Book Name:Singhon wali Dulhan

بہنیں زارو قطار رو رہی تھیں کہ اب کیا ہوگا؟ دلہن کے بھائی کو کسی نے مشورہ دیا کہ فیضانِ مدینہ میں امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے تعویذات مفت دیئے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔انہوں نے فوراً مجلس مکتوبات و تعویذاتِ عطاریہ کے مکتب سے رابطہ کیا۔ انہوں نے تعویذاتِ عطاریہ دینے کے ساتھ کاٹ والا عمل بھی کیا۔

گھر آکر جب تعویذاتِ عطاریہ دُلْہَن کوپہنا کر کاٹ والا پانی پلایا اور کچھ بالوں پر چھڑکا۔تو َالْحَمْدُﷲ  عَزَّوَجَلَّ حیرت انگیز طور پردُلْہَنکی طبیعت سنبھلنے لگی اورسر کے بال جو خوفناک سینگوں کی صورت اختیار کرچکے تھے، دُرُست ہوگئے۔ پورے گھر نے سُکون کا سانس لیا اور دعائیں دینے لگے۔ َالْحَمْدُﷲ عَزَّ وَجَلَّ  دوسرے دن دلہن کو بخیر و عافیت رخصت کردیا گیا۔

صلّو ا علٰی الْحَبِیْب !     صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد

    آسان ترین علاج

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!فی زمانہ دواؤں کا استعمال اسقدر زیادہ ہے کہ شاید ہی کوئی اس سے بچ پاتا ہو،کوئی جگہ بھی اس کی بھیڑ بھاڑ سے خالی نہیں ۔ لوگ اپنی شفاء ان مہنگی دواؤں میں تلاش کرتے ہیں ، معمولی سی تکلیف پر، ڈاکٹروں ،طبیبوں کے دروازے پر دستک دیتے اورہسپتالوں کے چکر لگاتے دکھائی دیتے ہیں اور انہیں نہ جانے کیا سمجھتے ہیں کہ ان کی بات پر ایسا یقینــ کہ اگر کوئی ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ فَلاں چیز استعمال کرو تو حلال و حرام کی تمیز کئے بِغیر اس پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے وہ شے استعمال کرڈالتے ہیں ۔ اور ان کی زبان سے اگر یہ نکل گیا کہ روزہ مت رکھو توشَرْعِی مَسئَلہ معلوم کئے بِغیر بِلا سوچے سمجھے فرائض و واجبات تک سے منہ موڑ لیا کرتے ہیں ۔

         ضَرورتاً کسی سمجھدار اچھے ڈاکٹر سے علاج کرانا یقینا جائز ہے مگر آہ!آہ! صد آہ! ہماری شَرِیْعَتِ مُطَہَّرہ جن آسان ترین علاجوں کو پیش فرماتی ہے اس سے ہم یکسر غافل ہیں ۔کاش!دواؤں کیساتھ شَرِیْعَت کے پابند عاملین کے تعویذات کے استعمال کا تجرِبہ بھی کر لیتے۔ مگر! اس سلسلے میں وہ یقین کہاں سے لائیں ؟ تعویذ لے بھی لیا تو فوری اِفاقہ پانے کے مُتَمَنّی  رہتے ہیں ۔ ڈاکٹر کی دوا مہینوں فائدہ نہ دے ،استعمال جاری رہتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اتنا ہوتا ہے کہ دوسرے ڈاکٹر سے اسی فارمولے کی دوا مہینوں دوسرے نام سے مزید استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں اور اِفاقہ نہ ہونے پرمایوس بھی نہیں ہوتے۔مگرتعویذلینے یادعاکروانے کے چند دنوں بعدہی تھک کرمایوس ہوجاتے ہیں اور علاج کروانا چھوڑ دیتے ہیں جوکہ بڑا المیہ ہے۔

       یاد رہے کہ ہر مَرَض کی اپنی اپنی نوعیت ہوتی ہے ،جس طرح کوئی مریض صرف ایک گولی (Tablet)کے استعمال سے صحت یاب ہوجاتا ہے تو کسی کو کورس کی صورت میں دوائی استعمال کرنا پڑتی ہے اور شِفایاب ہونے میں ایک ہفتہ ، مہینہ یا سالوں لگ جاتے ہیں ۔اسی طرح تعویذاتِ عطاریہ کے بستے پر آنے والا کوئی مریض ممکن ہے صرف دَم کردینے سے ہی شفاء یاب ہوجائے اور کسی مریض کوچند دن ،ہفتوں یاکئی ماہ بعد صحت حاصل ہو ، بہر حال ہمیں علاج ترک نہیں کرنا چاہئے۔مگر یہ بھی دھیان رہے کہ بغیر سوچے سمجھے ہر عامل سے رابطے میں بھی شدید خَطَرا ت ہیں ۔

کاش ! ڈاکٹروں کی تجویز کردہ دواؤں کی تاثیر پر یقین کے ساتھ شرِیْعَت کے پابند عاملین کے پیش کردہ اَوراد و تعویذات بھی کامل یقین کے ساتھ استعمال کرنے کا سلسلہ رہتا تو شِفاء کا حُصول آسان ہوجاتا۔ (اس سلسلے میں امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا رسالہ ۴۰ روحانی علاج ، اَورادِ عطاریہ اور شجرہ عطاریہ مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے حاصل کئے جاسکتے ہیں )

تبلیغِ قرآن و سنّت کی غیر سیاسی عالمگیر تَحریک دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول میں مَدَنی انعامات کی خوشبو سے مَہکتے مَہکاتے عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے سفر کرتے رہتے ہیں ۔ آپ بھی راہِ خدا   عَزَّوَجَلَّ  کے مسافر بن کر اپنی پریشانیوں ، بیماریوں اور آفتوں سے نَجات کیلئے دعا کیجئے۔  اِنْ شَآءَ اللہ   عَزَّوَجَلَّ  غیب سے خوشیوں کے سامان ہونگے۔

آئندہ صفحات میں ’’ تعو یذاتِ امیراَہلسنّت لو‘‘ کے  19حُروف کی نسبت سے مزید اُنّیس ایمان افروز واقعات پیشِ کئے گئے ہیں ،انہیں خود بھی پڑھیے اور دوسروں کو بھی پڑھنے کی ترغیب دیجئے۔   

(۲)کٹی ہوئی رَگ جُڑ گئی

     مبلغِ دعوتِ اسلامی (نواب شاہ) کا تحریری بیان ہے کہ ایک اسلامی بھائی جو محکمہ پولیس کرائم برانچ میں CRانچارج ہیں ۔ان کا مَدَنی ماحول سے وابستگی سے قبل بھر پور رشوت کالین دین رہتا تھا۔انہوں نے حلفیہ بتایا کہ مجھے دعوت ِ اسلامی کا مَدَنی ماحول ملاتو سنتوں کا پابند بننے کے ساتھ ساتھ میرے دل سے رشوت کی طلب بھی ختْم ہوگئی اورامیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے مرید ہونے کے بعد تو ایسا تقویٰ پیدا ہوا کہ َالْحَمْدُﷲ  عَزَّوَجَلَّ  آفس میں اپنے ساتھیوں کی چائے تک پینا چھوڑدی۔ اگرمیرے ساتھی رشوت کے میرے حصے کے پیسے دینے کی کوشش کرتے ہیں تو میں اُن سے رشوت کے پیسے نہیں لیتا ۔

        میں پولیس فورس (سندھ )میں صفِ اول کا نشانہ باز تھا اور بہت سے انعامات بھی اِس فن میں حاصل کئے تھے۔ ایک مرتبہ سندھ سطح کے فائرنگ کے مقابلے جاری تھے، میں بھی شریک تھا۔ چاند ماڑی پر فائرنگ کرنے کے بعد اپنے ٹارگٹ پر گولیوں کا گروپ دیکھنے کیلئے چلا تو پیچھے ایک ساتھی جس کی بندوق میں گولی پھنسی ہوئی تھی اور وہ اُسے نکالنے کی کوشش میں تھاکہ اچانک فائر ہوگیا اور گولی سیدھی میری پنڈلی میں آکر پیوست ہوگئی۔ایسا لگا جیسے دہکتا ہوا انگارہ گوشت میں اتر گیا ہو،میں گر پڑا۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کرکے گولی تو نکال دی مگربدقسمتی سے گولی میری رَگ کو کاٹتے ہوئے پنڈلی میں لگی تھی، جس کی بنا پر میں اچھا بھلا لنگڑا ہو گیا۔میرے ساتھی میرے چلنے پھرنے میں مدد دیتے ۔ایک روز میں اپنے مرشِدی امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی بارگاہ میں پہنچا تو اَلْحَمْدُﷲ  عَزَّوَجَلَّ  انہوں نے اپنے تعویذات دینے کے ساتھ پانی پر دَم کرکے پلایااور دعا بھی کی۔ واپس آنے کے بعد جب میں نے ایکسرے کرایاتو ڈاکٹرحیران رہ گئے کہ میرے پاؤں کی رَگ کا فاصلہ حیرت انگیر طور پر ختْم ہوچکا تھا۔ اَلْحَمْدُﷲ  عَزَّوَجَلَّ میرے چلنے میں دشواری میں کمی آتی گئی اور آہستہ آہستہ بیساکھی سے بھی جان چُھوٹ گئی اور اب َالْحَمْدُﷲ  عَزَّوَجَلَّ میں بالکل ٹھیک ہوں اور چلنے کے ساتھ دوڑ بھی سکتا ہوں ۔

صلّو ا علٰی الْحَبِیْب !     صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد

 (۳)پاؤں کے درْد سے شِفاء

صوبہ پنجاب کی ایک مسجد کے خطیب صاحب کے دونوں پاؤں میں ۱۵ سال سے شدید درْدتھا،شدتِ درْد کے باعث کئی مرتبہ وہ روپڑتے تھے۔کافی جگہ علاج کروایا مگرفائدہ نہ ہوا، جب انہیں  معلوم ہوا کہ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے تعویذات فی سبیل اﷲدیئے جاتے ہیں ۔ تواُنہوں نے اپنا مسئلہ متعلقہ اسلامی بھائی کو بتایا، انہوں نے امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی اجازت فَرمودہ دم کی



Total Pages: 7

Go To