Book Name:Qutub-e-Alam Ki Ajeeb Karamat Ma Deger Dilchasp Sawal Jawab

ہے۔ ([1])   

خوشی کے موقع پرمَرد کا ہاتھوں میں مہندی لگانا کیسا؟

سُوال :کیاعید یا  شادی وغیرہ خوشی  کے مَواقع پر مَرد اپنے  ہاتھوں میں  مہندی لگا سکتے ہیں؟

جواب:مَرد عید یا  شادی وغیرہ خوشی  کے مَواقع پر بھی  اپنے  ہاتھوں میں مہندی نہیں لگا سکتے کیونکہ مہندی لگانے سے عورتوں سے مشابہت ہوتی ہے اور عورتوں کی مشابہت اِختیار کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ بارگاہِ رسالت مآب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں ایک مُخَنَّث کو حاضِر کیا گیا جس نے اپنے ہاتھ پاؤں مہندی سے رنگے ہوئے تھے۔ اِرشادفرمایا:اِس کا کیا حال ہے؟  (یعنی اِس نے مہندی کیوں لگائی ہے؟)   لوگوں نے عرض کی:یہ عورَتوں سے مُشابہَت کرتا ہے۔ حُضُورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حکم فرمایا:اسے شہر بد ر کر دولہٰذا اس کو شہر بدر  کر دیا  گیا،  مدینہ سے نکال کر نَقِیع  ([2])    کو بھیج دیا گیا۔ ([3])   

مَرد تو مَرد چھوٹے بچوں کو بھی مہندی  لگانے کی ممانعت ہے لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے چھوٹے بچّوں کے ہاتھ پاؤں مہندی سے  نہ رنگیں کہ  فتاویٰ عالمگیری میں ہے:بِلاضرورت چھوٹے بچوں کے ہاتھ پاؤں میں مہندی نہیں  لگانی چاہیے ،  عورتوں کو ہاتھ پاؤں میں مہندی لگا نا جائز ہے ۔  ([4] ہاں بچیوں کے ہاتھ پاؤں میں مہندی  لگانے میں حرج نہیں جیسا کہ صَدرُ الشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ  مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: لڑکیوں کے ہاتھ پاؤں میں (مہندی)   لگا  سکتے ہیں جس طرح ان کو زیور پہنا سکتے ہیں۔ ([5] 

بچّے کو دودھ پلانے سے عورت کاوُضُو نہیں  ٹوٹتا

سُوال :کیا بچّے کو دودھ پلانے سے عورت کاوُضُو ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب: بچّے کو دودھ پلانا نواقضِ وضو  (یعنی وہ چیزیں جو وضو کو توڑ دیتی ہیں ان)  میں سے نہیں لہٰذا بچّے کو دودھ پلانے سےعورت کاوُضُو نہیں ٹوٹتا۔  

٭٭٭

 



[1]    شرح الصدور ، باب من لا یسئل فی القبر، ص۱۵۲  مركز اهل سنَّت  بركات رضا هند

[2]    ”نَقِیع“مدینۂ منوّرہ کے باہر ایک جنگل ہے جہاں اہلِ مدینہ کے جانور چرا کرتے تھے۔اس مخنث کو اس لیے نکال دیا تاکہ اہلِ مدینہ اس کی صحبت سے بچیں اور اسے عبرت ہو اور توبہ کرے اور پھر واپس آجائے۔یہ مطلب نہیں کہ اسے اس حرکت سے منع نہیں فرمایا گیا یہ نکالنا عملی ممانعت ہے۔ (مرآۃ المناجیح، ۶ / ۱۸۷)

[3]    ابوداود ، کتاب الادب ، باب فی الْحُكْمِ فی الْمُخَنَّثِينَ ، ۴ / ۳۶۸، حدیث: ۴۹۲۸ 

[4]    فتاویٰ ھندیة، كتاب الکراھیة، الباب العشرون فی الزینة...الخ، ۵ / ۳۵۹ دارالفکر بیروت

[5]    بہارِشرِیعت، ۳ / ۵۹۶، حِصّہ : ۱۶ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی



Total Pages: 21

Go To