرکے استعمال کئے۔ اَلْحَمْدُﷲ  عَزَّوَجَلَّ   وہ بچہ چند ہی دنوں میں صحیح ہوگیااور تعویذاتِ عطاریہ کی اس بَرَکت کودیکھ کر پورا گھر اس قدر متاَثَر ہوا کہ تائب ہوکر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔ان کے گھر کی اسلامی بہنیں دعوتِ اسلامی کے ذیلی سطح کے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کرنے لگیں اور وہ لوگ اپنے بچوں اور شادی شدہ بیٹوں کے لئے مجھ سے تعویذاتِ عطاریہ منگواتے رہتے ہیں اور میرے اس پڑوسی نے بَرَکت کیلئیامیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا   تعویذ اپنی دوکان پر بھی لگا رکھا ہے۔

مَحْفوظ  سدا  رکھنا  شہا  بے اَدَبوں سے

             اور مجھ سے بھی سَر زَد  نہ کبھی بے ادبی ہو   (ار مغا نِ مدینہ)

صلّو ا علٰی الْحَبِیْب !     صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد

(۱۰)سانس کی تکلیف سے نَجات

ایک اسلامی بھائی کا کہنا ہے ،میرے بچوں کی امی کو کئی سالوں سے سانس کی تکلیف تھی۔ ایک اسلامی بھائی نے مجھے تعویذاتِ عطاریہ لاکر دیئے جو پانی سے گولی کی طرح نگل جانے والے تھے۔یومیہ ایک تعویذ کے حساب سے تقریباً اکیس یا بائیس تعویذ نگلنے تھے۔  اَلْحَمْدُﷲ   عَزَّوَجَلَّ    میری زوجہ کی کئی سالوں کی سانس کی تکلیف دور ہوگئی۔

صلّو ا علٰی الْحَبِیْب !     صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد

(۱۱)دل کے مَرَض سے شِفاء

         ایک اسلامی بھائی نے  بتایا ،میر ے والد صاحب کو دو مرتبہ دل کادورہ پڑچکا تھا۔ ایک بار سینے میں درْد کی شکایت ہوئی تو گھر والے پریشان ہوگئے کہ کہیں دوبارہ دورہ نہ پڑ جائے۔ میں نے فیضانِ مدینہ سے   تعویذات عطاریہ حاصل کئے۔اِن تعویذاتِ عطاریہ کے استعمال کے بعد اَلْحَمْدُﷲ  عَزَّوَجَلَّ   میرے والد صاحب کی طبیعت ایسی بحال ہوئی کہ اب ڈاکٹر کی دوا کی حاجت بھی نہ رہی۔ 

 مَدَنی نیت ان کے والد صاحب کا کہنا ہے کہ میں  ا ﷲ عَزَّوَجلَّکا شکر ادا کرتا ہوں اورمیں نے یہ نیت کی ہے کہ اِنْ شَآءَ اﷲ   عَزَّوَجَلَّ مرتے دم تک دعوت اسلامی کا مَدَنی ماحول نہیں چھوڑوں گا۔ یہ ربّ  عَزَّوَجلَّ  کا کرم ہے جس نے اس پُر فِتن دور میں امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ جیسی مبارَک ہستی عطا فرمائی، جن کی بدولت مجھ جیسے لاکھوں درد کے ماروں کے دَردوں کا مَداوا ہوگیا۔

صلّو ا علٰی الْحَبِیْب !     صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد

(۱۲)بکریوں کی اَموات

 



Total Pages: 7

Go To