Book Name:Qutub-e-Alam Ki Ajeeb Karamat Ma Deger Dilchasp Sawal Jawab

دَراصل مِنجانِباللّٰہ ہے اب اس کا سبب کوئی ڈاکٹر بنے یا عامِل۔

قدرت  کا نظام بھی کیا  خوب ہے! ”مریض جب دَوا اِستِعمال کرتا ہے دَوا اور مرض کے درمیان ایک فِرِشتہ حائِل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے مریض ٹھیک نہیں ہو پاتا اور  جباللّٰہ عَزَّوَجَلَّ شِفا دینا چاہتا ہے تو فِرِشتہ حائِل نہیں ہوتا لہٰذا دَوا  مَرض تک پَہُنچ جاتی ہے اوربحکمِ خُداوندی شِفا مل جاتی ہے۔“ ([1]اور نام پھر دَوا،  ڈاکٹر یا عامِل کا ہو جاتا ہے۔بَہَرحال  خَوارِق  (یعنی خلافِ عادت باتوں)   کا ظہور مثلاً پانی پر چلنا ،  ہوا میں اُڑنا اور کسی جان لیوا بیماری یا پریشانی کو دُور کر دینا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہونے کی علامت نہیں بلکہ قبولیت کا دارو مدار تو شریعت و سُنَّت کو مضبوطی کے ساتھ تھامنے اور اس کی مکمل  پاسداری کرنے میں ہے چنانچہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 21 صفحہ 546 پر حضرتِ سیِّدُنا شیخ الشُّیوخ اَبُوحَفص عمر بن محمد سُہروردی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی  کا فرمان نقل فرماتے ہیں: ہمارا عقیدہ ہے کہ جس کے لئے اور اس کے ہاتھ پر خَوارقِ عادات  (یعنی خلافِ عادت باتیں)   ظاہرہوں اور وہ احکامِ شریعت کا پورا پابند نہ ہو وہ شخص زِندِیق  (یعنی بے دین)  ہے اور وہ خَوارِق  (یعنی خلافِ عادت یا عقل میں نہ آنے والی بات)   کہ اس کے ہاتھ پر ظاہر ہوں مکر  (دھوکا)   و اِستدراج ہیں۔ ([2]

اس قسم کی بہت سی خلافِ عادت اور عقل میں نہ آنے والی باتیں نَمرود سے بھی ظاہر ہوئی ہیں چنانچہ تفسیرِ نعیمی میں ہے :نَمرود کے زمانہ  میں تانبے کی ایک بسط تھی جس وقت کوئی جاسوس  یا چور اس شہر میں آتا تو اس بسط سے آواز نکلتی جس سے وہ پکڑا جاتا۔ایک نقارہ تھا کہ جب کسی کی کوئی چیز گم ہو جاتی اس میں چوب مارتے نقارہ اس چیز کا پتہ دیتا ۔ایک آئینہ تھا جس سے غائب شخص کا حال معلوم ہوتا تھا، جب کبھی اس آئینہ میں نظرکی وہ غائب آدمی اس کا شہر اور قیام گاہ اس میں نمودار ہوگئی۔نَمرود کے دروازے پر ایک درخت تھا جس کے سایہ میں دَرباری لوگ بیٹھتے تھے جُوں جُوں آدمی بڑھتے جاتے اس کا سایہ پھیلتا جاتا تھا ۔ایک لاکھ آدمی تک سایہ پھیلتا رہتا تھا ، اگر لاکھ سے ایک بھی زیادہ ہو جاتا سارے دھوپ میں آ جاتے۔ایک حوض تھا جس سے مقدمات کا فیصلہ ہوتا تھا مُدَّعِی اور مُدَّعٰی عَلَیْہ  (دعویٰ کرنے والا اور جس پر دعویٰ کیا گیا  دونوں)   باری باری اس میں گھستے جو سچا ہوتا اس کے ناف کے نیچے پانی رہتا تھا اور جو جھوٹا ہوتا اس میں غوطہ کھاتا تھا ، اگر فوراً توبہ کر لیتا تو بچ جاتا ورنہ ہلاک ہو جاتا اس قسم کی طِلِسْمات  (یعنی جادو)  پر اس نے دعویٔ خدائی کر دیا تھا۔ ([3]اس قسم کی خلافِ عادت  باتیں ظاہر ہونے سے اگر کوئی ولی بن جاتا تو  نَمرود  بھی ولی ہوتا لیکن قرآنِ کریم نے اسے ولی نہیں بلکہ کافر



[1]    مرقاة المفاتیح، کتاب الطب والرقی ، ۸ / ۲۸۹، تحت الحدیث: ۴۵۱۵ ، ملخصًا   دار الفکر بیروت

[2]    بے باک فجاریا کفار سے جو خلافِ عادت بات ان کے موافق ظاہر ہواس کو اِستدراج کہتے ہیں۔ (بہارِشریعت، ۱ / ۵۸، حصّہ: ۱ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

[3]    تفسیرِ نعیمی ، پ۱، البقرہ، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۱ / ۵۱۹ مكتبہ اسلاميہ مركز الاوليا لاہور



Total Pages: 21

Go To