Book Name:Qutub-e-Alam Ki Ajeeb Karamat Ma Deger Dilchasp Sawal Jawab

اس پر اللّٰہتعالیٰ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اور اللّٰہتعالیٰ قیامت کے دن اس کے فَرائض اور نوافل قبول نہ فرمائے گا۔ ([1])   

فیضانِ سُنَّت کے دَرْس کی اَہمیت وفضیلت

سُوال : ’’ فیضانِ سُنَّت ‘‘ کے دَرْس کی اَہمیت و فضیلت  بیان فرما دیجیے ۔

جواب :تبلیغِ قرآن و سنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی چاہتی ہے کہ ہر مسلمان  کا یہ مدنی مقصد بن جائے کہ”مجھے اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے۔“اس عظیم مدنی مقصد میں کامیابی کے حصول کے لیے”فیضانِ سنَّت“کے دَرْس کو بنیادی اَہمیت حاصل ہے کہ اس سے جہاں اپنی اِصلاح ہوتی ہے وہیں دوسروں کی اِصلاح کا بھی خوب سامان ہوتا ہے۔ اگر کسی کے دَرْس دینے سے کوئی راہِ راست پر آکر ہدایت پا گیا تو دَرْس دینے والے کے بھی وارے نیارے ہو جائیں گے چنانچہ سرکارِ دو عالم، نُورِ مجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مُعَظَّم ہے:اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارے ذَرِیعے کسی ایک کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سُرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ ([2]

”فیضانِ سنَّت“  کادَرْس دینے یا سننے سے خیر و بھلائی کی باتیں سیکھنے اور سکھانے کا موقع ملتا ہے اور خیر و بھلائی کی باتیں سیکھنے سکھانے والوں کی بھی کیا خوب  شان ہے چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا علّامہ جلالُ الدّین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی ”شَرحُ الصُّدور“میں نقل فرماتے ہیں:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْم ُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ ”اے موسیٰ!  بھلائی کی باتیں خود بھی سیکھو اور لوگوں  کو بھی سکھاؤ ، میں بھلائی سیکھنے اور سکھانے والوں کی قبروں کو روشن فرماؤں گا تاکہ انہیں  کسی قسم کی وَحشت نہ ہو۔“ ([3])   

 ’’ فیضانِ سُنَّت ‘‘  کا دَرْس دینے سے  لوگوں کے عَقائد و اَعمال کی اِصلاح ہوتی اور ان تک اسلامی باتیں پہنچتی ہیں تو یہ ایک ایسا عمل ہے جس پر جنَّت کی بشارت عطا فرمائی گئی ہے چنانچہ مالکِ کوثر و جنَّت، محبوبِ ربّ العزت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: جوشخص میری اُمّت تک کوئی اسلامی بات پہنچائے تاکہ اُس سے سُنَّت قائم کی جائے یا اُس سے بدمذہبی دُور کی جائے تو اس کے لیے جنَّت ہے۔ ([4]  

 ’’ فیضانِ سُنَّت ‘‘  کا دَرْس دینے سے نیکی کی دعوت عام ہوتی اور بُرائیوں کا خاتمہ ہوتا ہے اور نیکی کی دعوت عام کرنے اور بُرائیوں سے روکنے والوں کے لیے اَجر و ثواب کے بھی کیا کہنے! چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ



[1]    مسلم، کتاب العتق، بابُ تَحْرِيمِ تَوَلي الْعَتِيقِ...الخ ، ص۶۲۳، حدیث: ۳۷۹۴ 

[2]    مُسلِم، کتاب   فضائل  الصحابة ، باب  من   فضائل  علی   بن  أبی  طالب ، ص۱۰۰۷، حدیث: ۶۲۲۳ 

[3]    شرح الصدور، باب احادیث الرسول فی عدة  امور ، ص ۱۵۸ مرکز اھلسنَّت گجرات ھند

[4]    حلیة الاولیا، ابراھیم الھروی، ۱۰ / ۴۵حدیث: ۱۴۴۶۶



Total Pages: 21

Go To