Book Name:Qutub-e-Alam Ki Ajeeb Karamat Ma Deger Dilchasp Sawal Jawab

دیکھیں گے تو اُن پر حسرت طاری ہو گی،  اگرچہ جنَّت میں داخل ہو جائیں ۔  ([1]

پڑھتا رہوں کثرت سے دُرُود اُن پہ سَدا مَیں

                         اور ذِکْر کا بھی شوق پئے غوث و رضا دے (وسائلِ بخشش

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مسجد کے دائیں کونے میں دو مُعَلَّق تخت

سُوال:مدینۃُ الْاولیا احمدآباد  (ہند)   میں ۳۰، ۲۹، ۲۸ رَجبُ المرجَّب ۱۴۱۸ھ مطابِق    30، 29، 28 نومبر 1997 ؁ء کو دعوتِ اسلامی کا عظیمُ الشان تین روزہ سنّتوں بھرا اِجتماع ہوا۔ اِس اِجتماع  میں شرکت کے لیے ہمارا مدنی قافلہ شیخ ِ طریقت،  اَمیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہمراہ ۲۶ رَجبُ المرجَّب بروز بدھ بابُ المدینہ  (کراچی)   سے بمبئی پہنچا۔ ائیرپورٹ سے سیدھے ماہِم شریف میں حضرتِ سیِّد مخدومِ ماہِم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے مَزار پر حاضِری دی پھر ساحِلِ سَمُندر پہنچ کر حضرتِ قبلہ حاجی علی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے مَزار شریف پر حاضری دی۔ ۲۷ رَجبُ المرجَّب کی صبح احمدآباد شریف کے ہوائی اَڈّہ پر شیخِ طریقت، اَ میرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا شاندار اِستقبال ہوا۔ ائیر پورٹ سے براہِ راست یہاں کے مشہور بُزرگ حضرت قبلہ سیِّد شاہِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی دَرگاہ پر حاضر ی ہوئی،  مَزارِپاک سے ملحقہ مسجدمیں قافلہ نے نمازِ اِشراق و چاشت ادا  کی،  مسجد کے دائیں کونے میں دو تخت مُعَلَّق تھے ان میں جو بڑا تخت تھا اُس کے نیچے شیخ ِ طریقت، اَمیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بیٹھ گئے۔ حاضِرین بھی وہیں جمع ہو گئے۔آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے جب دُعا کروانا چاہی تو شہزادۂ عطَّار حضرت مولانا اَلحاج ابو اُسید،  عبید رضا عطَّار ی المدنی مدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی  نے عرض کی کہ دُعا سے قبل اِن دونوں تختوں کے بارے میں کچھ  بتا دیجیے۔  

جواب: (شیخِ طریقت، اَمیرِ اہلسنَّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ان دونوں تختوں کے مسجد کے دائیں کونے         میں مُعَلَّق ہونے کے متعلق اِرشادفرمایا کہ)   حضرتِ سیِّدُنا شاہِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ بَہُت بڑے عالمِ دِین اور پائے کے ولِیُّ اللہ تھے۔ آپ نہایت ہی لگن کے ساتھ علمِ دِین کی تعلیم دیتے تھے۔ ایک بار بیمار ہو کر صاحبِ فِراش ہوگئے اور پڑھانے کی چھٹیاں ہوگئیں۔ جس کا آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بے حد افسوس تھا۔ تقریباً چالیس دن کے بعد صحّت یاب ہوئے اور مدرَسے میں تشریف لا کر حسبِ معمول اپنے تخت پر تشریف فرما ہوئے۔ چالیس دن پہلے جہاں سبق چھوڑا تھا وَہیں سے پڑھانا شروع کیا۔ طلبا نے متعجب ہو کر عرض کی:حُضُور!  آپ نے یہ مضمون تو بَہُت پہلے پڑھا دیا ہے۔ گزشتہ کل تو آپ نے فُلاں سبق پڑھایا تھا ! یہ سُن کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ فورًا



[1]    مسندِ امام احمد، مسند ابی ھریرة ، ۳  / ۴۸۹، حدیث: ۹۹۷۲  دارالفکر بیروت



Total Pages: 21

Go To