Book Name:Qutub-e-Alam Ki Ajeeb Karamat Ma Deger Dilchasp Sawal Jawab

مُراقِب ہوئے۔ اُسی وقت سرکارِ مدینہ، قرارِقلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی زِیارت ہوئی۔ سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے لبہائے مُبارَکہ سے مشکبارپھول جھڑنے لگے اور اَلفاظ کچھ یوں ترتیب پائے: ’’ شاہِ عالَم!  تمہیں اپنے اَسباق رہ جانے کا بَہُت افسوس تھا لہٰذا تمہاری جگہ تمہاری صورت میں تخت پر بیٹھ کر میں روزانہ سبق پڑھا دیا کرتا تھا۔ ‘‘ جس تخت پر سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم تشریف فرما ہوا کرتے تھے اب اُس پر حضرتِ قبلہ شاہِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کس طرح بیٹھ سکتے تھے لہٰذا آپ فورًا تخت پر سے اُٹھ گئے۔ تخت کو یہاں مسجد میں مُعَلَّق کر دیا گیا۔اس کے بعد حضرتِ شاہِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ کے لیے دوسرا تخت بنایا گیا آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ کے وِصال کے بعد اُس تخت کو بھی یہاں مُعَلَّق کر دیا گیا۔

یہاں دُعا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس مقام پر دُعا قبول ہوتی ہے۔ پیرِ طریقت حضرتِ علّامہ مولانا قاری محمد مُصلح الدِّین صِدِّیقی قادِری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کو میں نے فرماتے سنا ہے: مُصنِّفِ بہارِ شریعت، صَدرُالشَّریعہ،  بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے ہمراہ مجھے احمدآباد شریف میں حضرت سیِّد شاہِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ کے دَربار میں حاضری کی سعادت حاصِل ہوئی ان دونوں تختوں کے نیچے حاضر ہوئے اور اپنے اپنے دِل کی دُعائیں کر کے جب فارِغ ہوئے تو میں نے اپنے پیر و مرشِد حضرتِ صدرُ الشَّریعہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ سے عرض کی: حُضُور!  آپ نے کیا دُعا  مانگی؟ فرمایا: ’’ ہر سال حج نصیب ہونے کی۔ ‘‘ میں سمجھا حضرت کی دُعا  کا مَنشا یہی ہو گا کہ جب تک زندہ رہوں حج کی سعادت ملے۔ لیکن یہ دُعا بھی خوب قبول ہوئی کہ اُسی سال حج کا قصد فرمایا۔ سفینۂ مدینہ میں سوار ہونے کے لیے اپنے وطن ضِلع اعظم گڑھ قصبہ گھوسی سے بمبئی تشریف لائے۔ یہاں آپ کو نُمونیہ ہو گیا اور سفینے میں سُوار ہونے سے قبل ہی آپ وفات پا گئے۔ 

مدینے کا مُسافر ہند سے پہنچا مدینے میں

قدم رکھنے کی بھی نوبت نہ آئی تھی سفینے میں

وہ دُعا کچھ ایسی قبول ہوئی کہ آپ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قِیامت تک حج کا ثواب حاصِل کرتے رہیں گے۔ خود صَدرُ الشَّریعہ،  بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ  مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’’ بہارِ شریعت ‘‘ حصَّہ 6 صفحہ 1034پر یہ حدیثِ پاک نقل فرمائی ہے کہ رسولُ  اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: جو حج کے لیے نکلا اور فوت ہو گیا  تو قِیامت تک اُس کے لیے حج کا ثواب لکھا جائے گا اور جو عمرہ کے لیے نکلا اور فوت ہوگیا اُس کے لیے قِیامت تک عمرہ کرنے کا ثواب لکھا جائے گا اور جو جہاد میں گیا اور فوت ہو گیا اس کے لیے قِیامت تک غازی کا



Total Pages: 21

Go To