Book Name:Qutub-e-Alam Ki Ajeeb Karamat Ma Deger Dilchasp Sawal Jawab

کہا چنانچہ پارہ 3 سورۃُ البقرہ کی آیت نمبر 258 میں اِرشادِ ربّ العباد ہے:  (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَۘ-اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُۙ-قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُؕ-قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ (۲۵۸)  ترجمۂ کنزالایمان:اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا اسے جو ابراہیم سے جھگڑا اس کے رب کے بارے میں اس پر  کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی جب کہ ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے کہ جِلاتا  (یعنی زندہ کرتا)   اور مارتا ہے بولا میں جِلاتا اور مارتا ہوں  ابراہیم نے فرمایا تو اللہ سورج کو لاتا ہے پورب  (مشرق)  سے تو اس کو پچھم  (مغرب)  سے لے آ تو ہوش اُ ڑ گئے کافر  (یعنی نَمرود)   کے اور اللہ راہ نہیں دکھاتا ظالموں کو۔  

ولی ہونے  کے لیے ایمان وتقویٰ شرط ہے

سُوال :کیا ولی  ہونے کے لیے کرامت شرط ہے؟

جواب:ولی ہونے کے لیے کرامت شرط نہیں  بلکہ ایمان اور تقویٰ شرط ہے جیسا کہ  پارہ 11 سورۂ یونس کی آیت نمبر63 میں خُدائے رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:  (الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ (۶۳)  )   ترجمۂ کنزُ الایمان:” (اولیا)  وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔“اسی طرح پارہ 9 سورۃ ُ الْانفال کی آیت نمبر 34 میں اِرشاد ہوتا ہے:  (اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَترجمۂ کنزالایمان:اس کے اولیاء تو پرہیزگار ہی ہیں ۔

اِس آیتِ مُبارَکہ کے تحت مُفَسِّرِ شَہِیر،  حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:کوئی کافر یا فاسق اللہ  (عَزَّ وَجَلَّ کا ولی نہیں ہو سکتا۔ ولایتِ الٰہی ایمان و تقویٰ سے میسر ہوتی ہے۔ ([1] معلوم ہوا کہ ولی کے لیے کرامت کا ہونا شرط نہیں بے شمار ایسے اَولیائے  کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ  السَّلَام  گزرے ہیں جن سے ایک کرامت بھی منقول نہیں، اگر کسی نے ان سے کرامت کا مُطالبہ کیا بھی تو انہوں نے عاجزی و انکساری کا مُظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو گناہ گار ظاہر فرمایا جیسا کہ ”حضرت خواجہ شیخ بہاؤ الحق والدِّین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کہ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے امام ہیں۔آپ سے کسی نے عرض کی کہ حضرت تمام اَولیاء سے کرامتیں ظاہر ہوتی ہیں، حضور سے بھی کوئی کرامت دیکھیں!  

فرمایا:اس سے بڑی اور کیا کرامت ہے کہ اتنا  بڑا بھاری بوجھ گناہوں کا سر پر ہے اور زمین میں دھنس نہیں جاتا۔“ ([2])   

اَلبتہجہاں حاجت دَرپیش ہو وہاں بھی شہرت یا لذّتِ نفس کے لیے نہیں بلکہ مسلمانوں کے قُلوب و ایمان کی تقویت اور مشرکین و منکرین کو جواب دینے کی غرض سے کرامت  کا اِظہار کرتے ہیں جیسا کہ ایک بدعقیدہ بادشاہ نے ایک بُزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ان کے رُفقا سمیت گَرِفتار کر لیا اور کہا کہ کرامت دکھاؤ ورنہ آپ کو ساتھیوں سمیت شہید کر دیا جائے گا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اُونٹ کی مینگنیوں کی طرف اِشارہ کر کے فرمایا کہ انہیں  اُٹھا لاؤ اور دیکھو کہ وہ کیا



[1]    تفسیرِ نعیمی ، پ ۹، الانفال ، تحت الآيۃ: ۳۴ ، ۹ / ۵۴۳ 

[2]    ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص۴۴۳، حِصّہ: چہارم مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی  



Total Pages: 21

Go To