Book Name:Qutub-e-Alam Ki Ajeeb Karamat Ma Deger Dilchasp Sawal Jawab

تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کی میٹھی میٹھی سُنَّت ہے ۔

کھجور سے روزہ اِفطار کرنے میں ایک حکمت یہ ہے کہ کھجور میٹھی ہوتی ہے اور  خالی پیٹ میٹھی چیز کھانا صِحّت کے لیے خصوصاً نظر کے  لیے مُفیدہے۔

کھجور سے روزہ اِفطار کرنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ روزے میں چونکہ دن بھر پیٹ خالی ہوتا ہے جس کی وجہ سے روزہ دار کو  کمزوری محسوس ہوتی ہے تو اِفطار کے وقت اُس کے لیے کھجور بَہُت مفید ہے کیونکہ یہ غذائیت سے بھرپُور ہے۔ اس کے کھانے سے جَلد توانائی بحال ہو جاتی ہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جیسے ہی سورج غروب ہونے کا یقین ہو جائے تو فوراً کوئی چیز کھا یا پی لیجئے مگر کھجور یا چُھوارا یا پانی سے اِفطار کرنا سُنَّت ہے۔ اِفطار کے بعد دُعا بھی ضرور  مانگیے کہ یہ سنَّت ہے اور اس  کی بڑی فضیلت آئی ہے جیسا کہ نبیٔ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے فرمایا:اے علی !  جب تو ماہِ رمضان میں روزہ دار ہو تو اِفطار کے بعد یوں دُعا کر:”اَللّٰهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَعَلٰى رِزْقِكَ اَفْطَرْتُ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !  میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تجھ پر بھروسا کیا اور تیرے دیئے ہوئے رزق سے اِفطار کیا۔“ يُكْتَبُ لَكَ مِثْلُ مَنْ كَانَ صَائِمًا مِنْ غَيْرِ اَنْ يَنْقُصَ مِنْ اُجُوْرِهِمْ شَيْءٌ تو تیرے لیے تمام روزہ داروں  کی مثل اَجر لکھا جائے گا اور ان کے اَجر میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی۔ ([1])   

”حلیم“ کو”کھچڑا“ کہنے کی وجہ

سُوال :ایک مشہور کھانا جسے ”حلیم“ کہا جاتا ہے،  مگر بعض لوگ اسے” کھچڑا“ کہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اسے ”کھچڑا“ کہنے کی ترغیب دِلاتے ہیں،  اِ س میں کیا  حِکمت ہے؟

جواب:” کھچڑے“کو”حلیم“کہنا بھی جائز ہے مگر چونکہ”حَلِیْماللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا ایک صِفاتی نام ہےاس لیے کھانے کی چیز کے لیے یہ لفظ اِستِعمال نہیں  کرنا چاہیے۔ اِس غذا کو اُردو میں ’’ کھچڑا ‘‘ بھی کہتے ہیں لہٰذا اس کے لیے یہی لفظ اِستِعمال کیا جائے۔ بعض اوقات کسی دُنیوی شے پر مُتَبَرِّک اَلفاظ نہ بولنا بھی اَدب ہوتا ہے، اِس ضمن میں ایک حکایت ملاحظہ کیجیے چنانچہ تذکرۃُ الاولیا میں ہے: حضرتِ سیِّدُنا بایزید بسطامی قُدِّسَ  سِرُّہُ السَّامِی نے ایک بار سُرخ رنگ کا سیب ہاتھ میں لے کر فرمایا:یہ تو بَہُت ہی ”لطيف“ہے۔ غیب سے آواز آئی:ہمارا نام سیب کے لیے اِستِعمال کرتے ہوئے حیا نہیں آئی! اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّنے چالیس دِن کے لیے اپنی یاد ان کے دِل  سے نکال دی۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ نے بھی قسم کھائی کہ اب کبھی



[1]    مسند الحارث، کتاب الوصایا، باب وصية سيدنا رسول الله صلَّى الله عليه وسلم، ۱ / ۵۲۶، حدیث: ۴۶۹  مركز خدمة السنة والسيرة النبوية - المدينة المنورة



Total Pages: 21

Go To